Tuesday, 02 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Aurat Ke Makar

Aurat Ke Makar

عورت کے مکر

عورت کے بارے میں دنیا کی تقریباً ہر تہذیب میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ کہیں اسے محبت اور وفا کی علامت سمجھا گیا اور کہیں اسے فریب اور مکر کا پیکر قرار دیا گیا۔ ہمارے معاشرے میں بھی یہ جملہ عام سننے کو ملتا ہے کہ عورت کے پاس مکرکے بے شمار ہتھیار ہوتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنی ذہانت اور نفسیاتی مہارت سے دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق چلا لیتی ہے۔ بعض افراد تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ عورت کی چالاکی مرد کی عقل پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت مکر باز ہوتی ہے یا یہ صرف ایک سماجی تصور اور صدیوں پرانا افسانہ ہے؟

قدیم قصوں اور حکایتوں میں عورت کے مکر کا ذکر بکثرت ملتا ہے۔ مشرقی ادب میں ایسی کئی کہانیاں موجود ہیں جن میں عورت کو نہایت ذہین اور موقع شناس دکھایا گیا ہے۔ فارسی ادب کے معروف بزرگ شیخ سعدی کے حوالے سے بھی عورت کے مکر کا ایک مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق ایک شخص اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا مگر بیوی اسے دھوکا دیتی رہی۔ جب شوہر کو حقیقت کا علم ہوا تو اس نے بیوی سے باز پُرس کی۔ عورت نے ایسی مہارت سے بات کا رخ بدلا اور ایسے دلائل دیے کہ شوہر اپنی آنکھوں دیکھی حقیقت پر بھی شک کرنے لگا۔ اس حکایت کا مقصد یہ بتانا تھا کہ بعض اوقات انسان جذبات اور زبان کی چالاکی کے سامنے اپنی عقل کھو بیٹھتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ادبی حکایت ہے لیکن صدیوں سے اسے عورت کے مکر کی مثال کے طور پر دہرایا جاتا رہا ہے۔

عورت کے مکر سے متعلق ایک اور مشہور مثال بندریا کی دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب دریا میں سیلاب آتا ہے تو بندریا اپنے بچے کو پہلے سینے سے لگاتی ہے۔ پانی مزید بلند ہو تو اسے کندھوں پر بٹھا لیتی ہے اور جب اپنی جان بچانے کا وقت آتا ہے تو بچے کو پاؤں کے نیچے رکھ کر خود اوپر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس مثال کو بعض لوگ عورت کی خود غرضی ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حیوانات کے رویوں کے بارے میں اس قسم کی کئی روایات سائنسی طور پر ثابت نہیں ہیں۔ انہیں زیادہ تر اخلاقی مثالوں کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اسی طرح عورت کو بندریا سے تشبیہ دے کر اس کی پوری جنس کے بارے میں فیصلہ صادر کر دینا انصاف نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ مکر کیا ہے؟ اگر مکر سے مراد حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنا ہے تو یہ خوبی مرد اور عورت دونوں میں پائی جاتی ہے۔ اگر مکر سے مراد دھوکا دینا ہے تو یہ بھی کسی ایک جنس کی خصوصیت نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے سیاسی فریب مردوں نے کیے۔ جنگی چالیں مردوں نے چلیں۔ مالیاتی فراڈ مردوں نے کیے۔ اقتدار کے لیے سازشیں مردوں نے کیں۔ پھر عورت کو مکر کی علامت کیوں بنایا جاتا ہے؟

اس سوال کا جواب معاشرتی ساخت میں پوشیدہ ہے۔ صدیوں تک عورت کو طاقت اور اختیار کے مراکز سے دور رکھا گیا۔ اس کے پاس نہ سیاسی قوت تھی، نہ معاشی آزادی۔ ایسے میں اگر اس نے اپنی بات منوانے کے لیے زبان کی مہارت یا نفسیاتی تدبیر استعمال کی تو اسے مکر کا نام دے دیا گیا۔ جس شخص کے ہاتھ میں طاقت نہ ہو وہ اکثر بالواسطہ طریقوں سے اپنا دفاع کرتا ہے۔ بہت سی خواتین نے سخت سماجی دباؤ میں زندہ رہنے کے لیے ذہانت اور تدبر کو ہتھیار بنایا۔ وقت کے ساتھ یہی رویہ "عورت کے مکر" کے عنوان سے مشہور ہوگیا۔

یہ بھی درست ہے کہ بعض عورتیں مکر کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ جیسے بعض مرد طاقت کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں خواتین نے جھوٹ بول کر لوگوں کو نقصان پہنچایا یا جذباتی استحصال کیا۔ محبت کے نام پر دھوکا دیا۔ مالی فائدے حاصل کیے یا لوگوں کو بلیک میل کیا۔ کیا چند مثالوں کی بنیاد پر تمام عورتوں کو مکار قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا کیا جائے تو پھر چند مردوں کے جرائم کی بنیاد پر پوری مرد جنس کو بھی مجرم کہنا پڑے گا۔

ہمارے معاشرے میں عورت کے مکر کا تصور اکثر لطیفوں اور روزمرہ گفتگو کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ ساس بہو کے جھگڑوں سے لے کر محبت کی کہانیوں تک ہر جگہ عورت کو سازش کرنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ فلموں اور ڈراموں نے بھی اس تصور کو مضبوط کیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ بہت سے لوگ عورت کو پہلے ہی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اس سوچ سے نہ صرف عورت کی شخصیت مجروح ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں اعتماد کا رشتہ بھی کمزور پڑتا ہے۔

دوسری طرف یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عورت انسانی نفسیات کو سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ الفاظ کے پیچھے چھپے جذبات کو محسوس کر لیتی ہے۔ وہ رشتوں کی باریکیوں کو جلد سمجھ جاتی ہے۔ بعض لوگ اسی نفسیاتی فہم کو مکر کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ ہر ذہانت مکر نہیں ہوتی اور ہر تدبیر فریب نہیں ہوتی۔

حقیقت یہ ہے کہ عورت نہ فرشتہ ہے نہ شیطان۔ وہ بھی انسان ہے۔ اس میں خوبیاں بھی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ بعض عورتیں بے مثال ایثار کا نمونہ ہوتی ہیں اور بعض خود غرضی کا۔ بعض مرد سچائی اور دیانت کی مثال ہوتے ہیں اور بعض دھوکے اور فریب کی۔ اس لیے کسی ایک جنس کو مکر کی مستقل علامت بنا دینا حقیقت سے زیادہ تعصب کی نشانی معلوم ہوتا ہے۔

عورت کے مکر کا تصور ایک سماجی بیانیہ ضرور ہے لیکن اسے مطلق سچائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عورت نے بعض اوقات مکر کو دفاعی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور بعض اوقات غلط مقاصد کے لیے بھی۔ یہی بات مردوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ انسان کا کردار اس کی جنس سے نہیں بلکہ اس کی تربیت، اس کے حالات اور اس کے اخلاقی شعور سے بنتا ہے۔ اس لیے عورت کو صرف مکر کی عینک سے دیکھنے کی بجائے اسے انسان کی حثیت سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Check Also

Khawaja Asif Aur Lesco (2)

By Shahid Mehmood