Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Do Wardatein

Do Wardatein

دو وارداتیں

دو وارداتیں ایسی ہیں جو مکمل ہوجائیں تو مجرم تاریخ میں فاتح کہلاتا ہے اور ادھوری رہ جائیں تو قانون اسے مجرم لکھتا ہے۔ ایک خودکشی، دوسری تختہ الٹنے کی کوشش۔ دونوں میں نیت پختہ، منصوبہ بندی باریک، ساتھی قابلِ اعتماد اور رفتار بجلی جیسی چاہیے۔ ذرا سی ہچکچاہٹ، معمولی سی دراڑ یا ایک آدھ بے وقت وفاداری بدلنے والا کردار پوری بساط لپیٹ دیتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خودکشی میں آدمی اپنی جان لیتا ہے جبکہ کُو میں اکثر دوسروں کی سیاسی زندگی لے کر اپنی بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

تاریخ اٹھا کر دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کئی حکومتیں اتنے کم لوگوں نے گرائی ہیں جتنے بندے ہمارے ہاں ایک شادی میں بریانی کے دیگچے کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ افریقہ کے کئی ممالک میں دو درجن بندوق بردار جوان آدھی رات کو ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کرتے، صبح قوم کو بتایا جاتا کہ ملک بچا لیا گیا ہے اور شام تک نئے صدر کی تصویر سرکاری دفاتر میں لگ جاتی۔ جزائر کوموروز میں تو کرائے کے چند غیر ملکی رئیٹائرڈ فوجی آئے، صدر کو گرفتار کیا، نیا صدر بٹھایا، معاوضہ لیا اور اگلی فلائٹ سے روانہ ہوگئے۔ جیسے حکومت نہیں فرنیچر شفٹ کیا گیا ہو۔

اسی دور میں امریکی سی آئی اے نے جواں سال بادشاہ رضا شاہ پہلوی سے سازباز کرکے تہران کے چند لفنگوں کو پیسے دے کر دو دن کرائے کے مظاہرے کرائے جن میں ٹریکٹر ٹرالیاں بھر بھر کے مضافاتی علاقوں سے کسان لائے جاتے اور پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے کرا کے نعرے لگوائے جاتے۔ اس ڈرامے کو وزیراعظم مصدق کے خلاف عوامی بے چینی کا رنگ دیا گیا اور فوج نے پوری کابینہ کو حراست میں لے کر حکومت برخواست کردی۔ اللہ اللہ خیر صلیٰ۔ کیونکہ فوج کی ہائی کمان سی آئی اے کے ساتھ آن بورڈ تھی۔

پاکستان جیسے ممالک میں جہاں فوج سب سے منظم ادارہ سمجھی جاتی ہے وہاں کسی ایک یا دو افسر کی مہم جوئی کامیاب ہونا بہت مشکل ہے۔ تختہ پلٹنے کی صرف وہی کوششیں کامیاب ہو سکیں جو اعلیٰ فوجی ہائی کمان نے متفقہ طور پر کیں اور ہم خیال سیاسی شخصیات کو بھی بطور شامل باجا ساتھ رکھا۔ مگر اس میں بھی آخر وقت تک دھڑکا لگا رہتا تھا۔ جیسے جنرل ضیا الحق سے منسوب وہ فقرہ جو انہوں نے کُو سے ذرا پہلے مبینہ طور پر پنڈی کے کور کمانڈر جنرل چشتی سے کہا تھا "مرشد، کہیں مروا نہ دینا"۔

واحد جوابی کُو جنرل پرویز مشرف کا تھا جس میں چند گھنٹے کے لیے ایسا محسوس ہوا گویا فوج نواز شریف کا تختہ پلٹنے کے معاملے پر تقسیم ہے لیکن یہ عمل اس لیے کامیاب ہوا کیونکہ بارہ اکتوبر 1999 کو ڈھائی گھنٹے کے چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹننٹ جنرل ضیا الدین بٹ کو کسی ہم پلہ افسر کی حمایت نہ مل سکی۔

صرف وہی کُو لمبے عرصے تک پائیدار رہے جنہیں یونٹی آف کمانڈ کے تحت برپا کیا گیا۔ نو مئی فوج میں بغاوت کرانے کا منصوبہ اس لیے کامیاب نہ ہو پایا کہ جنرل فیض کو ہائی کمانڈ میں سے کسی کی حمایت نہیں مل سکی۔ کہا جاتا ہے فیض انتہائی پراعتماد تھے اور منصوبہ سازی پکی تھی۔ عمران خان صاحب کا فرمان رہا کہ یہ فالس فلیگ تھا۔ البتہ پارٹی کارکنان جوق در جوق اس مبینہ فالس فلیگ کا حصہ بنے یا ٹریپ ہوئے اور اس کا خمیازہ انہوں نے بھگتا۔ مرکزی کرداروں نے بھی بھگتا۔ فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائیاں ہوئیں۔ سیاسی قیادت اور کارکنان جیلوں میں ڈالے گئے۔ نو مئی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ کسی فیض کے فیض سے فیضیاب ہونے کی سعی کرنا خطرناک نتائج لاتا ہے۔

Check Also

Khota Sikka

By Shaheen Kamal