Thursday, 12 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Aabna e Hormuz: Taqat, Tijarat Aur Kasheedgi Ka Sangam

Aabna e Hormuz: Taqat, Tijarat Aur Kasheedgi Ka Sangam

آبنائے ہرمز: طاقت، تجارت اور کشیدگی کا سنگم

دنیا کے نقشے پر چند مقامات ایسے ہیں جو محض جغرافیائی حدود نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کی سمت متعین کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز انہی حساس مقامات میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ بظاہر ایک معمولی گزرگاہ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہی وہ دروازہ ہے جس سے گزر کر دنیا کی توانائی کی ایک بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً بیس فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے، اسی لیے اس خطے میں پیدا ہونے والی معمولی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں کو بے چین کر دیتی ہے۔

اگر کسی بھی وجہ سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو سب سے فوری اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ سپلائی متاثر ہونے کے خدشے سے منڈیاں فوراً ردِعمل دیتی ہیں اور قیمتیں تیزی سے اوپر جانے لگتی ہیں۔ اس صورتحال میں بعض ممالک کو وقتی معاشی فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ، جس نے حالیہ برسوں میں توانائی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے، ایسی صورت میں مہنگے داموں تیل اور گیس برآمد کرکے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اسی طرح روس جیسے ممالک کو بھی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ ان کی معیشت بڑی حد تک توانائی کی برآمدات پر انحصار کرتی ہے۔

دوسری طرف اس صورتحال کا سب سے زیادہ دباؤ ان ممالک پر پڑتا ہے جو توانائی کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتے ہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور اس کی بڑی مقدار خلیجی ممالک سے آتی ہے۔ سپلائی میں کسی بھی رکاوٹ سے چین کی صنعت اور اقتصادی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ بھارت بھی اسی فہرست میں شامل ہے جہاں توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مہنگائی اور معاشی دباؤ کو بڑھا سکتا ہے۔

جاپان اور جنوبی کوریا جیسے صنعتی ممالک بھی اس صورتِ حال سے محفوظ نہیں رہتے۔ یہ ممالک تقریباً مکمل طور پر درآمدی توانائی پر انحصار کرتے ہیں اور ان کی بڑی سپلائی خلیجی خطے سے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی ان ممالک کے لیے فوری تشویش کا باعث بن جاتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ خلیجی ممالک خود بھی اس راستے کی بندش سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب، کویت اور عراق جیسے ممالک کی معیشت بڑی حد تک تیل کی برآمدات پر قائم ہے اور ان کی بڑی مقدار اسی راستے سے دنیا تک پہنچتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو ان کی برآمدات بھی محدود ہو سکتی ہیں اور معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ان تمام معاشی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس خطے کی عسکری اور سیاسی اہمیت بھی کم نہیں۔ حالیہ دنوں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کا بیان اس حساسیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا کوئی بھی جہاز ایران کی اجازت کے بغیر وہاں سے نہیں گزر سکتا۔ ان کے مطابق چند جہازوں نے ایرانی انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کی مگر انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

ایسے بیانات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ آبنائے ہرمز صرف تجارت کا راستہ نہیں بلکہ طاقت کے اظہار کا میدان بھی ہے۔ یہاں موجود ہر کشیدگی عالمی معیشت، سیاست اور سلامتی کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھتی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی ہلکی سی لرزش بھی عالمی نظام میں بڑی ہلچل پیدا کر سکتی ہے۔

Check Also

Aabna e Hormuz: Taqat, Tijarat Aur Kasheedgi Ka Sangam

By Noorul Ain Muhammad