طلاقوں کا طوفان کیوں؟
کچھ رپوٹس اور حقائق بحثیت مجموعی سماج کے لیے بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک رپورٹ یہ ہے کہ پچھلے چند سال میں اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں خلع، طلاق اور نان نفقہ سے متعلق مقدمات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2023ءمیں ایسے مقدمات کی تعداد تقریباً 85 ہزار تھی، 2024ء میں یہ بڑھ کر 91 ہزار تک جا پہنچی جبکہ 2025ءمیں یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔
دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں، 2025ءمیں طلاق کے چار لاکھ ننانوے ہزار مقدمات درج ہوئے۔ یہ ایک دن میں 1367 کیسز بنتے ہیں۔ اس اعتبار سے عدالتوں میں ہر گھنٹے میں اوسطاً درجنوں خاندانی مقدمات درج ہو رہے ہیں اور کئی ایسے کیسز بھی سامنے آئے جہاں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ بعد ہی علیحدگی کی نوبت آ گئی۔ یہ صرف اسلام آباد کی صورت حال ہے۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور دوسرے بڑے شہروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔
اعدادوشمار کی یہ تصویر بتاتی ہے کہ پاکستان میں خاندانی نظام دباؤ اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک ازدواجی تنازعات میں ایک خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ بتاتا ہے کہ ہمارا خاندانی نظام شدید بحران کی زد میں ہے۔ اسی بحران کی کو کھ سے ناجائز تعلقات بھی جنم لے رہے ہیں جو اسے سنگین تر بنا رہے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس کے حقیقی اسباب کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
اگر پاکستانی معاشرے میں طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحان کا غیر جذباتی اور سنجیدہ جائزہ لیا جائے تو چند اسباب خاص طور پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ سب سے پہلا اور بنیادی سبب خاندانی زندگی کے بارے میں شعور کی کمی ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کے پھیلاؤ کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ شادی اور خاندان کے ادارے کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے۔ اکثر نوجوان شادی کو صرف ایک سماجی رسم، جذباتی وابستگی یا ذاتی پسند کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ یہ دراصل ایک مستقل سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس رشتے کے ساتھ حقوق، فرائض، برداشت، قربانی اور باہمی نظم جیسی کئی حقیقتیں وابستہ ہوتی ہیں جن سے واقفیت نہ ہونے کے باعث بعد میں مشکلات جنم لیتی ہیں۔
اس شعور کی کمی صرف عام لوگوں تک محدود نہیں بلکہ پڑھے لکھے طبقات میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ڈگری اور پیشہ ورانہ کامیابی ہمیشہ ازدواجی فہم کی ضمانت نہیں بنتی۔ بہت سے تعلیم یافتہ خاندان بھی بنیادی خاندانی اصولوں، تعلقات کی نفسیات اور باہمی ذمہ داریوں کے شعور سے محروم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات اعلیٰ تعلیم یافتہ جوڑوں میں بھی اختلافات جلد شدت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس مسئلے کا دوسرا اہم پہلو مذہبی اور سماجی تصورات کی غیر متوازن تعبیر ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہب کے نام پر بعض اوقات ایسے تصورات کو بھی حتمی سچائی سمجھ لیا جاتا ہے جواصل میں تاریخی یا ثقافتی رویوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ خاندان کے بارے میں مذہبی تعلیمات کا بنیادی مقصد عدل، سکون، احترام اور ذمہ داری کا توازن پیدا کرنا ہے، مگر عملی سطح پر کئی مرتبہ یہ توازن برقرار نہیں رہتا۔ نتیجتاً مذہب کی روح کے بجائے سماجی روایت غالب آ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی موجود ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہمارا پدر سرانہ سماجی ڈھانچہ ہے۔
جنوبی ایشیائی معاشروں کی طرح پاکستان میں بھی روایتی طور پر فیصلہ سازی اور اختیار زیادہ تر مرد کے ہاتھ میں رہا ہے۔ عورت کو اکثر خاندان کا لازمی حصہ تو سمجھا جاتا ہے مگر ایک مکمل اور خودمختار شخصیت کے طور پر اس کی رائے اور احساسات کو ہمیشہ وہ جگہ نہیں ملتی جس کی وہ حق دار ہے۔ بچپن سے لے کر شادی تک اس کی شناخت اکثر کسی نہ کسی نسبت کے ذریعے متعین کی جاتی ہے۔ جب ایک عورت ایسے ماحول میں ازدواجی زندگی میں داخل ہوتی ہے جہاں اس کی رائے، جذبات یا ذاتی ترجیحات کو ثانوی حیثیت دی جائے تو تعلق میں عدم توازن پیدا ہونے لگتا ہے۔ یہ رشتہ صرف قانونی یا سماجی معاہدہ نہیں بلکہ دو شخصیات کے درمیان اعتماد اور احترام کا نام بھی ہے۔ اگر اس میں ایک فریق خود کو مسلسل کمزور یا غیر موثر محسوس کرے تو تعلق پر دباؤ بڑھنا فطری امر ہے۔
خاندانی بحران کے اس منظرنامے میں معاشی مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور مالی دباؤ ازدواجی تعلقات کے ٹوٹنے کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں متوسط اور نچلے طبقے کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہوں، وہاں گھریلو تنازعات میں اضافہ فطری دکھائی دیتا ہے۔ مالی پریشانی صرف جیب کو متاثر نہیں کرتی بلکہ مزاج، رویوں اور باہمی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی طرح گھریلو تنازعات، خصوصاً ساس بہو یا مشترکہ خاندانی نظام سے جڑے اختلافات بھی ہمارے سماج میں ازدواجی بحران کا مستقل حصہ ہیں۔
کئی گھروں میں میاں بیوی کا رشتہ دراصل دو افراد کے بجائے متعدد طاقتوں اور توقعات کے درمیان کشمکش بن جاتا ہے۔ خاندان اگر باہمی تعاون اور سہارا دینے کا ذریعہ بننے کے بجائے مسلسل دباؤ اور مداخلت کی صورت اختیار کر لے تو ازدواجی زندگی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل کلچر اور بدلتے ہوئے سماجی رویوں نے رشتوں کے بارے میں توقعات کو تبدیل کر دیا ہے۔ لوگ اپنی ازدواجی زندگی کا موازنہ دوسروں کے دکھائی دینے والے خوشحال اور پُرکشش مناظر سے کرنے لگتے ہیں۔ اس موازنے کے نتیجے میں غیر حقیقی توقعات جنم لیتی ہیں اور معمولی اختلافات بھی ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگتے ہیں۔ حالانکہ ہر رشتہ اپنی فطرت میں محنت، برداشت اور مسلسل سیکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔
ان تمام عوامل کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی خاندانی نظام ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں صرف جذباتی تقاریر یا وقتی نصیحتیں کافی نہیں رہیں۔ مسئلہ اب سماجی پالیسی، تعلیمی شعور اور سنجیدہ فکری توجہ کا تقاضا کررہا ہے۔ ہمارے ہاں نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تعلیم تو دی جاتی ہے مگر ازدواجی زندگی کی تیاری نظر اندازکردی جا تی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شادی کے خواہش مند لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ایک بنیادی عائلی تربیتی نظام متعارف کرایا جائے۔ اس میں خاندان کے مقاصد، میاں بیوی کے حقوق و فرائض، اختلافات کے حل، معاشی منصوبہ بندی، بچوں کی تربیت، جذباتی اور نفسیاتی پہلو اور مذہبی و سماجی ذمہ داریوں جیسے موضوعات شامل ہوں۔
دنیا کے کئی معاشروں میں ازدواجی کونسلنگ اور پری میریٹل ایجوکیشن کو اہم سمجھا جاتا ہے، پاکستان میں بھی اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ اگر ہم واقعی اپنے خاندانی نظام کو محفوظ اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں مسئلے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ طلاق اور خلع میں اضافہ محض عدالتی اعدادوشمار نہیں بلکہ ایک سماجی انتباہ ہے۔ اس انتباہ کو سنجیدگی سے سمجھنے اور بروقت اصلاحی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ آنے والے برسوں میں یہ بحران مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔

