Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Tyre Puncture

Tyre Puncture

ٹائر پنکچر

علی سہیل نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی جبکہ خرم فرنٹ پسنجر سیٹ پر اس کے ہمراہ بطور گائیڈ براجمان ہوگیا، پچھلی سیٹوں پر افتی، رانا کاشف اور میں بیٹھ گئے، خرم کی رہنمائی مطابق مختلف راستوں سے گزرتے ایک پٹرول سٹیشن پر رکے، خرم کے بقول "یہ اس راستے پر آخری پٹرول و سروس سٹیشن ہے، یہاں سے گاڑی کا ٹنک فل کروالو ورنہ راستے میں کچھ نہیں ملے گا"۔ پیٹرول کے علاوہ ٹائروں میں ہوا چیک کروائی اور روانہ ہوگئے۔

سڑک کی حالت نارمل تھی، خرم نے بتایا "پہلے یہ سڑک بہت اچھی تھی، کہیں کہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، یہاں ٹریفک کم ہوتی ہے اس لئے تعمیر پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، موسم سرما ختم ہونے کے بعد سڑک پر بننے والے گڑھوں کو ایک طرح کا پنکچر لگا کر مرمت کی جاتی ہے، یوں اس سڑک پر سفر کرنا ممکن ہو جاتا ہے"۔ دوران سفر دوست احباب میری کلاس لگاتے رہے اور مذاق اڑاتے رہے جبکہ میں ڈھیٹ بن کر ان کے طعنوں کا سامنا کرنے پر مجبور تھا، کمینوں نے مجھے درمیان میں پھنسا کر بٹھا رکھا تھا۔

آگے سڑک ہموار میسر ہونے باعث ایک گھنٹے میں اسی کیلومیٹر کا فاصلہ طے کر آئے تھے اور امید تھی کی باقیماندہ سفر دو سے اڑھائی گھنٹوں میں طے ہو جائے گا کہ علی سہیل نے بم پھوڑا "اوہ شٹ، ٹائر پنکچر ہوگیا ہے"۔

خرم بولا "پنکچر ٹائر کے ساتھ آگے جانا خطرناک ہے، بعض جگہوں پر انتہائی خطرناک موڑ بھی ہیں"۔ اضافی سٹپنی موجود تھی لیکن اس کے ساتھ لمبا سفر نہیں کر سکتے تھے، خرم کی بات میں منطق تھی، مجبوراً واپس مڑے، ایک دوسرے سے ہماری نوک جھونک جاری تھی، اسی پٹرول سٹیشن پر پہنچے، ٹائر پنکچر والا دکان بند کرکے جا چکا تھا، یورپ و رشیا میں کام کے اوقات مقرر ہیں اور ہر انسان ان پر سختی سے عمل کرتا ہے، ہم کو شہر کی سمت جانا پڑا، ایک سے دوسری جگہ گھومنا شروع کیا لیکن پنکچر کی سب دکانیں بند تھیں۔

گھومتے ہوئے اسی ڈونر کباب ریسٹورنٹ پر واپس پہنچے، کرسیاں سنبھال کر بیٹھے ہی تھی کہ خوش پوشاک رشین ویٹرس آگئی، اس نے اپنے تئیں کھانے کا مینیو ہمارے سامنے رکھا، میں نے بے دھیانی میں اسے پوچھا "ٹائر پنکچر دستیاب ہے؟"

میری بات سن کر وہ چونکی، اس کا منہ بن گیا جبکہ باقی دوست قہقہے لگانے لگے، ویٹرس کی حیرت دور کرنے کیلئے جب معاملہ تو وہ بھی ہنسی میں شامل ہوگئی، اس نے رہنمائی کی "دو گلیاں پیچھے ایک ٹائر پنکچر دکان ہے لیکن وہ اس وقت بند ہوگی"۔

یہ سنتے ہی سب کے منہ اتر گئے، خرم نے بے دلی سے جواب دیا "یہ تو ہم کو بھی معلوم ہے کہ اس وقت دکانیں بند ہوں گی"۔

ویٹرس وضاحت کرتے بولی "میری پوری بات سنو، پنکچر والے کا گھر اس دکان کے ساتھ واقع ہے" اور راستہ بتانے لگی۔

خرم شکریہ ادا کرتے بولا "میں راستہ سمجھ لیا ہے"۔ یہ سنتے ہی ہم اٹھے، جاتے جاتے علی سہیل پیچھے مڑا اور جیب سے ایک نوٹ نکال کر ٹیبل پر بطور ٹپ رکھ دیا۔

ٹائر پنکچر والے کی ڈور بیل بجائی، وہ ایپرن باندھے ہاتھ میں بڑا چمچ پکڑے نمودار ہوا، ہم نے اسے مشکل بتائی لیکن اس نے صاف ٹرخا دیا، "دکان کا وقت ختم ہو چکا ہے اور میں اس وقت کھانا پکا رہا ہوں"۔

خرم نے خوشامد کی "میرے دوست سیمی پلاٹنسک سے آئے ہیں اور ہم گلوبوئی زالیف جا رہے ہیں، یہ سب مہمان ہیں، ہم 80 کیلومیٹر سفر طے کرکے واپس آئے ہیں، اگر آپ مہربانی کریں تو ہمارا سفر آسان ہو سکتا ہے"۔

دکاندار نے چمچے سے سر کھجایا، ہمیں وہیں انتظار کرنے کا بول کر اندر گیا، ایپرن سمیت واپس آیا، چمچہ اب اس کے ہاتھ میں نہ تھا، ہمیں گاڑی دکان کی سمت لانے کا بول کر آگے بڑھ گیا، پنکچر مرمت کروا کر اس کا شکریہ ادا کیا اور قیمت ادا کرنا چاہی تو اس نے وصول کرنے سے انکار کر دیا، ہمارے بے حد اصرار پر بھی اس نے قیمت وصول نہ کی، بلکہ اپنی جیب سے ایک سکہ نکال کر ہمارے حوالے کیا اور بولا "یہ سکہ میری طرف سے گلوبوئی زالیف کی جھیل میں پھینک دینا تاکہ میری وہاں حاضری قبول ہو جائے"۔ یہ فلسفہ ہمارے لئے سراسر نیا تھا۔

ہمیں الجھن میں دیکھ کر وہ خود ہی بولا "اچھے دنوں میں، میں ہر سال اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گلوبوئی زالیف جاتا تھا، اب دس سال سے وہاں جانا نصیب نہیں ہوا"۔ اس کا دکھ ہم پوری طرح سمجھ گئے، ہم نے باری باری اس سے ہاتھ ملایا اور امید ظاہر کی کہ وہ اس سال یا اگلے سال گلوبوئی زالیف ضرور جائے گا اور اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ گاڑی میں اگر سیٹ خالی ہوتی تو اسے اپنے ساتھ بٹھا لیتے، پنکچر والے نے ہمیں وہیں رکنے کا بولا، گھر کے اندر گیا اور تازہ سلاد کی ٹوکری اٹھا لایا، اس کے بے حد اصرار پر ہمیں قبول کرنا پڑی۔

پنکچر مرمت مہم سر کرنے تک رات کے ساڈھے آٹھ بج چکے تھے اور ہم کو ایک مرتبہ پھر سے زیرو پوائنٹ سے سفر کا آغاز کرنا پڑا، راستے میں احتیاطاً اسی پٹرول سٹیشن سے دوبارہ پٹرول ٹنک فل کروایا، جس مقام پر ٹائر پنکچر ہوا تھا وہاں تک پہنچتے رات کے ساڈھے نو بج گئے، یعنی ہم 240 کیلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد بھی ہنوز راستے میں تھے، اندھیرا گہرا ہو رہا تھا، اب تک راستے میں کوئی گاڑی سامنے یا عقب سے نظر نہ آئی تھی اور نہ ہی کوئی سائن بورڈ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا کہ ہم صحیح راستے پر گامزن تھے یا خواری مقدر تھی، تاہم خرم کی موجودگی کے باعث اطمینان تھی اور ہم راستہ بھٹکنے سے محفوظ رہے تھے، رات کا اندھیرا اب پوری طرح پھیل چکا تھا، علی سہیل نے سپیڈ کم کر دی تھی۔

خرم جو فرنٹ سیٹ پر آڑھا ترچھا بیٹھا نما لیٹا ہوا تھا، سیدھا ہوتے بولا "اپنے پاسپورٹ تیار رکھو، 10 کیلومیٹر بعد بائیکا نور خلائی سٹیشن مرکز کی چیک پوسٹ ہے، وہاں بہت سخت چیکنگ ہوتی ہے، ہو سکتا ہے کہ پوچھ گچھ کیلئے ہمیں روک لیں لیکن پریشان مت ہونا"۔ یہ سنتے ہی سب چوکنے ہوگئے اور اپنے اپنے پاسپورٹس نکال کر خرم کو تھما دیئے۔

تھوڑی دیر بعد چیک پوسٹ کی لائٹیں دور سے نظر آنے لگیں، چند گاڑیاں آگے کھڑی تھیں، ملٹری یونیفارم پہنے افراد پوچھ تاچھ کر رہے تھے، سراغرساں کتے ہر فرد اور گاڑی کو سونگھ رہے تھے، گاڑیوں کی ڈکی کھلوا کر بھی دیکھا اور کتوں سے سونگھوایا جا رہا تھا۔

ہماری باری آنے پر آفیسر نے جھک کر گاڑی میں جھانک کر دیکھا "دوبرو پژالووت، کُودا وی پائیدوتے؟" یعنی "خوش آمدید، کہاں جا رہے ہو؟"

خرم نے جواب دیا "گلوبوئی زالیف"، آفیسر نے ہمارے پاسپورٹس مانگے جو خرم نے اس کے حوالے کر دیئے، آفیسر نے تمام پاسپورٹس کا بغور مشاہدہ کیا، گاڑی ایک طرف کھڑی کرنے کا حکم دیکر خود چیک پوسٹ کی عمارت کی طرف چل دیا۔

اس دوران ایک اہلکار کتے کی مدد سے ہماری گاڑی کی تلاشی لیتا رہا، چند لمحوں بعد اس کا سینیئر آفیسر ہمارے پاسپورٹ تھامے آیا، سب کے باری باری نام پکار کر تصدیق کی، اس کے استفسار پر میں نے بتایا "ہم سیمی پلاٹنسک یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں، اُست کامن گورد اپنے دوست سے ملنے کیلئے آئے تھے اور گلوبوئی زالیف کی تعریف سن کر وہاں جا رہے ہیں، راستے میں ٹائر پنکچر ہونے کی وجہ سے 80 کیلومیٹر واپس جانا پڑا تھا، بہت لیٹ ہو چکے ہیں، رات کا اندھیرا پھیلنے سے پہلے گلوبوئی زالیف پہنچنا چاہتے ہیں"۔

وہ آفیسر قہقہہ بلند کرکے ہنسا، ہمارے پاسپورٹس واپس کرتے بولا "زندگی میں پہلی مرتبہ غیر ملکیوں کو گلوبوئی زالیف کی سمت جاتے دیکھ رہا ہوں، خیر، میں آپ کا وقت ضائع نہیں کروں گا، جاؤ اور اپنا سفر انجوائے کرو، بیسٹ آف لک"۔

Check Also

Pakistan Waqai Aik Jannat Hai

By Syed Mehdi Bukhari