Tuesday, 02 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Feminism, Kya Waqai Ye Aik CIA Ki Tehreek Hai?

Feminism, Kya Waqai Ye Aik CIA Ki Tehreek Hai?

فیمنزم، کیا واقعی یہ ایک CIA کی تحریک ہے؟

ہمیشہ سلطنتوں کی تاریخ، قوموں کے عروج و زوال اور بڑی سماجی و سیاسی تحریکوں کے پیچھے ایک پوشیدہ طاقت ہمیشہ عورت ہی رہی ہے۔ تاریخ کے دھارے کو موڑنے، تخت و تاج کو الٹنے اور نئے نظریاتی انقلابات کو جنم دینے میں اس وجود کا کردار کبھی پسِ پردہ رہا تو کبھی منظرِ عام پر۔ تاریخِ انسانی کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں کوئی بڑی فکری یا سیاسی تبدیلی لانی مقصود ہو، تو عورت کے سماجی مقام اور اس کے نفسیاتی و معاشرتی کردار کو ایک خاص رخ دینا سب سے کارگر ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں حقوقِ نسواں (Feminism) کی تحریک کو بھی ایک ایسی ہی طاقتور فکری لہر کے طور پر پیش کیا گیا جس نے معاشروں کی کایا پلٹ دی۔ تاہم، اس مروجہ بیانیے کے پیچھے چھپے کچھ مہیب اور چونکا دینے والے حقائق نے اب فکر و نظر کے نئے زاویے وا کر دیے ہیں۔

اس حساس موضوع پر ایک نئی اور سنسنی خیز بحث امریکی محقق اور مصنفہ ریچل ولسن کی تصنیف "Occult Feminism: The Secret History of Women's Liberation" سے جنم لیتی ہے۔ مصنفہ کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ جدید فیمینزم محض ایک مظلوم طبقے کی خودبخود ابھرنے والی خالص عوامی تحریک نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا گہرا اور منظم نظریاتی داؤ تھا جسے مخصوص بین الاقوامی طاقتوں، سرمایہ داروں اور خفیہ اداروں نے اپنے معاشی و سیاسی مقاصد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر پروان چڑھایا۔ اس تحریک کا اصل ہدف وہ روایتی خاندانی ڈھانچہ تھا جو صدیوں سے انسانی معاشرے کے استحکام کا ضامن رہا ہے۔

اگر ہم تاریخ کے مروجہ دھارے اور سرد جنگ (Cold War) کے دور کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ تحریک کس طرح کمیونزم اور سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک سدِ راہ کے طور پر استعمال کی گئی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا دو بڑے فکری بلاکس میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ایک طرف سوویت یونین کا اشتراکی نظام تھا اور دوسری طرف امریکی سرمایاداری کا راج تھا۔ سوویت یونین اپنے پروپیگنڈے میں مسلسل مغربی دنیا کو نشانہ بنا رہا تھا کہ وہاں کی عورت سرمایہ دارانہ نظام کے تحت معاشی عدم مساوات کا شکار ہے۔ اس بین الاقوامی فکری دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مغربی مقتدرہ کو ایک ایسے متبادل لبرل بیانیے کی ضرورت تھی جو سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے عورت کی آزادی کا نعرہ بلند کرے، تاکہ سوویت یونین کے اشتراکی اثرات کا راستہ روکا جا سکے۔

اس موقف کے حق میں سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوت خود فیمینزم کی دوسری لہر کی سب سے ممتاز رہنما گلوریا اسٹائنم کا اعتراف ہے۔ گلوریا، جو فیمینسٹ تحریک کا سب سے بڑا چہرہ تھیں، نے خود پبلک ریکارڈ پر یہ تسلیم کیا کہ وہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں امریکی خفیہ ایجنسی (CIA) کے ایک فرنٹ گروپ "آئی این ایس او" (Independent Research Service) کے لیے باقاعدہ کام کرتی رہی تھیں۔ ان کا بنیادی کام یہ تھا کہ وہ نوجوانوں اور خواتین کو بین الاقوامی سطح پر کمیونسٹ اور مارکسسٹ نظریات سے متاثر ہونے سے روکیں اور انہیں ایک ایسی "ثقافتی اور لبرل آزادی" کی طرف راغب کریں جس سے سرمایہ دارانہ نظام کو کوئی معاشی خطرہ لاحق نہ ہو۔ سی آئی اے نے بڑی چابکدستی سے فیمینزم کے اندر موجود لبرل دھڑے کو بے پناہ میڈیا کوریج اور فنڈنگ فراہم کی، جس کے نتیجے میں معاشی برابری اور نظام کی تبدیلی کی بات کرنے والا اشتراکی فیمینزم پسِ منظر میں چلا گیا اور جنسی و ثقافتی آزادی کا یہ نیا بیانیہ غالب آ گیا۔

اس نظریاتی داؤ کے پیچھے صرف سیاسی مقاصد ہی نہیں، بلکہ امریکہ کے بڑے صنعتی بادشاہوں (Industrial Magnates) کا گہرا سرمایہ کار فرما تھا۔ اس سلسلے میں مشہور امریکی فلم میکر اور محقق آرون روسو کا وہ انکشاف انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں انہوں نے دنیا کے طاقتور ترین بینکاری خاندان کے چشم و چراغ نکولس راک فیلر کے ساتھ ہونے والی ذاتی گفتگو کا حوالہ دیا۔

راک فیلر نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے خاندانی فاؤنڈیشنز (Rockefeller Foundation) نے فیمینزم کی تحریک کو بڑے پیمانے پر فنڈنگ فراہم کی تھی۔ اس فنڈنگ کے پیچھے دو خالص لاجیکل اور معاشی مقاصد تھے۔ پہلا مقصد یہ تھا کہ فیمینزم سے پہلے ریاست معاشرے کی آدھی آبادی (خواتین) پر ٹیکس نہیں لگا سکتی تھی کیونکہ وہ گھروں تک محدود تھیں۔ عورت کو ملازمت کی منڈی میں لا کر کارپوریٹ دنیا نے راتوں رات ٹیکس بیس کو دگنا کر دیا۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ بچوں کو بہت ابتدائی عمر میں ہی خاندانی اثر و رسوخ سے نکال کر اسکولوں اور نرسریوں میں بھیج دیا جائے، جہاں ریاست اور کارپوریٹ بیانیے کے تحت ان کی ذہن سازی کی جا سکے اور وہ روایتی خاندان کے بجائے نظام کے وفادار بنیں۔

اس پورے عمل کا سب سے ہولناک اور منفی اثر روایتی خاندانی نظام پر پڑا۔ خاندانی نظام ایک ایسی اکائی ہے جو انسان کو ریاست اور کارپوریٹس کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے ایک مضبوط متبادل سماجی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ مرد اور عورت کے درمیان ایک فطری اور تکمیلی شراکت داری کو ختم کرکے ان کے درمیان ایک لامتناہی مسابقت اور جنگ کا تاثر پیدا کیا گیا۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھی کے بجائے ایک دوسرے کے حریف بن گئے، تو اس کا منطقی نتیجہ طلاقوں کی شرح میں ریکارڈ اضافے، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور سنگل پیرنٹنگ کی صورت میں نکلا۔ اس خاندانی بکھراؤ کا سب سے بڑا نقصان بچوں کی نفسیات اور ان کی اخلاقی تربیت کو پہنچا۔ جب روایتی خاندانی تحفظ ختم ہوگیا، تو فرد بالکل تنہا رہ گیا اور وہ اپنی پیدائش سے لے کر بچوں کی پرورش، ڈے کیئر سینٹرز اور بڑھاپے کے اولڈ ہومز تک، مکمل طور پر کارپوریٹ مارکیٹ اور بیرونی اداروں کا محتاج ہو کر رہ گیا۔

جدید دور کے کئی نامور سماجی ماہرین، جیسے کرسٹوفر لیش اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ کس طرح جدید لبرل تحریکوں نے خاندان کے اختیارات چھین کر انہیں بیوروکریسی اور تجارتی اداروں کے حوالے کر دیا۔ اسی طرح فرانسیسی فلاسفر مائیکل فوکو کا اقتدار اور سماجی کنٹرول کا نظریہ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب روایتی سماجی ادارے (جیسے خاندان اور مذہب) کمزور پڑتے ہیں، تو ریاست کا کنٹرول فرد پر زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ فیمینزم نے غیر محسوس طریقے سے روایتی خاندان کو کمزور کرکے ریاست کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ فرد کی زندگی کے ہر شعبے پر اپنی گرفت مضبوط کر سکے۔

آج خود مغربی دنیا اس فکری اور سماجی بحران کے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مغرب میں خواتین کا ایک بہت بڑا طبقہ اب یہ محسوس کر رہا ہے کہ آزادی کے اس خوبصورت سراب نے ان پر دگنا بوجھ ڈال دیا ہے، جہاں انہیں معاشی بقا کے لیے باہر کی دنیا میں مردوں کی طرح مشقت بھی کرنی پڑتی ہے اور گھر اور بچوں کی ذمہ داری بھی نبھانی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہاں "روایتی خاندانی اقدار" کی طرف واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور لوگ اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ خاندان کو توڑنے کا یہ تجربہ انسانی تاریخ کا ایک بڑا المیہ ثابت ہوا ہے۔

تاریخ کا یہ طویل اور سنجیدہ سفر ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ سلطنتوں اور تحریکوں کے پیچھے پوشیدہ رہنے والی اس عظیم طاقت یعنی عورت کو جب بھی اس کے فطری اور مقدس سماجی کردار سے ہٹا کر کسی سیاسی یا نظریاتی جنگ کا مہرہ بنایا گیا، تو اس سے نہ صرف عورت کا اپنا سکون برباد ہوا بلکہ پورا انسانی معاشرہ بکھر گیا۔ انسانی تہذیب کا بقا اور استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب مرد اور عورت ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہونے کے بجائے، ایک مستحکم اور مضبوط خاندانی نظام کے اندر اپنی فطری ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے سرانجام دیں۔

Check Also

K Electric: Roshanio Ki Kahani

By Muhammad Mohsin Khan