Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Zaheer Ahmad Babar: Kamal Ki Khamosh Roshni

Zaheer Ahmad Babar: Kamal Ki Khamosh Roshni

ظہیر احمد بابر: کمال کی خاموش روشنی

"دکھاوے کی کوشش مت کرو، جب کمال کو پہنچو گے تو خود ہی نظروں میں آ جاؤ گے"، یہ مختصر سا جملہ بظاہر چند الفاظ پر مشتمل ہے مگر اپنے اندر زندگی کی ایک پوری حکمت، ایک مکمل فلسفہ اور ایک عظیم انسانی تجربہ سموئے ہوئے ہے۔ آج کا انسان سب سے زیادہ اگر کسی بیماری میں مبتلا ہے تو وہ خود کو ثابت کرنے کی جلدی ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ لوگ اسے دیکھیں، اس کی تعریف کریں، اس کی موجودگی کو محسوس کریں، اس کے لباس، اس کی دولت، اس کی گفتگو، اس کے تعلقات اور اس کی کامیابیوں کو سراہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دکھاوا ہمارے معاشرے کا سب سے عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔

لوگ اپنے اصل سے زیادہ اپنی تصویر بنانے میں مصروف ہیں۔ کسی کو اپنی زندگی سے زیادہ اپنی نمائش عزیز ہے۔ ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں حقیقت سے زیادہ تاثر کی قیمت بڑھ چکی ہے۔ مگر تاریخ اور فطرت کا ایک اٹل اصول ہے کہ اصل کمال کو کبھی اشتہار کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے اعلان نہیں کرتا کہ میں آنے والا ہوں۔ پھول کھلنے سے پہلے دنیا کو خبر نہیں دیتا کہ میری خوشبو راستے میں ہے۔ دریا اپنی روانی کا چرچا نہیں کرتے، پہاڑ اپنی بلندیوں کا شور نہیں مچاتے اور آسمان اپنی وسعتوں کی تشہیر نہیں کرتا۔ جو واقعی عظیم ہوتا ہے، وہ اپنی ذات کی طاقت سے پہچانا جاتا ہے، نہ کہ اپنے دعووں سے۔

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ نتیجہ حاصل کرنے سے پہلے پذیرائی چاہتا ہے۔ طالب علم علم حاصل کرنے سے پہلے دانشور بننے کا خواب دیکھنے لگتا ہے۔ لکھنے والا مطالعے اور ریاضت سے پہلے شہرت چاہتا ہے۔ کاروبار شروع ہونے سے پہلے کامیاب تاجر کہلانے کی خواہش دل میں جنم لے لیتی ہے۔ عبادت میں خشوع پیدا ہونے سے پہلے پارسائی کا تاثر پیدا کرنے کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ یہی جلد بازی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اصل کمال مسلسل محنت، خاموش جدوجہد، صبر، استقامت اور خود احتسابی سے پیدا ہوتا ہے۔

جو شخص ہر وقت اپنی تشہیر میں لگا رہے، وہ اپنی توانائی کا بڑا حصہ لوگوں کو متاثر کرنے میں خرچ کر دیتا ہے، جبکہ جو شخص خاموشی سے اپنی تعمیر میں مصروف رہتا ہے، وہ ایک دن ایسا مقام حاصل کر لیتا ہے جہاں دنیا خود اس کی طرف متوجہ ہونے لگتی ہے۔ سقراط نے کبھی خود کو حکیمِ اعظم کہنے کی کوشش نہیں کی، مگر صدیوں بعد بھی دنیا اسے دانائی کی علامت مانتی ہے۔ مولانا رومی نے اپنی روحانی عظمت کا کبھی اشتہار نہیں لگایا، مگر آج بھی ان کے اشعار دنیا کے دلوں میں روشنی پیدا کرتے ہیں۔ عبد الستار ایدھی نے خدمت کے سفر کا آغاز خاموشی سے کیا، مگر ان کی سادگی، اخلاص اور انسان دوستی نے انہیں ایسا مقام دیا کہ دنیا احترام سے ان کا نام لیتی ہے۔

اسی اصول کی ایک نہایت خوبصورت اور معاصر مثال ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی شخصیت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض لوگ اپنی کامیابیوں سے پہلے اپنی تشہیر کرتے ہیں، جبکہ بعض ایسی خاموشی کے ساتھ کام کرتے ہیں کہ ان کا کردار خود ان کا تعارف بن جاتا ہے۔ پچھلے سال سات مئی کی رات جب پورا خطہ غیر یقینی کیفیت میں مبتلا تھا، تب پاکستانی فضائیہ نے جس پیشہ ورانہ مہارت، دلیری، نظم و ضبط اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا۔

ایک نسبتاً محدود وسائل رکھنے والی فضائی قوت نے اپنے سے کئی گنا بڑی اور جدید سمجھی جانے والی فضائی طاقت کو جس اعتماد اور مہارت سے جواب دیا، وہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ برسوں کی خاموش تیاری، مسلسل محنت، اعلیٰ تربیت اور غیر معمولی قیادت کا نتیجہ تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کامیابی کے بعد بھی نہ کوئی ذاتی تشہیر، نہ اپنی بہادری کے قصے، نہ خود ستائی کے بیانات۔ یہی اصل عظمت ہوتی ہے۔ بڑے لوگ اپنی کامیابیوں کا شور نہیں مچاتے، ان کے کارنامے خود بولتے ہیں۔ آج بھی اگر عوامی حلقوں میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے تو اس کی وجہ اشتہارات نہیں بلکہ کردار، صلاحیت اور خاموش قیادت ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان خود لوگوں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اس کا کمال خود راستہ بنا لیتا ہے اور زبان زدِ عام ہو جاتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ کامیابی کی محنت کے بغیر کامیابی کی پہچان چاہتا ہے۔ ہم نے ظاہری نمود کو اصل کامیابی سمجھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور نے اس بیماری کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی جینے سے زیادہ اسے دکھانے میں مصروف ہیں۔ ایک معمولی کامیابی کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے کوئی عظیم کارنامہ سر انجام دے دیا گیا ہو۔ لوگ کتاب کم پڑھتے ہیں، کتاب کے ساتھ تصویر زیادہ بنواتے ہیں۔ عبادت کم کرتے ہیں، عبادت کا تاثر زیادہ دیتے ہیں۔ خوشی کم محسوس کرتے ہیں، خوش نظر زیادہ آنا چاہتے ہیں۔

اس مصنوعی دنیا میں خاموش محنت کرنے والا انسان اکثر تنہا محسوس کرتا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ دیرپا کامیابی ہمیشہ خاموش ریاضت سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک کسان جب زمین میں بیج بوتا ہے تو فوراً فصل کا شور نہیں مچاتا۔ وہ صبر کرتا ہے، موسموں کی سختیاں برداشت کرتا ہے، تب کہیں جا کر سنہری بالیاں لہلہاتی ہیں۔ انسان کی شخصیت بھی ایک کھیت کی مانند ہے۔ اگر اس میں علم، کردار، صبر، دیانت اور اخلاص کے بیج بوئے جائیں تو وقت کے ساتھ ایک عظیم شخصیت جنم لیتی ہے۔ مگر اگر صرف دکھاوے کی کھاد ڈالی جائے تو وقتی سبزہ تو اگ سکتا ہے، پائیدار درخت نہیں بن سکتا۔

زندگی میں سب سے زیادہ باوقار لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی قیمت خود طے نہیں کرتے بلکہ وقت ان کی قدر متعین کرتا ہے۔ جو لوگ ہر وقت اپنی تعریف کے طلبگار رہتے ہیں، وہ دراصل اندر سے غیر مطمئن ہوتے ہیں۔ خود اعتمادی خاموش ہوتی ہے، جبکہ عدم تحفظ شور مچاتا ہے۔ ایک قابل استاد کو کبھی یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ علم رکھتا ہے، اس کے شاگرد خود اس کی گواہی بن جاتے ہیں۔ ایک اچھا لکھاری اپنی تحریروں سے پہچانا جاتا ہے، نہ کہ اپنی تعریفوں سے۔ ایک باکردار انسان کو اپنی شرافت کے سرٹیفکیٹ تقسیم نہیں کرنے پڑتے، اس کا رویہ ہی اس کی پہچان بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں وہ لوگ دیر تک زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اپنی ذات سے زیادہ اپنے کام کو اہمیت دی۔ آج بھی ہم اقبال کو ان کی فکر سے پہچانتے ہیں، قائد اعظم کو ان کی استقامت سے اور اشفاق احمد کو ان کی دانائی سے۔ اگر یہ لوگ صرف اپنی شخصیت کی نمائش میں لگے رہتے تو شاید وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جاتے۔ اصل عظمت انسان کے کام، اس کے کردار اور اس کی نیت سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ اس کے شور سے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دکھاوا وقتی طور پر متاثر تو کر سکتا ہے مگر دیر تک احترام پیدا نہیں کر سکتا۔ لوگ وقتی چمک دمک سے متاثر ہو سکتے ہیں مگر آخرکار وہی انسان دلوں میں جگہ بناتا ہے جس کے اندر سچائی، قابلیت اور خلوص ہو۔ سونے کو بازار میں جا کر چیخنا نہیں پڑتا کہ میں قیمتی ہوں۔ ہیرے کو اپنی قیمت ثابت کرنے کے لئے شور نہیں کرنا پڑتا۔ اصل قدر خود اپنا تعارف بن جاتی ہے۔ انسان جب اپنے آپ کو بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی شخصیت میں ایک نور، ایک وقار اور ایک کشش پیدا ہونے لگتی ہے۔ ایسے لوگ کم بولتے ہیں مگر ان کی موجودگی بولتی ہے۔ وہ کم دکھائی دیتے ہیں مگر جہاں ہوتے ہیں وہاں اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں وزن، ان کے رویے میں توازن اور ان کے کردار میں اعتماد ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ہر وقت خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وقت کے ساتھ ان کی مصنوعی چمک ماند پڑنے لگتی ہے۔ کیونکہ دنیا آخرکار سچائی کو پہچان ہی لیتی ہے۔

انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کا مرکز لوگوں کی تعریف کو نہ بنائے بلکہ اپنی ذات کی تعمیر کو بنائے۔ اگر آپ واقعی بڑے بننا چاہتے ہیں تو خاموشی سے اپنے علم میں اضافہ کیجئے، اپنے کردار کو بہتر بنائیے، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریے، اپنے اندر صبر پیدا کیجئے اور اپنے کام کو اپنی پہچان بننے دیجئے۔ دنیا کا سب سے طاقتور تعارف وہ ہوتا ہے جو انسان کے الفاظ نہیں بلکہ اس کا عمل پیش کرتا ہے۔ جب انسان کمال کے راستے پر چل پڑتا ہے تو پھر اسے دنیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے مصنوعی چراغ جلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کی محنت خود روشنی بن جاتی ہے۔ اس کا کردار خود خوشبو بن جاتا ہے۔ اس کی قابلیت خود اس کی آواز بن جاتی ہے۔ تب لوگ اسے تلاش کرتے ہیں، اس سے سیکھنا چاہتے ہیں، اس کے قریب آنا چاہتے ہیں۔ یہی زندگی کا اصل اصول ہے کہ جو اپنے آپ کو دکھانے میں مصروف رہتا ہے وہ اکثر اندر سے خالی رہ جاتا ہے اور جو اپنے آپ کو بنانے میں مصروف رہتا ہے، دنیا ایک دن خود اسے دیکھنے لگتی ہے۔

Check Also

Aurat Ko Izzat Nahi Haq Dijye

By Dr. Uzma Noreen