Khawaja Asif Aur Lesco (2)
خواجہ آصف اور لیسکو (2)

میں نے اپنے پچھلے کالم میں لیسکو کی حمزہ ٹاؤن سب ڈویژن کی بد انتظامی اور کرپشن کی داستان بیان کی تھی جس میں غیر قانونی کنکشنز کے عوض پیسہ کمانا اور پیسے وصول کئے بغیر کسی قسم کی بھی خرابی کو دور کرنے کے لئے تیار نہیں ہونے کے معاملات سامنے لے کر آیا تھا اور سخت گرمی میں کئی کئی دن بجلی سے محروم کرکے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانے کی بات کی تھی تو مجھے کئی قارئین نے بتایا کہ یہ معاملہ صرف حمزہ ٹاؤن سب ڈویژن کا نہیں ہے بلکہ پورا لیسکو کا نظام ہی کرپشن اور بدعنوانی سے لتھڑا ہوا ہے۔
ایک قاری نے بتایا کہ گلشن راوی کے علاقہ میں ان کی بجلی مسلسل باون گھنٹے بند رہی ہے اور اس سخت گرمی میں جب ایک منٹ بھی گزارنا مشکل ہوتا ہے اور لوگ دو دو دن بغیر بجلی اور پانی کے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ان علاقوں میں چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں اور بیمار بوڑھے بھی لیکن لیسکو تو دور کی بات ہے حکمرانوں کو بھی اپنے لوگوں کا ذرا احساس نہیں ہوتا ہے۔
کاہنہ سے کچھ لوگوں نے فون کرکے مجھے بتایا کہ جب سے گرمی شروع ہوئی ہے رات بھر بجلی کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور کئی بار تو دس دس بار بجلی کی بندش ہوتی ہے جس کی وجہ سے معصوم بچے بلکتے رہتے ہیں اور نیند نہ لینے کی وجہ سے مرد حضرات اپنے کام پر جاتے ہیں تو ان کے اندر چڑچڑا پن واضح دکھائی دیتا ہے۔ آج ہی وفاقی وزیر دفاع جیسی مضبوط حکومتی شخصیت خواجہ آصف نے غصے سے بھرپور ٹویٹ کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ ان کے ملازمین کے گاؤں کا ٹرانسفارمر خراب ہوا تو انھوں نے لیسکو کے اعلٰی افسر کو فون کرکے شکایت کی کہ ٹرانسفارمر کی مرمت کروا کر بجلی بحال کی جائے اور لیسکو کی ٹیم نے وزیر موصوف کی سفارش پر ٹرانسفارمر تو ٹھیک کروایا اور ساتھ ہی گاؤں کے رہائشیوں سے اسی ہزار روپے بھی وصول کر لئے جو کہ ظاہر ہے گاؤں کے لوگوں نے آپس میں جمع کرکے ادا کئے ہونگے۔
اس معاملہ میں ایک طرف تو خواجہ آصف کی اچھی خاصی عزت پر فرق آيا ہے کہ اتنی مضبوط وزارت کے مالک سے بھی لیسکو نے پیسے وصول کر لیے ہیں اور ان وزیر موصوف کے ان ملازمین کی بھی سبکی ہوئی کہ اگر ٹرانسفارمر پیسے دے کر ہی مرمت کروانا تھا تو اتنی بڑی سفارش کی کیا ضرورت تھی یہ کام تو لیسکو والے بخوشی کرتے ہیں۔
کسی علاقہ میں ٹرانسفارمر خراب ہوتا ہے تو وہاں کے رہائشی پریشان ہوتے ہیں اور گھنٹوں بجلی کے بغير گزارتے ہیں اور آخر میں پیسے ادا کرکے ٹرانسفارمر خود ہی مرمت کرواتے ہیں جبکہ ٹرانسفارمر خراب ہونے پر لیسکو کے عملہ کی چاندی ہوجاتی ہے کیونکہ جو لوگ ٹرانسفارمر کی مرمت کرتے ہیں وہ بھی لیسکو عملہ کے پارٹنر ہوتے ہیں اور یہ سب مل جل کر ہی منافع تقسیم کرتے ہیں۔ مجھے لیسکو کے ہی ایک اہلکار نے بتایا تھا کہ یہ جو بار بار بجلی بند کرکے دوبارہ آن کی جاتی ہے تو اس میں اکثر ٹرانسفارمرز دھماکے سے خراب ہوجاتے ہیں جس پر لیسکو کے نامزد کردہ ورکشاپس کے لوگ موقع پر پہنچتے ہیں اور ٹرانسفارمر اتار کر ورکشاپ لے جاتے ہیں اور پھر ایک ٹرانسفارمر کی مرمت پر پچاس ہزار روہے سے لے کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے اور تکنیکی لوگ بتاتے ہیں کہ جو ٹرانسفارمر ایک بار ان ورکشاپس میں مرمت کے لئے چلا جاتا ہے تو پھر ہر سال اس میں خرابی ضرور ہوتی ہے۔
حمزہ ٹاؤن سب ڈویژن جو کہ فيروز پور روڈ، چندرائے روڈ، گجومتہ کے اطراف سے لے کر گوالہ کالونی اور کاچھا تک کے علاقوں پر مشتمل ہے اور پچھلے دنوں صرف ایک ہی رات میں اٹھارہ ٹرانسفارمرز خراب ہوئے تھے۔ یہ سب گرڈ مرمت کے بعد بند بجلی کے چالو ہونے کے بعد ہوا تھا۔ اس واقعہ کے بعد لیسکو کا عملہ غائب ہوگیا اور عوام بے چارے ورکشاپس والوں کے پیچھے دو دن تک دھکے کھاتے رہے ہیں اور نہ تو لیسکو کے لوگوں کو کچھ فرق پڑا اور نہ ہی حکمرانوں کے کان پر جوں رینگی تھی۔ اب جبکہ خواجہ آصف کے ملازمین کو یہ مسئلہ درپیش آیا تو وزیر موصوف نے کھلے عام شور مچایا اور اس واقعہ کو ظلم سے تشبیہ دیا۔
میں حیران اس بات پر ہوں کہ خواجہ آصف کئی بار وزارت کے مزے لے چکے ہیں اور یہاں تک کہ واپڈا کی وزارت بھی ان کے پاس رہی ہے لیکن انھیں اگر اس بات کا علم نہیں ہے کہ بجلی کی کمپنیوں میں عوام کے ساتھ کیا کیا مظالم ڈھائے جاتے ہیں تو پھر اس معصومیت اور بے خبری پر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ محکموں کی ساری پالیسیاں وزارتوں کے ذریعے آتی ہیں اور پارلیمنٹ میں سارے معاملے طے ہوتے ہیں اور یہاں حالت یہ ہے کہ حکومتی وزراء ہی اصل مسائل سے بے خبر ہیں اور یا پھر انھیں عوام کے مسائل میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ اگر خواجہ آصف کے ملازمین کا ٹرانسفارمر خراب نہ ہوتا تو شاید انھیں کبھی بھی معلوم نہ ہو پاتا کہ جب لوگوں کے ٹرانسفارمر خراب ہوتے ہیں تو پھر عوام کے ساتھ لیسکو کیا سلوک کرتا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ لیسکو کا عملہ نہ تو خراب میٹر بنا پیسے اور رشوت کے تبدیل کرتا ہے اور نہ ہی ٹرانسفارمر کی خرابی پر اس کی مرمت کرواتا ہے بلکہ بجلی کے میٹر کی قیمت وصول کرکے اب حکومت اسی میٹر کا ماہانہ کرایہ بھی وصول کرتی ہے۔ جو سالانہ سات سے دس ہزار روپے بنتا ہے اور یہ ایک بہت بڑا ڈاکہ ہے جس کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں جو معمولی کمی کی گئی تھی وہ بھی ختم ہوگئی ہے۔ جہاں تک ٹرانسفارمر کی بات ہے تو اس کی مرمت کے سارے واجبات خود عوام کو برداشت کرنا پڑتے ہیں بلکہ پہلے لیسکو کا عملہ ہر سال سسٹم کی مین ٹیننس کرتا تھا اور گرمیاں آنے سے پہلے تاروں میں الجھی درختوں کی شاخیں کاٹ دیا کرتا تھا لیکن اب اس معاملہ سےبھی ہاتھ کھینچ لئے گئے ہیں جس کی وجہ سے آندھی اور برسات کے موسم میں ٹرانسفارمر خراب ہوتے ہیں اور لیسکو کا عملہ صاف الفاظ میں کہتا ہے کہ ہم کسی بھی ٹرانسفارمر کی مرمت کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
یہ بات درست مان بھی لی جائے کہ بجلی کے ٹرانسفارمرز کی مرمت کرانا صارف کی ذمہ داری ہے تو یہ کون طے کرے گا کہ ان ٹرانسفارمرز کی بار بار کی خرابی کا ذمہ دار لیسکو کا عملہ نہیں ہے؟ یہ بھی بڑی عجیب سی بات ہے کہ جس ٹرانسفارمر سے بجلی کے کنکشن لیسکو فراہم کرتا ہے اور اسی ٹرانسفارمر کی خرابی کے نتیجہ میں فائدہ لیسکو کے عملہ کو پہنچتا ہے لیکن اس کی مرمت کا خرچ عوام برداشت کرتے ہیں۔
میں جس سوسائٹی میں رہتا ہوں وہ ایل ڈی اے سے منظور شدہ سوسائٹی ہے اور اس کے بجلی کی فراہمی کے سارے اخراجات جن میں کھمبے، تاریں، ٹرانسفارمر اور یہاں تک کہ ایک ایک نٹ بولٹ بھی رہائشیوں کی جیب سے وصول کیا گیا اور پچھلے کئی سالوں سے لیسکو کا عملہ چوری چھپے اس سوسائٹی کے سسٹم سے قریبی آبادیوں کو بھاری رشوت کے عوض بجلی فراہم کرتا رہا ہے۔ حالانکہ قانونی طور پر غير قانوني آبادیوں کو بجلی کی ترسیل ممکن نہیں ہے لیکن انویسٹروں کے ساتھ ساز باز کرکے لیسکو کا عملہ لاکھوں روپے کے عوض کنکشن دے دیتا ہے جس کی وجہ سے سوسائٹی کے ٹرانسفارمرز پر سینکڑوں کنکشنز کا اضافی بوجھ پڑ چکا ہے جس سے آئے روز ٹرانسفارمرز خراب ہوتے ہیں جس کے کلی طور پر ذمہ دار حمزہ ٹاؤن سب ڈویژن کے اہلکار اور ایس ڈی او ہیں لیکن کرپشن اور بد انتظامی میں ڈوبا یہ محکمہ مسلسل لاقانونیت پھیلا رہا اور بارہا شکایت کے باوجود بھی حکام کا کاروائی نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ پورا محکمہ ہی کرپشن سے فیضیاب ہوتا ہے۔
اب اگر خواجہ آصف نے لیسکو کے خلاف آواز اٹھائی ہے تو اس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیئے لیکن شاید ایسا ہوگا نہیں کیونکہ پٹرول اور بجلی سے ہی تو ان سارے وزراء کی عیاشیاں چلتی ہیں اور عوام جائے بھاڑ میں۔

