Gummak
گمک

اولیاء اکرام کے شہر ملتان کی بات ہے۔ ایسی ہی گرمیوں کے تپتے دن تھے۔ کمرہ جماعت میں سارے ہی ہمہ تن گوش تھے۔ ماسٹر صاحب حسبِ سابق اپنے مخصوص اندازِ خطابت میں درس دے رہے تھے۔ اچانک سے انہوں نے اک سوال پوچھا۔ سوال سے قبل مختصراً عرض کرتا چلوں کہ یہ وہی ماسٹر ہیں جن کا ذکر پہلے بھی اک مضمون میں کیا جا چکا ہے، جنہوں نے تختہ سیاہ پہ دو متوازی لکیریں کھینچ کے سمجھایا تھا کہ معمول کی درکار محنت اور سخت محنت میں کیا فرق ہے اور کامیابی کے لئے سخت محنت کیسے کی جاتی ہے؟ واپس سوال پہ آتے ہیں کہ ماسٹر صاحب نے سوال پوچھا اور طلباء کی طرف دیکھنے لگے کہ جواب کہاں سے آتا ہے۔
کچھ سانئے گزرے، لڑکے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ کون جواب دیتا ہے لیکن جواب ندارد۔ حتیٰ کہ جماعت کے بہترین لڑکے بھی خاموش تھے۔ اسی اثناء میں آخری بنچوں پہ بیٹھے کسی لڑکے نے جواب دے دیا۔ تو کمرہ جماعت میں عود آئی لمحاتی حیرانی بھی ماسٹر صاحب کی عقابی نظروں سے بچ نہ سکی۔ سبق تو پھر اک طرف رہ گیا، انہوں نے اس وقتی حیرانی کی وجہ کی تشریح اور درستی لازمی سمجھی کہ یہ نوخیز ذہن اس معاملے کو بھی جان لیں اور آئندہ ایسی صورتحال کو برداشت کر سکیں۔ کتابی و نصابی علم کے علاوہ زندگی اور روزمرہ کے رموز کے بارے آگہی اور وضاحت بھی ایسے ہی استادوں کا خاصہ تھی۔
ماسٹر صاحب دھیمے قدموں اپنی میز کے قریب آئے اور کہنے لگے، جب میں نے سوال پوچھا تو سوال صوتی لہروں کی شکل میں آپ تک پہنچ گیا اور چونکہ اس کا جواب میں تو جانتا ہی تھا تو وہی جواب اک خودکار طریقے کے تحت فضا میں الیکٹرومیگنیٹک لہروں کی شکل میں بھی چھوڑ دیا گیا۔ آپ کے اذہان بھی ایک مخصوص تعدد (فریکوئنسی) پہ کام کرتے ہیں تو جس لڑکے کے ذہن کا تعدد فضا میں موجود جواب کی برقی لہروں سے مطابقت کھا گیا تو گویا اسی نے جواب اُچک لیا اور جواب دے دیا۔ کبھی کبھار کمرہ جماعت میں ہوتے ہوئے بھی ہم دماغی طور پہ کہیں اور ہوتے ہیں یا ہم کسی اور چیز کے بارے ذہن کو مصروف رکھتے ہیں نتیجتاً ذہن چونکہ کسی اور تعدد پہ کام کر رہا ہوتا ہے تو وہ جواب کی لہروں سے مطابقت نہیں بنا پاتا اور یوں جواب بھی نہیں مل پاتا۔
کہنے کو تو ماسٹر صاحب نے اک بات سمجھا دی تھی لیکن جماعت میں پہلے جواب نہ دے پانے کی یہ گرہ کچھ اور بھی عقدے کھول گئی تھی۔ یہ ان کہے عقدے اگلے برسوں کے علم سے کھلے۔ جیسے ہر آواز کی اپنی الگ سے منفرد فریکوئنسی ہوتی ہے اسی طرح سے ہر مادی چیز کی بھی ارتعاش (وائبریشن) برداشت کرنے کی اپنی ایک مخصوص حد ہوتی ہے جو گمک (ریزونینس فریکوئنسی) کہلاتی ہے۔ بھلے وقتوں میں ہمارے نامور کلاسیکل گائیک اپنے راگ سے شیشے کا گلاس توڑ دیتے تھے تو گائیک کا شمار مہان گلوکاروں میں ہوتا تھا کہ استاد فلانے خان صاحب کے راگ کی ایسی طاقت ہے کہ وہ گلاس توڑ دیتے ہیں لیکن اس توڑ پھوڑ کے پیچھے دراصل یہی سائنسی عمل کارفرما ہوتا تھا۔ استاد کالے خان ایسا سُر لگاتے کہ اس آواز کا تعدد وہاں موجود شیشے کے گلاس کی گمک سے مطابقت کھا جاتا اور نتیجتاً گلاس ارتعاش کی اس شدت کو برداشت نہ کر سکتا اور ٹوٹ جاتا۔
ضمناً بات آ گئی کہ روزِ قیامت جو "صور" پھونکا جائے گا وہ بھی تو آواز ہی ہے اور لاریب کتاب میں اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ: وَتَكُونُ ٱلُجِبَالُ كَٱلُعِھنِ ٱلُمَنفُوشِ۔ یعنی اس دن جو صور پھونکا جائے گا، جو آواز چھوڑی جائے گی اس آواز کے تعدد میں پہاڑوں تک کی گمک (ریزونینس فریکوئنسی) ہوگی جس کی وجہ سے یہ پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی مانند ٹوٹ کے بکھر جائیں گے۔
شیشے کے گلاس کی طرح انسان بھی محض گوشت پوست کا پُتلا نہیں بلکہ خیالات، ارادوں اور میلانات کا ایک مجموعہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ گلاس کی گمک فطرت نے متعین کر دی ہے جبکہ انسان اپنے ذہن اور دل کی گمک خود منتخب کر سکتا ہے۔ اگر ہمارے اذہان دنیا کی وقتی چمک دمک، خواہشات اور نفس کی آوازوں پر ہم آہنگ رہیں گے تو انہی کی سمت کھنچے چلے جائیں گے، لیکن اگر ہم اپنے باطن کو اللہ تعالیٰ کے احکامات، اس کے دین اور اس کی رضا کے ساتھ ہم آہنگ کر لیں تو ہمارے فیصلے، ترجیحات اور زندگی کا رخ بھی اسی سمت مڑ جائے گا۔ ایمان دراصل اسی اندرونی مطابقت کا نام ہے کہ بندہ اپنی مرضی کو رب کی مرضی کے قریب لے آئے۔
کامیابی کا راز بھی اسی میں ہے۔ اللہ کا فضل و کرم کسی اتفاقی واقعے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے دل و دماغ کو ایک خاص کیفیت پر آمادہ کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان کی سوچ، اس کی نیت، اس کی کوشش اور اس کی آرزوئیں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے ہم آہنگ ہو جائیں تو پھر اس کے اور رحمتِ الٰہی کے درمیان فاصلے کم ہونے لگتے ہیں۔ جیسے دو ہم آہنگ ارتعاشات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، ویسے ہی بندے کی اطاعت اور رب کی رحمت کا تعلق زندگی میں خیر، سکون اور کامیابی کے نئے در وا کرتا ہے۔ اصل کام یہی ہے کہ ہم اپنے باطن کی فریکوئنسی کو اس نہج پر لے آئیں جہاں اس کی مطابقت اللہ تعالیٰ کی مرضی سے جڑ جائے، کیونکہ اسی مطابقت میں ہماری فلاح ہے اور اسی میں ہماری نجات۔

