Hamari Mukhtasar Tareekh Aur Dopamine Ka Khel
ہماری مختصر تاریخ اور ڈوپامین کا کھیل

ہم نوے کی دہائی کے بچے عجیب رہے ہیں ٹیکنالوجی اور ہم ساتھ ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان تھرڈ ورلڈ کنٹری کا نمائندہ ہے دنیا بھر میں جو ٹیکنالوجی اک اک دہائی پرانی ہو چکی ہوتی ہے پاکستان میں اس کی گھنڈ کھلائی ہو رہی ہوتی ہے۔ یعنی دنیا ٹیرابائیٹ سے آگے نکل چکی ہے اور ہم اور ہمارا نصاب فلاپی ڈسک پہ اٹکا ہے۔
ہم اس بدقسمت ملک کے باشندے ہیں کہ ہمارے بعد ہمارے ہی بطن سے نکلنے والا بنگلہ دیش صنعت میں ہم سے آگے نکل گیا اور ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا بھارت ٹیکنالوجی پہ راج کر رہا ہے۔ یعنی اک وقت تھا جب انٹرنیٹ آنے کے بعد مغربی ممالک میں سٹارٹ اپس پھل پھول رہے تھے اور برصغیر بس آنکھیں مل مل کر اسے دیکھ رہا تھا۔ ایشیا کی اس پسماندگی کو دیکھ کر اور دنیا کے سب سے بڑے براعظم اور دنیا کی آدھی آبادی رکھنے والی مارکیٹ کو اپنی پروڈکٹ کا صارف بنانے کی خاطر بل گیٹس نے یہاں اک آئی ٹی یونیورسٹی بنانے کا ارادہ کیا اور بغیر کسی لابنگ کے قرعہ فال پاکستان کے نام نکلا۔
حبیب اکرم کہتے ہیں نواز شریف کا دوسرا دور حکومت تھا جب بل گیٹس نے اپنی آئی ٹی یونیورسٹی کے قیام کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا۔
جب یہ خبر باہر آئی کہ بل گیٹس پینتیس ملین ڈالر کی لاگت سے کسی ایشیائی ملک میں مائیکروسافٹ یونیورسٹی ایڈوانس ٹیکنالوجی لیب بنانا چاہتے ہیں اور ان کا نظر انتخاب پاکستان ہے تو امریکہ میں موجود بھارتی لابی اس پروگرام کو بھارت لے جانے کے لیے سرگرم ہوگئی۔
میریٹ ہوٹل کے مالک صدرالدین ہاشوانی کا بیٹا اس وقت امریکہ میں تھا اسے اس یونیورسٹی کی اہمیت کا اندازہ تھا سو اس نے مائیکروسافٹ کے ایشیائی ٹیم لیڈر سے بات کی اور درخواست کی کہ یہ آئی ٹی یونیورسٹی پاکستان میں ہی بنائی جائے۔ ایشیائی ٹیم لیڈر نے اپنے تحفظات بتائے کہ پاکستان میں نقل سازی عام ہے اور پائیریسی کے متعلق کوئی قانون نہیں۔ یعنی یہاں ہر پاکستانی Key سمیت ونڈو کی سی ڈی 100 روپے میں لے آتا ہے کیونکہ اک ہی سی ڈی کی پائیریسی کرکے ملک بھر میں پھیلا دی جاتی ہے مائیکرو سافٹ انہی سافٹ وئیرز اور ونڈوز سے پیسے کماتا ہے جبکہ بھارت میں دنیا کی دوسری بڑی فلمی صنعت بالی ووڈ کے چلتے پائیریسی کے متعلق قوانین موجود ہیں۔ اگر پاکستانی حکام تحریری ضمانت دے دیں کہ وہ پائیریسی کے حوالے سے قانون سازی کریں گے تو وہ بل گیٹس کا مائنڈ بنا سکتا ہے کہ وہ آئی ٹی کا ادارہ پاکستان کو ہی دے۔
نوجوان ہاشوانی خوشی خوشی اک مہینے کا ٹائم لے کر پاکستان چلا آیا کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، مگر نوجوان جب پاکستان پہنچ کر حکومتی دروازوں پر پہنچا تو معلوم پڑا کہ اپنے وزیراعظم کے پاس ملاقات کا وقت نہیں ہے وزیروں کے پاس بھی فرصت نہیں تھی کہ اک غیر ملکی کو تحریری ضمانت دیتے پھریں بیوروکریسی کو تو ویسے ہی ملکی مفاد کے منصوبوں سے دلچسپی نہیں تھی انہیں تو بڑے صاحب کے باتھ روم کی تزین و آرائش اور لاہور والے گھر جیسا شاور ڈھونڈنے کی ٹینشن تھی۔
خیر ہفتہ دس دن کی دوڑ دھوپ کے بعد یہ نوجوان وفاقی وزیر ہمایوں اختر سے ملنے میں کامیاب ہوگیا تمام معاملہ سن کر ہمایوں اختر نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملو اس پروجیکٹ کی متعلقہ وزارت کا قلمدان احسن اقبال کے پاس ہیں مزید کچھ دن خوار ہونے کے بعد احسن اقبال سے ملاقات ممکن ہوئی نوجوان نے بصد ادب تمام معاملہ گوش گزار کیا جسے سن کر وزیر صاحب موصوف نے فرمایا اگر بل گیٹس مجھے خط لکھے تو پھر یہ گارنٹی دی جا سکتی ہے۔
اب بندہ پوچھے کہ دنیا کا امیر ترین بندہ اگر پاکستان جیسے غریب ملک کو مفت میں اک انتہائی اہم یونیورسٹی دینا چاہتا ہے درخواست کرنے کی پوزیشن میں آپ ہیں یا وہ؟
اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ خط لکھ کر قانون سازی کے متعلق درخواستیں کرے یہ اس کا کام ہے یا آپ کا مگر وزیر صاحب نے نخوت بھرے لہجے میں یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ ہمیں سکھانے کی بجائے وہ کرو جو کہا گیا ہے، بے عزتی کرانے کے باوجود نوجوان چین سے نہ بیٹھا کیونکہ وہ اس منصوبے کی اہمیت سے آگاہ تھا مزید کچھ دن خوار ہونے کے بعد اسے اک خط دیا گیا جس میں اک ڈرائیکٹر صاحب نے بل گیٹس کو حکم دیا ہوا تھا کہ جونہی یہ خط ملے تو فوراً حاضر ہو جائیں تاکہ آپ کی درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔
اب نوجوان کی ہمت جواب دے گئی یہ خط آج بھی اس نوجوان کے پاس موجود ہے ذرا سوچیں اگر یہ خط بل گیٹس کو دے دیا جاتا تو وہ ہمارے متعلق کیا سوچتا۔ نوجوان تو تھک ہار کر بیٹھ گیا مگر انڈین لابی متواتر کوششوں میں لگی رہی اور جب انہیں معلوم پڑا کہ اب لوہا گرم ہے تو اپنے بھارتی وزیر اعظم سے بل گیٹس کو فون کروا دیا جس نے نہ صرف ہر قسم کی ضمانت دینے کا وعدہ کیا بلکہ بل گیٹس کو بھارت آ کر خود اس کا افتتاح کرنے کی دعوت بھی دے ڈالی پھر دو ماہ بعد بل گیٹس نے بھارت جا کر نہ صرف یہ پروگرام لانچ کیا بلکہ سافٹ وئیر کی تعلیم کے لئے سو ملین ڈالر سالانہ دینے کا بھی اعلان کیا۔
بھارتیوں کے دن پھرے صرف دس سال کے قلیل عرصے میں ساڑھے دس لاکھ بھارتی امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے بلکہ اکیلے بھارتی شہر بنگلورو کی سالانہ آئی ٹی ایکسپورٹ اسی ہزار کروڑ کی ہوگئی۔ آج یہ بلیئن ڈالرز پہ پہنچ چکی ہیں۔ امریکیوں کے بعد سب سے گوگل استعمال کرنے والے ہندوستانی آج مائیکروسوفٹ اور دیگر بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں سی ای او سمیت دوسرے کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اور ان کمپنیوں کے لیے بھارتیوں کو جاب دینا مجبوری بن چکا ہے کیونکہ اگر وہ ایسے بھارتی دماغوں کو جابز نہ دیں تو یہ سارے دماغ مل کر اک سال میں بھارتی ماہرین ہم سے بھی بڑی آئی ٹی کمپنیز کھڑی کر دیں گے۔
ان جابز کے باوجود دوسرے درجے کے بھارتی ماہرین نے کامیاب سٹارٹ اپس کی لائین لگا دی ہوئی ہے اور یہ سلسلہ زور و شور سے جاری ہے اگر آپ نے ان سٹارٹ اپس اور بھارتی انٹرپینورشپ کا اندازہ لگانا ہے تو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوران آنے والے وقفوں میں بھارتی اشتہارات کو دیکھ لیں جہاں ان کے چینلز پہ نوے فیصد ایڈز ڈیجیٹل دنیا سے متعلقہ ہوتے ہیں۔ اک طرف ان کے مختلف ایپس اور سٹارٹ اپس کے اشتہارات ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہمارے چینلز پہ پورے پورے خاندان ناچ ناچ کر چائے کی پتی یا سوپر بسکٹ بیچ رہے ہوتے ہیں۔ اگر مزید تسلی کرنی ہو تو امریکہ کے سٹارٹ اپس کے لیے فنڈریزنگ کرانے والے اک ٹی وی پروگرام شارک ٹینک کے بھارتی ورژن شارک ٹینک انڈیا کا اک سیزن دیکھ لیں اک قسط دیکھ لیں زیادہ نہیں تو اک پورشن دیکھ لیں۔ یوٹیوب پہ شارک ٹینک انڈیا کے چار پانچ سیزن کی اقساط پڑی ہیں اور اتنے سٹارٹ اپس ہیں کہ یہ سیزن رکنے کا نام نہیں لے رہے۔
خیر بات ہو رہی تھی نوے کی دہائی والے ہم پاکستانیوں کی جن کے پاس نہ تو کمپیوٹر تھے نہ انٹرنیٹ نہ ہی ٹی وی چینلز لے دے کے اک پی ٹی وی تھا جس کو رات آٹھ بجے ہفتہ وار آنے والا ڈرامہ ہماری مرکزی تفریح تھا۔
تو مجھ جیسے انٹروورٹ لڑکے جو دیہات میں دن کاٹنے کے لیے کتابوں میں پناہ لینے پہ مائیل ہوا۔ عمران سیریز ناول سفرنامے ڈائجسٹ جو ہاتھ لگا پڑھ ڈالا۔ یوں اپنی جھلنگا سی چارپائی پہ لیٹے لیٹے کتابوں کے توسط سے دنیا جہان کی سیر کرتا رہتا۔ پھر دہائی گزر گئی اور نئی صدی میں پرویز مشرف نے پاکستان بھر میں موبائیل فون اور پرائیویٹ چینل لانے کا عندیہ دیا۔ نت نئے چینل نیوز چینلز کیبل ٹی وی نے ہمیں سکرین کا عادی بنا دیا۔ ہم فلموں کے رسیا ہوئے تو کتابوں سے دوری پیدا ہونے لگی لیکن پھر بھی گھر واحد ٹی وی آدھا دن تعلیمی اداروں میں گزارنے اور والدین کی ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے ہم چاہنے کے باوجود زیادہ وقت سکرین کو نہیں دے پاتے تھے۔ یوں اک دہائی اور گزر گئی اور ہم موبائیل فون نامی نشے سے واقف ہوئے۔
اسی بل گیٹس کی بدولت موبائیل کمپنیوں کو اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم ملا اور انٹرنیٹ نے دنیا کو موبائیل میں قید کرکے آپ کی ہتھیلی پہ دھر دیا۔ ہم کتابوں سے دور ہوتے گئے اور فلموں ویب سیریز کی دنیا میں کھو گئے۔ خوش قسمتی سے دنیا میں پڑھے لکھے ویژن والے رائیٹرز ڈائریکٹرز کی بدولت ہمیں تاریخی، تعلیمی، عصبیت، نسلی تعصب ادب اور ایجادات کے متعلق بنائی گئی فلمیں دیکھنے کو ملیں ورنہ ہمارے ہاں تو گنڈاسے اور بدمعاشوں کی کہانیوں کے علاوہ فلمیں ہی نہیں بنتی تھیں۔
ان فلموں اور ویب سیریز کی وجہ سے ہمارا ایکسپوژر بڑھا دنیا بھر کو دیکھنے ان کی ثقافت رسوم و رواج لباس مسائیل جدت خلابازی اور ٹیکنالوجی کے متعلق بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ ہم سارا دن روزی روٹی کے جھمیلوں میں پھنسے رہتے لیکن رات کو سونے سے قبل اک فلم دیکھنے کی عادت نہیں چھوڑی۔ پھر اک دہائی اور گزری اور ہم سوشل میڈیا نامی ٹریپ میں آ پھنسے۔ انٹرٹینمنٹ کے معنی تبدیل ہوئے ڈوپا مین کا اٹینشن سپن کم ہو کر اک ڈیڑھ منٹ تک آن پہنچا۔ ریلز ٹک ٹاک اور شارٹس نامی اک انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کھڑی ہوگئی جس کی بدولت دنیا بھر سے عام لوگ مشہور ہو کر سیلبرٹی بن گئے۔
دنیا میں اس کا کیا اثر ہوا نہیں معلوم لیکن ہم جیسوں کا اٹینشن سپین ٹائم کم ہوگیا۔ اٹینشن سپین کو یوں سمجھیے فرض کریں ہم تفریح کے لیے بھارتی فلم ڈھول دیکھتے ہیں۔ اس میں چار ویلے دوستوں کا قرض لے کر کاروبار کرنے کا ارادہ انہیں پیسوں سے بھرے اک ڈھول کی گمشدگی تک لے جاتا ہے اور اس ڈھول یعنی پیسوں تک پہنچنے کے چکر میں جو واقعات روپذیر ہوتے ہیں وہ اتنے پرمزاح ہوتے ہیں کہ آپ کئی سین دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں مگر کہانی سے جڑے رہتے ہیں یعنی اک دو سین دیکھ کر بس نہیں کر دیتے بلکہ ڈھول پیسوں اور ہیروئین کے بھائی کے قتل کی گتھی سلجھانے کے چکر میں فلم سے آخر تک جڑے رہتے ہیں جب دو گھنٹے بعد آپ اختتام تک پہنچتے ہیں تو آپ کا دماغ سنتشت یعنی راضی ہو کر ڈوپامین کا اخراج کرتا ہے جو ریوارڈ سسٹم ہے۔ جب جب آپ کا دماغ ڈوپامین کا اخراج کرتا ہے تب تب آپ خود کو مطمین پاتے ہیں۔
مختلف قسم کی منشیات اسی ڈوپامین کے مصنوعی اخراج کی بدولت آپ کو عارضی خوشی مہیا کرتی ہیں۔ ڈرگز کے علاوہ تفریحی کے وقت بھی آپ کا دماغ ڈوپامین کا اخراج کرتا ہے۔ آپ مری سیر کو جاتے ہیں اور کشمیر پوائنٹ دیکھنے کا قصد کرکے چل پڑتے ہیں آپ دس پندرہ بیس منٹ یا آدھا گھنٹا لگا کر جب کشمیر پوائنٹ یعنی منزل پہ پہنچتے ہیں تو آپ کا دماغ راضی ہو کر ڈوپا مین کا اخراج کرتا ہے یہی حال فلموں یا ویب سیریز دیکھتے وقت ہوتا ہے آپ دو گھنٹے کی مووی واچنگ کے بعد جب اختتام تک پہنچتے ہیں تب دماغ ڈوپامین کا اخراج کرتا ہے۔ کشمیر پوائنٹ تک پہنچنے یا فلم کے اختتام تک پہنچنے میں آپ کو جتنا وقت لگتا ہے وہ اٹینشن ٹائم سپین ہے۔
سوشل میڈیائی ایپس ٹک ٹاک فیس بک انسٹا یوٹیوب پہ فلم ڈرامے ویب سیریز شارٹ فلمز کی بجائے ریلز اور شارٹس نے اختتام تک پہنچنے کا وقت اک سے دو منٹ تک کر دیا ہے یعنی آپ جب سسٹلو برادلو کہنے والے پھلو یا تھری ٹو ون پلے کی ویڈیو دیکھتے ہیں تو اک ڈیڑھ منٹ میں ان کی ویڈیو کا اختتام ہو جاتا ہے اور دماغ کے ریوارڈ سسٹم کے چلتے دماغ ڈوپامین کا اخراج کرتا ہے۔ یوں ہم ان شارٹس یا ریلز کے رسیا ہو گئے ہیں۔ پھر ان ایپس نے اپنے الگوردھم کو کچھ ایسے ترتیب دیا ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی دس پندرہ منٹ بعد ان ایپس کو کھولتے ہیں پھر نہ چاہتے ہوئے بھی آپ پانچ دس منٹ میں خود کو ان ریلز یا شارٹس کی دنیا میں پاتے ہیں۔ پھر یہ آپ کو اس قدر دنیا و مافہیا سے بیگانہ کر دیتی ہیں کہ آپ کو وقت کا احاس تک نہیں ہوتا۔
اب آپ دیکھیں کہ اک بندہ جب شام کو کام سے گھر لوٹتا ہے تو فیملی کو وقت دینے کھانا کھانے اس دوران نیوز سننے کے بعد جب بستر پہ لیٹ کر سونے سے قبل اک ڈیڑھ گھنٹہ موبائیل پہ فلم وغیرہ دیکھنے کا ارادہ کرتا ہے اور الگوردھم اسے ریلز و شارٹس پہ لے جاتا ہے پھر اسے وقت کا احساس ہونا بند ہو جاتا ہے جب اسے احساس ہوتا ہے تب تک یا تھکاوٹ کی وجہ سے نیند کا غلبہ ہوتا ہے یا پھر وقت اک ڈیڑھ گھنٹے سے بڑھ کر تین چار گھنٹوں تک محیط ہو چکا ہوتا ہے اور یوں فلم دیکھنے کا ارادہ ترک کرکے سونے کو ترجیح دیتا ہے اور یہ چکر روزانہ کی بنیاد پہ چلتا رہتا ہے جب تک کہ کوئی ایسی فلم یا ویب سیریز سامنے نہ آ جائے جو ان سوشل میڈیائی ایپس پہ ٹرینڈنگ میں جیسے پچھلے دنوں اینمل یا ہیرامنڈی جیسی فلم اور ویب سیریز کے ساتھ ہوا۔
اس کے علاوہ ہم جب نیٹ فلیکس، ایمازون پرائم، ایپل ٹی وی، یا کیبل پہ آنے والے نیشنل جیوگرافک ہسٹری ٹی وی 18 یا ڈسکوری سمیت سینکڑوں چینلز اور ان کے کانٹینٹ پہ نظر دوڑاتے ہیں تو اتنا کچھ دیکھنے کو پڑا ہے کہ یہ زندگی بھی چھوٹی پڑ جائے۔
ہم جیسےنوے کی دہائی والے لوگ جن کا ناسٹیلجیا کتابوں سے جڑا ہے وہ چاہ کر مطالعے سے دور ہو گئے ہیں۔ چلیں مطالعہ کی جگہ فلم بینی نے لی چلیں فلم بینی ہی سہی ان کا معیاری کانٹینٹ آپ کی زندگی میں کچھ مثبت ایڈ کر پائے اس سے قبل ہماری یہ عادت بھی چھوٹ کر ریلز شارٹس پہ کنورٹ ہو چکی ہے جو یقیناً قابل تشویش ہے کیونکہ دنیا بھر میں ریلز شارٹس اک ڈیڑھ منٹ میں آپ کو کچھ نیا کچھ اچھا سکھا رہے ہوں مگر پاکستان میں یہ ریلز اور شارٹس ششٹلو برادلو یا پھر گانوں پہ مجرا کرنے آ تھما ہے۔
اگلی بار ہم ان سوشل میڈیائی ایپس کی ڈارک سائیڈ کو ڈسکس کریں گے تب تک آپ سوچیے کہ میم کلچر کے اس دور میں ہم جائیں تو جائیں کہاں کریں تو کریں کیا۔

