Akhir Jang Shuru Kyun Hui?
آخر جنگ شروع کیوں ہوئی؟

دو ہفتے گزر چکے ہیں اور دنیا ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ امریکا نے ایران پر جنگ کیوں شروع کی تھی۔ جنگ شروع کرنے والے بھی یہی سوال ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں۔ کبھی بات ایران کی عسکری طاقت کو تباہ کرنے کی ہوتی ہے، کبھی رجیم کی تبدیلی کی، کبھی مذاکرات کی پیشکش سامنے آتی ہے اور کبھی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ اور گذشتہ رات تو اخیر ہوگئی۔ ٹرمپ نے اعلان کر دیا وہ جنگ جیت رہے ہیں اور اہداف مکمل ہو رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جب جنگ کا آغاز کیا تو انداز ایسا تھا جیسے چند دن میں تہران کے دروازے کھل جائیں گے اور ایرانی عوام ہاتھوں میں پھول لیے کھڑے ہوں گے۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ پھول تو دور کی بات، میزائل اور ڈرون ہر سمت اڑ رہے ہیں اور واشنگٹن کو اب تک سمجھ نہیں آ رہی کہ اس جنگ کو ختم کیسے کیا جائے۔
جنگ کے پہلے دن سب سے بڑا کارنامہ یہ بتایا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مارے گئے۔ خیال یہ تھا کہ جیسے ہی سربراہ ختم ہوگا پورا نظام ڈھے جائے گا۔ امریکی تھنک ٹینکوں میں شاید یہ تصور بھی گردش کر رہا ہوگا کہ تہران میں اگلے دن عوام سڑکوں پر نکل کر اعلان کریں گے کہ ٹرمپ ساڈا شیر اے، باقی ہیر پھیر اے۔ لیکن ایرانی عوام نے امریکی اسکرپٹ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ چند دنوں میں نیا سپریم لیڈر سامنے آ گیا اور ریاستی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم رہا۔ واشنگٹن نے تو سر کاٹنے کی پوری تیاری کی تھی مگر جسم کو پتہ ہی نہیں چلا کہ مرنا کب ہے۔
کبھی یہ خیال بھی سامنے آیا کہ کرد فورسز کو ایران کے اندر بھیج دیا جائے تاکہ بغاوت ہو جائے۔ لیکن ماہرین نے فوراً یاد دلایا کہ اس سے پہلے ترکی ناراض ہوگا پھر ایک اور جنگ کھل جائے گی اور پھر کردوں کا صفایا کرنا پڑ جائے گا۔ چنانچہ یہ خیال بھی وہیں دفن ہوگیا۔
امریکا نے اس دوران ایران کے فوجی اہداف پر سینکڑوں حملے کیے اور اعلان کیا کہ ایرانی عسکری طاقت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ مگر اسی دوران ایران نے بھی سینکڑوں میزائل اور ہزاروں ڈرون داغ دیے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر یہ تباہ شدہ طاقت ہے تو مکمل طاقت کیسی ہوتی ہوگی۔ امریکی پالیسی میں سب سے دلچسپ تضاد یہ رہا کہ ایک طرف کہا جاتا رہا کہ ایرانی حکومت گر جائے گی اور دوسری طرف یہ فرمائش بھی ہوتی رہی کہ ایران امریکا کو نئے لیڈر کے انتخاب میں شامل کرے۔ یعنی حکومت گرے گی بھی اور لیڈر بھی وہی منتخب کریں گے جو حکومت گرانے آئے ہیں۔ یہ وہی منطق ہے جسے بین الاقوامی سیاست میں "امریکی منطق" کہا جا سکتا ہے۔
دراصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کو عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ بمباری سے ملک کھنڈر تو بن سکتے ہیں مگر ریاستیں نہیں ٹوٹتیں۔ خاص طور پر وہ ریاستیں جن کے پاس داخلی طاقت، نظریہ اور علاقائی اثر و رسوخ ہو۔ آج صورتحال یہ ہے کہ امریکا کے پاس بہت سے اہداف تھے مگر کوئی واضح انجام نہیں۔ رجیم چینج نہیں ہوا، داخلی بغاوت نہیں ہوئی، کرد کارڈ نہیں چلا اور زمینی حملہ ڈیتھ ٹریپ ہے جو کسی طور پر ممکن نہیں۔ چنانچہ اب سب سے حقیقت پسندانہ راستہ وہی رہ گیا ہے جو اکثر امریکی جنگوں کا آخری باب ہوتا ہے۔ ایک پریس کانفرنس اور ایک اعلان کہ امریکا نے اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔
اگر مجموعی تصویر کو دیکھا جائے تو یہ جنگ اس وقت ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو چکی ہے جسے عسکری زبان میں "مشن کریپ" کہا جاتا ہے۔ یعنی جنگ تو شروع ہو جاتی ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے مقاصد بدلتے جاتے ہیں اور انجام دھندلا جاتا ہے۔
امریکا کی مشکل یہ ہے کہ وہ اب کسی بھی طرح جنگ کو فتح کی کہانی بنانا چاہتا ہے جبکہ تہران کے لیے اس جنگ میں جیت کی تعریف ہی مختلف ہے۔ ایران کے لیے جیت کا معیار سادہ ہے۔ بس سروائیو کرنا۔ اگر ایران اس جنگ کے بعد بھی ویسی ہی ریاست کے طور پر کھڑا رہتا ہے تو وہ اسے اپنی کامیابی قرار دے سکتا ہے کہ اس نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ کیا اور پھر بھی اپنے نظام سمیت باقی رہا۔ جنگ کے بعد جو ایران سامنے آئے گا وہ شاید کمزور ہو، زخمی ہو، اس کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہو، اس کی معیشت تباہ ہو۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زخمی ریاستیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں اور زخمی ریاستیں عموماً زیادہ غیر متوقع ہوتی ہیں۔
اگر امریکا نے اپنی پوری عسکری طاقت استعمال کر لی اور ایران نے صرف اتنا کیا کہ وہ گرا نہیں تو یہی امریکا کی شکست ہوگی۔ جب آپ پوری طاقت لگا دیں اور سامنے والا صرف زندہ رہ کر ہی آپ کی فتح کی کہانی کو مشکوک بنا دے۔ اگر جنگ کے بعد بھی ایران باقی رہا تو تاریخ شاید یہ لکھے گی کہ واشنگٹن تہران کو مارنے نکلا تھا مگر تہران صرف مرنے سے انکار کرکے ہی مقابلہ جیت گیا۔

