Thursday, 12 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Tehzeeb Ki Qirrat

Tehzeeb Ki Qirrat

تہذیب کی قرأت

ایک قدیم حکایت ہے کہ ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: "استادِ محترم! اگر کوئی دشمن ہمیں مسلسل للکارتا رہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟" استاد نے مسکرا کر شاگرد کو ایک کنویں کے پاس لے جا کر کہا: "اس کنویں میں جھانکو اور مجھے بتاؤ کیا نظر آتا ہے"۔ شاگرد نے جھانک کر کہا: "میرا اپنا چہرہ"۔ استاد نے ایک کنکر کنویں میں پھینکا۔ پانی میں لہریں اٹھیں اور عکس بکھر گیا۔ استاد نے کہا: "جب تم دوسروں کے پتھر کا جواب دینے لگتے ہو تو تمہارا اپنا چہرہ بھی بکھر جاتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ تم اپنے وجود کو اس طرح مستحکم کرو کہ کوئی کنکر تمہاری پہچان کو نہ بگاڑ سکے"۔ شاگرد خاموش ہوگیا، کیونکہ اس نے جان لیا کہ اصل مسئلہ دشمن کے کنکر نہیں بلکہ اپنے عکس کی حفاظت ہے۔

اسی حکایت کی طرح ہمارے عہد کی ایک بڑی فکری الجھن یہ ہے کہ ہم مغرب سے لڑنے کو اپنی سب سے بڑی فکری ذمہ داری سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ بعض اہلِ فکر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مغرب سے لڑنا دراصل مغرب کے جال میں پھنسنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم اپنی فکر، اپنی تہذیب اور اپنے ایمان کی بنیاد پر دنیا کو نئے سرے سے سمجھنے اور بیان کرنے کی صلاحیت پیدا نہ کر سکیں تو ہم خواہ جتنی بھی بلند آواز میں مخالفت کرتے رہیں، دراصل اسی فکری دائرے کے اندر قید رہیں گے جس سے نکلنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

تہذیبی خودی کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ہر لمحہ ردعمل کی کیفیت میں رہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم بے نیازی کی ایسی حالت اختیار کریں جس میں ہم دنیا کی تعبیر اپنے ایمانی شعور کی روشنی میں کریں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تہذیبیں دوسروں کے مقابلے میں نہیں بلکہ اپنے باطن کے استحکام سے زندہ رہتی ہیں۔ دراصل تہذیب کی اصل طاقت اس کے تصورات، اس کے معانی اور اس کے اخلاقی ڈھانچے میں ہوتی ہے۔ جب یہ بنیاد مضبوط ہو تو بیرونی چیلنج محض ایک امتحان رہ جاتے ہیں، بحران نہیں بنتے۔

ہماری اجتماعی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل کی تشخیص میں اکثر غلطی کر جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ حالات کی خرابی ہے، سیاسی بحران، معاشی تنگی، عالمی دباؤ یا داخلی انتشار، لیکن حقیقت میں مسئلہ اس سے کہیں گہرا ہے۔ اصل مسئلہ احوال کی پستی ہے، یعنی وہ داخلی کیفیت جس میں انسان یا معاشرہ اپنی روحانی، اخلاقی اور فکری سطح کھو دیتا ہے۔ جب احوال پست ہو جائیں تو بہترین حالات بھی انسان کو بلند نہیں کر سکتے اور جب احوال بلند ہوں تو مشکل حالات بھی انسان کو توڑ نہیں پاتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے باطن کو سنوارا، ان کے بیرونی حالات بھی بدلتے گئے۔ لیکن جو قومیں صرف حالات کے شکوے کرتی رہیں، وہ اپنے اندر کی کمزوریوں کو دیکھنے سے محروم رہیں۔ اس لیے اصل اصلاح کا میدان سیاست یا معیشت سے پہلے انسان کا باطن ہے۔ جب انسان کے اندر کا چراغ روشن ہو جائے تو اندھیری راتیں بھی راستہ دکھانے لگتی ہیں۔

اسی داخلی کمزوری کا ایک اظہار ہمارے فکری مباحث میں بھی نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر تصوف کے بارے میں ہمارے ہاں ایک ایسا ڈسکورس پیدا ہوگیا ہے جس میں اکثر اوقات رد اور انکار کا لہجہ زیادہ غالب ہے۔ بعض اہلِ فکر اس رویے کو درست نہیں سمجھتے، کیونکہ ان کے نزدیک تصوف کی تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر اس کے نام پر پورے روحانی ورثے کو مشکوک بنا دینا انصاف نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ تصوف پر تنقید کرتے ہیں، ان کی نیت پر بھی شک نہیں کیا جاتا، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اپنی دیانت اور اخلاص میں بہت بلند ہوں۔

مسئلہ دراصل نیت کا نہیں بلکہ فکری توازن کا ہے۔ اسلامی تہذیب کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس کے بڑے بڑے علمی اور روحانی دھارے ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ تکمیل کرنے والے تھے۔ فقہ نے شریعت کی ظاہری ساخت کو سنبھالا، تصوف نے اس کے باطنی جوہر کو زندہ رکھا اور فلسفہ و کلام نے اس کے فکری پہلو کو مضبوط کیا۔ جب یہ تینوں دھارے ہم آہنگ رہے تو تہذیب بھی متوازن رہی اور جب ان کے درمیان کشمکش بڑھ گئی تو فکری انتشار نے جنم لیا۔ اس لیے ہمیں اپنے علمی ورثے کو رد و قبول کی تنگ عینک سے نہیں بلکہ ایک وسیع تہذیبی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

یہی بات علم کے تصور پر بھی صادق آتی ہے۔ کوئی بھی علم خلا میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ ایک خاص تصورِ علم کے تابع ہوتا ہے۔ جب کوئی تہذیب علم کو پیدا کرتی ہے تو دراصل وہ اپنے بنیادی تصورات کو علم کے قالب میں ڈھالتی ہے۔ اسی لیے جدید دنیا میں علم کی جو صورت ہمارے سامنے ہے، وہ بھی ایک خاص تہذیبی پس منظر کی پیداوار ہے۔ جدیدیت یا ماڈرنٹی محض ایک تاریخی مرحلہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری ڈسکورس ہے اور ماڈرن ازم اس کا ایک عملی مظہر ہے جسے جدید عقل نے قبول کر لیا ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اس ڈسکورس سے واقف ہوں یا نہ ہوں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کے اندر رہ کر اپنی فکری خودمختاری کیسے برقرار رکھیں۔ اگر ہم بغیر سوچے سمجھے اس ڈسکورس کو قبول کر لیں تو ہماری علمی روایت کمزور ہو جائے گی اور اگر ہم اسے سمجھے بغیر رد کر دیں تو ہم علمی دنیا سے کٹ جائیں گے۔ اس لیے دانش کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ایمانی شعور کی بنیاد پر علم کے ایسے تصورات پیدا کریں جو ہمارے روحانی اور اخلاقی ورثے سے ہم آہنگ ہوں۔

اسی تناظر میں شریعت کے نفاذ کا مسئلہ بھی محض قانونی بحث نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی سوال بن جاتا ہے۔ شریعت کی اصل روح یہ ہے کہ اس کے قوانین انسان کے اخلاق میں ڈھل جائیں۔ اگر قانون صرف جبر بن کر رہ جائے تو وہ معاشرے کو بہتر نہیں بنا سکتا۔ قانون کا کمال یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ایسی اخلاقی تربیت پیدا کرے کہ وہ قانون کی پابندی محض خوف سے نہیں بلکہ شعوری ذمہ داری کے طور پر کرے۔ اسلامی تہذیب کا اصل تصور بھی یہی تھا کہ قانون اخلاق کا ذریعہ بنے اور اخلاق ایمان کا عکس۔ مگر جب ہم شریعت کو صرف قانونی ڈھانچے کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں تو اس کی روح نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات شریعت کے نفاذ کی بحث ایک جذباتی اور سیاسی نعرہ بن کر رہ جاتی ہے، حالانکہ اس کا اصل مقصد انسان کے اخلاقی ارتقا کو یقینی بنانا تھا۔

یہی داخلی انتشار ہمیں ایک عجیب تہذیبی کیفیت میں مبتلا کر چکا ہے جسے بعض اہلِ فکر "تہذیبی شیزوفرینیا" کہتے ہیں۔ اس کیفیت میں انسان اپنی ہی نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ ہم بظاہر ایک خیالی غلبے کی لذت میں مبتلا رہتے ہیں اور ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ حقیقت میں ہم فکری اور تہذیبی مغلوبیت کا شکار ہیں۔ اس مغلوبیت کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ہمیں اپنے اصل مسئلے کا شعور نہیں ہونے دیتی۔

ہم اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے کے بجائے انکار اور خودفریبی کے پردوں میں چھپاتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم نشاةِ ثانیہ کا تصور بھی اکثر ایک رومانوی سیاسی خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ اس تصور کے پیچھے جذبہ تو خالص ہوتا ہے مگر اس کی بنیاد زیادہ تر سیاسی تخیل پر ہوتی ہے، جس میں خلافتِ راشدہ کو بھی محض ایک سیاسی نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اس کی اصل روح اخلاقی اور روحانی قیادت تھی۔ جب تک ہم اس حقیقت کو نہیں سمجھیں گے کہ تہذیبیں محض سیاسی قوت سے نہیں بلکہ اخلاقی عظمت سے زندہ ہوتی ہیں، تب تک نشاةِ ثانیہ کا خواب ایک خواب ہی رہے گا۔

آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تہذیبی شعور کو دوبارہ زندہ کریں۔ اس شعور کی بنیاد ایمان، اخلاق اور علم کے باہمی ربط پر ہے۔ اگر ہم اپنے ایمانی شعور کو علم کی تشکیل کا مرکز بنا لیں تو ہماری تہذیب میں وہ تازگی دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے جو کبھی اس کی پہچان تھی۔ ہمیں ردعمل کی نفسیات سے نکل کر تخلیق کی نفسیات میں داخل ہونا ہوگا۔ دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ ایک زندہ تہذیب اپنے آپ کو نئے زمانوں میں کس طرح نئے معانی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں احساسِ مغلوبیت سے نکال کر حقیقی خودی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ تہذیب کی قرأت دراصل یہی ہے کہ ہم اپنے باطن کو پہچانیں، اپنے علم کو اپنے ایمان سے جوڑیں اور اپنی تاریخ سے وہ روشنی حاصل کریں جو آنے والے زمانوں کا راستہ روشن کر سکے۔

تہذیبیں صرف عمارتوں، ایجادات یا سیاسی طاقت سے زندہ نہیں رہتیں۔ ان کی اصل زندگی ان کے باطن میں ہوتی ہے، اس شعور میں جو انسان کو اپنے رب سے جوڑتا ہے اور دنیا کو اخلاق کے آئینے میں دیکھنا سکھاتا ہے۔ جب یہ شعور بیدار ہو جائے تو زوال کی دھند بھی امید کی صبح میں بدل سکتی ہے۔

دل میں چراغِ فکر جلا کر تو دیکھئے
اپنا جہاں نیا سا بنا کر تو دیکھئے

مغرب کے شور میں نہ گنو اپنی داستاں
خاموشیِ خودی کو سنا کر تو دیکھئے

جو کچھ بھی کھو گیا ہے وہیں مل بھی جائے گا
اپنے وجود کو ذرا پا کر تو دیکھئے

قانون بھی اخلاق کا آئینہ بنے گا تب
دل میں خدا کا خوف بسا کر تو دیکھئے

تہذیب کی قرأت کا یہی ہے پہلا سبق
اپنی نگاہ خود پہ جما کر تو دیکھئے

Check Also

Aabna e Hormuz: Taqat, Tijarat Aur Kasheedgi Ka Sangam

By Noorul Ain Muhammad