ایران میں رجیم چینج کا "ادھورا خواب"

اسرائیل اور امریکہ کو بالآخر سمجھ آگئی ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد "رجیم چینج" کی گنجائش نمودار نہیں ہوئی۔ غم وغصے میں بلکہ ایران کے عوام ان دونوں ممالک سے اپنے سیاسی اور نظریاتی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے شدید نفرت محسوس کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ علی خمینائی کی شہادت نے عسکری حلقوں کو بھی برسوں سے تیار ہوئے تمام تر جنگی منصوبوں پر عمل پیرائی کو اُکسایا۔ "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے" والے رویے کیساتھ اسرائیل کے علاوہ اپنے ہمسایے میں موجود خلیجی ممالک پر بے دریغ میزائل اور ڈرونز برسانا شروع کردئیے۔
متحدہ عرب امارات کی "کاروبار دوست" شہرت اس کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی۔ قطر کو دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ایل پی جی کی فراہمی کے حوالے سے کئے معاہدے منسوخ کرنا پڑے۔ اس کے نتیجے میں نیٹو میں شامل یورپی ممالک میں گیس کی قیمتوں میں معمولات زندگی مفلوج کرنے والا اضافہ ہوسکتا ہے۔ دنیا کو گیس کی نایابی یقینی بنانے کے بعد ایرانی فوج نے اپنے وسائل آبناے ہرمز کی بندش پر مرکوز کردئے ہیں۔ انشورنس کمپنیاں وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کی ذمہ داری لینے سے ہاتھ اٹھاچکی ہیں۔ پاکستان بھی قطر کے ایل پی جی کے حوالے سے لئے فیصلے اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بے شمار معاشی مسائل کے بھنور میں پھنس سکتا ہے۔ ہماری مشکلات مگر دنیا کے لئے اہم نہیں۔
اصل مسئلہ یورپ اور مشرقی ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک کا معاشی بحران ہے۔ جرمنی کے علاوہ جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا کے بازار شدید مندی کا سامنا کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ مشرقی ایشیاء کے ان ممالک کو امریکہ چین کو نیچادکھانے کی قوت کا حامل بنانے کو مرے چلے جارہا تھا۔ یورپ اور مشرقی ایشیاء پر ایران جنگ کی وجہ سے نازل ہوا بحران امریکہ کو بھی افراطِ زر کی لپیٹ میں لینے والا ہے۔ ایران میں امریکی فوجی اتارے بغیر "رجیم چینج" ناممکن ہے اور امریکہ کا ہر دوسرا شہری افغانستان اور عراق سے ہولناک تجربات کے بعد اپنے ملک کو لامتناہی جنگوں میں الجھانے کو آمادہ نہیں ہے۔
علی خمینائی کی شہادت کے بعد جو صورتحال نمایاں ہورہی ہے اس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل ایران میں آئندہ چند روز مسلسل فضائی بمباری کے ذریعے یہ تاثر پھیلانے کے بعد جنگ بند کرنا چاہ ر ہے ہیں کہ اپنا ایک فوجی بھی برسرزمین اتارے بغیر انہوں نے اپنے جنگی اہداف حاصل کرلئے ہیں۔ ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کے علاوہ میزائلوں اور ڈرونز تیار کرنے کے کارخانے اور ذخیرے بھی تقریباََ تباہ ہوگئے ہیں۔ ایران اب "خطرہ" نہیں رہا۔ اس کے "کھانے والے دانت" نکالنے کے بعد بطور "فاتح" فضائی بمباری روکنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جارہا ہے۔ بدھ کے روز نیتن یاہونے ایک اسرائیلی نشریاتی ادارے کو تفصیل سے بتایا کہ ایران میں "رجیم چینج" اس کا ہدف ہی نہ تھا۔ اس ملک پر جنگ مسلط کرنے کا اصل مقصد اسرائیل کو فناکرنے کے ارادوں اور ہتھیاروں کو مفلوج وناکارہ بنانا تھا اور یہ مقصد تقریباََ حاصل کرلیا گیا ہے۔
اپنی "فتح" کا اعلان کرنے سے قبل مگر اسرائیل ایران کو مزید چند روز تک وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنائے رکھے گا۔ ایسی ہی حکمت عملی اس نے غزہ میں بھی اختیار کی تھی۔ امریکہ اس کے مقابلے میں کامل توجہ آبنائے ہرمز کو رواں رکھنے پر مرکوز کرسکتا ہے۔ اس ہدف کے حصول کی خاطر ہی بدھ کے روز مذکورہ آبنائے سے 4000کلومیٹر دور سری لنکا کے قریب بحرہند کے کھلے سمندر میں بھارت سے لوٹتے ایک ایرانی جہاز کو تباہ کردیا گیا ہے۔
جو جہاز تباہ ہوا اسے بھارت نے بہت چا? سے ایک بین الاقوامی مشق کے لئے مدعو کیا تھا۔ "سمندروں میں متحد" اس مشق کا عنوان تھا۔ اس میں حصہ لینے دنیا کے 50سے زیادہ ممالک کے بحری جہاز شریک ہوئے۔ آسٹریلیا اور جاپان بھی ان میں شامل تھے۔ امریکہ کے ایک بحری جہاز نے بھی اس میں شرکت کرنا تھی۔ اس مشق سے عین ایک ہفتہ قبل مگر معذرت کا پیغام آگیا۔ مذکورہ پیغام واضح انداز میں یہ عندیہ دیتا ہے کہ فروری 2026ء کا آغاز ہوتے ہی امریکہ اسرائیل پر حملہ آور ہونے کا ارادہ باندھ چکا تھا۔ ایران کو فریب میں مبتلا رکھنے کے لئے مگر اس کے ایٹمی پروگرام پر صدر ٹرمپ نے اپنے دیرینہ کاروباری رفیق اور داماد کے ذریعے مذاکرات کا ڈھونگ کئی دنوں تک رچائے رکھا۔ اخلاقی اعتبار سے بھارت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے ہاں مدعو ہوئے جہاز کی کھلے سمندر میں بلااشتعال تباہی کی مذمت کرتا۔ مذمت کی ہمت نہیں تھی تو کم از کم ڈوبتے جہاز کے عملے کو بچانے میں سری لنکا کی مدد کرتا۔ مذمت اور امداد سے مگر بھارت نے سفاکانہ حد تک اجتناب برتا۔
اصل موضوع کی جانب لوٹتے ہوئے یہ خیال دہرانا چاہتا ہوں کہ "رجیم چینج" کے حصول میں ناکامی کے بعد امریکہ اور ایران اب بطور "فاتح" یک طرفہ طورپر جنگ بند کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ایران کو مگر اس کے ممکنہ اعلان کے بعدبھی اس کے حال پر چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے۔ گزشتہ برس کے جون سے اس کالم میں اسرائیل کے ایک تھنک ٹینک-مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(میمری) کا متعدد بار ذکر ہوا ہے۔ اس سے منسلک "محقق" یہ طے کرچکے ہیں کہ ایران اگر اپنے موجودہ جغرافیائی حقائق سمیت قائم ودائم رہا تو مستقبل میں مذہبی قیادت کی جگہ ممکنہ طورپر نمودار ہونے والی "سیکولر" سیاسی قیادت بھی ایک دن "پرشین ایمپائر" کی عظمت رفتہ بحال کرنے کو متحرک ہوسکتی ہے۔
ایران کو لہٰذا قوم پرستی کے نام پر مختلف حصوں میں تقسیم کرنا ہوگا۔ کرد اور آذری اکثریت والے صوبے اور شہر اس حوالے سے ماضی میں بھی اکثر غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے۔ جون 2025ء میں لیکن میمری نے ایرانی بلوچستان پر "تحقیق" کے لئے بھی ایک نیا شعبہ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ہمارے بلوچستان سے جلاوطن ہوئے حربیار مری نے مذکورہ شعبے کے قیام کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ اس کے لئے ایک تفصیلی مضمون لکھ کر پاکستان میں شامل بلوچستان کی ایرانی بلوچستان میں علیحدگی پسند رحجانات بھڑکانے کے حوالے سے اہمیت اجاگر کی۔
امریکی صدر ٹرمپ مگر فی الوقت کردوں سے امید لگائے بیٹھا ہے۔ سی این این کے علاوہ تین قابل اعتبار نشریاتی اداروں نے خبر دی ہے کہ امریکی صدر نے عراق کے کردستان میں مقیم دو اہم رہ نمائوں سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہیں اس امر کو اُکسایا کہ مغربی ایران میں گھسنے کیلئے "کردلشکر"تیار کئے جائیں۔ ان علاقوں میں درآنے کے بعد یہ لشکر ایرانی ریاست کو مفلوج دکھانے کے لئے سڑکوں اور بازاروں میں "عوامی احتجاج" کی بھرپور لہر ابھرنے کے پیغام اجاگر کریں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سے عراق، شام اور ایران میں بکھرے کرد اپنی جداگانہ قومی شناخت پر اصرار کرتے ہوئے کردستان نامی ملک کے قیام کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ انہیں مگر سرد جنگ کے دوران امریکہ اور روس نے فقط اپنی ناپسند حکومتوں کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لئے استعمال کیا۔ صدام حسین کو کمزور بنانے کے لئے کرد 1990ء کی دہائی سے استعمال ہوتے رہے۔ اس کے زوال کے باوجود "کردستان" مگر قائم نہ ہوا۔
شام میں اسد حکومت سے جند چھڑانے اور داعش کی مذہبی انتہا پسند ی کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی کردوں کو امریکہ نے بہت مکاری سے استعمال کیا۔ اسد حکومت کے خاتمے کے لئے مگر بالآخر ترکی کی مدد سے نئی گیم لگائی گئی اور کردوں کو بھلادیا گیا۔ کرد اب ایران کو جنگ ختم ہوجانے کے باوجود داخلی خلفشار بھڑکانے اور برقرار رکھنے کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ جنگ کا خاتمہ گویا ایران کو استحکام فراہم کرنے کی ضمانت نہیں۔

