Tuesday, 02 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Piron Ki Hukumat

Piron Ki Hukumat

پیروں کی جمہوریت

کبھی کبھی آدمی اپنے ہی سر سے تنگ آجاتا ہے۔ سر، جو خیالات کی بلند عمارتیں بناتا ہے، نظریات کی چھتوں پر چڑھ جاتا ہے، اخلاقیات کے قمقمے روشن کرتا ہے، مگر پھر اچانک نظر نیچے پڑتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضور کے پاؤں ابھی تک کیچڑ کی بلدیاتی حدود میں رجسٹرڈ ہیں۔ میں نے ایک روز خود سے پوچھا کہ کہیں میں بھی تو وہی ادھورا آدمی نہیں بن گیا جس کا سر آسمان پر اور پاؤں روزگار کے گٹر میں ہوتے ہیں؟

آج ایک دوست کا فون آیا۔ پہلے تو حسبِ دستور میری تحریروں پر پھول برسائے۔ کہنے لگے، "بھئی، آج کل تم پر تخلیق کی دیوی خاص مہربان ہے۔ قلم توڑ لکھ رہے ہو"۔

میں دل ہی دل میں اس دیوی کا شکریہ ادا کرنے ہی والا تھا کہ اگلا سوال آگیا:

"سناو، نوکری ملی کوئی؟"

یہ سوال ہمارے ہاں ویسا ہی ہے جیسے جنازے میں کوئی پوچھ لے، "کھانا کس وقت لگے گا؟"

میں کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر کہا، "ایک جگہ انٹرویو ہے، دیکھتے ہیں"۔

فرمایا، "یار تھوڑا کمپرومائز کرو۔ اپنے سماجی روابط استعمال کرو۔ صفِ دوستاں پر ہاتھ ہولا رکھو۔ کام بن جائے گا"۔

میں نے کہا، "حضرت، ابھی تو آپ فرما رہے تھے کہ مجھ پر تخلیق کی دیوی مہربان ہے، اب کہہ رہے ہیں ہاتھ ہولا رکھو۔ یہ دیوی اور یہ رعایت ایک ہی وقت میں کیسے نبھیں گی؟"

وہ ہنس دیے، جیسے میں نے کوئی ادبی لطیفہ سنا دیا ہو۔

اصل میں ہمارے ہاں تخلیق کی تعریف بھی ایک مشروط آزادی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں تم اچھا لکھو، بہت اچھا لکھو، مگر ان کے بارے میں نہیں۔ سچ لکھو، مگر اتنا نہیں کہ کسی کی میز ہل جائے۔ مزاحمت کرو، مگر اس انداز میں کہ اسپانسر ناراض نہ ہوں۔

میں نے سوچا، آخر اور کیا سمجھوتہ کروں؟ دو برس ایک ایسے چیف ایڈیٹر کے ماتحت گزار چکا تھا جو جہالت کو تجربہ اور بداخلاقی کو ادارتی بصیرت سمجھتا تھا۔ دن بھر بیٹ رپورٹرز پر گرجتا کہ کم کماتے ہو، کہیں خود تو نہیں کھا جاتے؟ اور شام کو مذہبی وعظ میں اس شدت سے داخل ہوجاتا جیسے فرشتوں کی آڈٹ کمیٹی کا مستقل رکن ہو۔

ایک روز اس نے بڑے اطمینان سے فرمایا کہ منہاج برنا اور نثار عثمانی مرتے دم تک لادینیت سے چمٹے رہے، اب عذاب قبر بھگت رہے ہوں گے، تم بھی آخرت کی کچھ فکر کرو۔

یہ نصیحت ایسے شخص کے منہ سے نکل رہی تھی جس کی حیاتِ طیبہ بلیک میلنگ، کمیشن اور اخلاقی ٹھیکیداری کے شاندار امتزاج سے عبارت تھی۔ میں نے سوچا، اگر منافقت اولمپک کھیل ہوتی تو یہ شخص عبداللہ بن ابی کو بھی کانسی کا تمغہ پکڑا دیتا۔

اس کی نظر میں صحافت کے امام وہ تھے جن کے کارناموں میں متروکہ عمارتوں اور متروک سچائیوں دونوں پر قبضے شامل تھے۔ شاگرد ایسے تیار کیے کہ خبر کم اور دلالی زیادہ جانتے تھے۔ کچھ حضرات شراب کی سپلائی میں اتنے سرگرم تھے کہ اگر صحافت نہ ہوتی تو شاید وزارتِ مے نوشی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے۔

میں نے ایک دن نوکری کو سلام کیا اور چلا آیا۔ یہ سلام ویسا نہیں تھا جیسا شاعر محبوب کو کرتا ہے، بلکہ ویسا تھا جیسا قیدی رہائی کے وقت حوالدار کو کرتا ہے۔ مگر بے روزگاری کے چھے مہینے بھی کسی جامعہ سے کم ثابت نہیں ہوئے۔

ایک خیر خواہ آئے۔ فرمایا، "بھائی لوگوں سے بات ہوگئی ہے۔ کچھ نہیں کرنا۔ بس پاکستان پر لکھنا چھوڑ دو۔ بلوچ عورتیں، جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں، بنگالیوں کا ذکر۔۔ یہ سب چھوڑو۔ بھارت پر لکھو، ارون دھتی رائے وغیرہ پر تجزیے کرو۔ معاوضہ تمہارے تصور سے زیادہ ہوگا"۔

مجھے حیرت ہوئی کہ سرمایہ دارانہ دنیا نے آخرکار اخلاقی سنسرشپ کو بھی فری لانسر پیکیج میں تبدیل کردیا ہے۔

ایک اور صاحب تشریف لائے۔ پہلے میری حالت پر اتنا افسوس کیا کہ مجھے لگا ابھی چندہ مہم شروع کردیں گے۔ پھر بولے: "ہمارا میڈیا سینٹر وزیراعلیٰ کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بن گیا ہے۔ تم اسکرپٹ لکھ دو۔ نام نہیں آئے گا۔ ہفتے میں دو اسائنمنٹ۔ باقی فیس بک پر انقلاب لاتے رہو"۔

یہ پیشکش اتنی شائستہ تھی کہ اس میں دلالی بھی مخمل اوڑھے بیٹھی تھی۔

چونکہ مہمان خاص الخاص تھے، اس لیے میں نے غصہ ضبط کیا۔ چار کافی کے ساشے پی کر گئے، جن کی قیمت پانچ سو روپے تھی۔ میں نے بعد میں خود کو تسلی دی کہ چلو، انقلاب تو نہیں بکا، صرف کافی گئی ہے۔

پھر ایک مصنف نما دوست یاد آئے، جو سفرناموں سے ہوتے ہوئے ناول نگاری تک پہنچے اور اب میرے قرضے کے گرد ایسے خاموش بیٹھے ہیں جیسے قومی احتساب بیورو کسی طاقتور شخصیت کے گرد بیٹھتا ہے۔ فون کرو تو مشینی خاتون فرماتی ہے:

"مطلوبہ نمبر مصروف ہے"۔

میں سوچتا ہوں، یہ مصروفیت بڑی عجیب شے ہے۔ فیس بک پر ملک کے ظلم پر روز سیاپا ہوسکتا ہے، مہنگائی پر کالم لکھے جاسکتے ہیں، سفید پوش طبقے کے دکھ میں آنسو بہائے جاسکتے ہیں، مگر قرض واپس کرنے کی فرصت نہیں نکلتی۔

ایسے میں کبھی کبھی میں اپنے کی بورڈ کو دیکھتا ہوں۔ یہی میرا اصل دفتر ہے۔ نہ مدیر کا سانس پھولتا ہے، نہ کسی حساس ادارے کی بھنویں حرکت کرتی ہیں کہ کیا چھاپنا ہے اور کیا دفن کرنا ہے۔ جملہ جملے کو جنم دیتا ہے، خیال خیال سے لپٹتا ہے، اندر کی آگ تحریر بن جاتی ہے۔

پھر بھی عجیب بات ہے۔

بڑے بڑے خیال دماغ میں جنم لیتے ہیں، فلسفے کی شاخیں پھوٹتی ہیں، ادب کے نئے دریچے کھلتے ہیں اور پھر اچانک نظر پیروں پر پڑتی ہے۔

اور آدمی رو پڑتا ہے۔

آخر جیب بھی ایک قسم کا فلسفہ ہوتی ہے۔ خالی ہو تو سقراط بھی مشتبہ لگنے لگتا ہے۔

اسی لیے کسی دانا نے شاید ٹھیک کہا تھا:

جیب خالی ہو تو دانائی کا اظہار نہ کر
ایسی باتوں کا بڑے لوگ برا مانتے ہیں

Check Also

Talaqon Ka Tufan Kyun?

By Muhammad Irfan Nadeem