Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Wusat Ullah Khan
  3. Munafiqat Ka Mausam Aur Atomi Siasat

Munafiqat Ka Mausam Aur Atomi Siasat

منافقت کا موسم اور ایٹمی سیاست

ایران ان ایک سو اکیانوے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے پانچ ایٹمی طاقتوں (امریکا، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس، چین)کی یقین دہانی کے بھروسے انیس سو اڑسٹھ میں جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کیے کہ اگلے پچیس برس میں پانچوں جوہری طاقتیں اپنے ایٹمی اسلحہ خانے ختم نہ بھی کر سکیں تو انتہائی کمتر دفاعی سطح تک لے آئیں گی۔ چنانچہ باقی ممالک کو ایٹم بم بنانے کی ضرورت نہیں۔

اس تعاون کے بدلے جوہری طاقتیں غیر جوہری طاقتوں کو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہیں دیں گی اور پرامن استعمال کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں تکنیکی مدد بھی فراہم کریں گی۔ یہ معاہدہ انیس سو ستر سے نافذ العمل ہے۔ سوائے اسرائیل، بھارت، پاکستان اور جنوبی سوڈان اقوامِ متحدہ کے تمام ارکان نے اور پہلے سے موجود پانچ ایٹمی طاقتیں بطور ضمانتی دستخط کر چکے ہیں۔ شمالی کوریا نے انیس سو پچاسی میں دستخط کیے اور دو ہزار تین میں اس معاہدے سے نکل گیا۔

این پی ٹی پر دستخط کرنے والے ممالک سے پانچ بنیادی ایٹمی ممالک نے جو وعدے کیے گئے تھے۔ ان میں سے شائد ہی کوئی پورا ہوا ہو۔ چنانچہ جن ریاستوں نے خود کو اس معاہدے کے تحت جوہری عدم پھیلاؤ کا پابند کیا وہ اب یہ زنجیر توڑنے کے بارے میں پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں۔

اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو ایک اعلانیہ اور ایک غیر اعلانیہ ایٹمی طاقت (امریکا، اسرائیل) نے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر کاربند ایک غیر ایٹمی ہتھیار بند ملک (ایران) پر آٹھ ماہ میں دوسری بار اچانک حملہ کر دیا۔

اس حملے کے چھبیسویں دن ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے یہ خبر شائع کی کہ " ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے لیے کوشاں ایران کو این پی ٹی کی پابندیاں تسلیم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹا اس کی پرامن جوہری تنصیبات کو لگاتار جاسوسی اور تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا۔ چنانچہ بہت سے ایرانی عہدیدار اور تجزیہ کار اس خیال کے تیزی سے حامی بن رہے ہیں کہ ایران کو این پی ٹی کی رکنیت پر نظرِ ثانی کرنا چاہیے۔

ستائیس اپریل کو نیویارک میں این پی ٹی کے دستخطی ممالک کا ایک ماہ طویل اجلاس اقوامِ متحدہ کی عمارت میں شروع ہوا تاکہ دنیا میں ایک نئی جوہری دوڑ شروع ہونے کے خدشات پر تازہ لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ " کرہِ ارض جوہری تباہی کے کنارے سے صرف ایک غلط فہمی اور ایک غلط اندازے کے فاصلے پر ہے۔ این پی ٹی کے بنیادی مقاصد تیزی سے کمزور اور غیر متعلق ہو رہے ہیں۔ اس معاہدے کے وقت جو وعدے کیے گئے تھے وہ ہنوز تشنہِ تعبیر ہیں۔ اگر اس معاہدے کو بچانا ہے تو اس میں نئی روح پھونکنا پڑے گی"۔

اقوامِ متحدہ میں ویتنام کے سفیر اور این پی ٹی ریویو کانفرنس کے صدر ڈو ہنگ ویٹ نے اپنے خطاب میں صاف صاف کہا کہ اس کانفرنس کی کامیابی یا ناکامی کے اثرات محض اس عمارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر طرف محسوس کیے جائیں گے۔ ہمارے سروں پر جوہری ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ تلوار کی طرح لٹک رہی ہے۔

اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے مطابق جنوری دو ہزار پچیس تک نو ایٹمی طاقتوں کے پاس مجموعی طور پر بارہ ہزار دو سو اکتالیس ایٹمی ہتھیار تھے۔ ان میں سے نوے فیصد ہتھیار صرف دو ممالک (امریکا، روس) کی تحویل میں ہیں (دیگر ممالک برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا ہیں)۔ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ دیگر ممالک کے خفیہ جوہری تجربات کے پیشِ نظر امریکا دوبارہ جوہری ہتھیاروں کی آزمایش کا سلسلہ بحال کرنے والا ہے۔

فرانس کے پاس اس وقت دو سو نوے ایٹمی ہتھیار ہیں مگر صدر میکرون نے ناٹو پر سے امریکا کا ہاتھ اٹھا لینے کے خدشے اور تیزی سے بدلتے ہوئے جیو پولٹیکل حالات کے پیشِ نظر اپنے جوہری ہتھیاروں میں مزید اضافے کا عندیہ دیا ہے۔

این پی ٹی کے بارے میں جو بھی پالیسی فیصلے ہوتے ہیں وہ کثرتِ رائے کے بجائے اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں۔ اسی لیے گذشتہ دو کانفرنسیں کسی ایک اعلان پر متفق نہیں ہو سکیں۔ اسرائیل اگرچہ این پی ٹی سے باہر ہے مگر اس کے ایما پر اس کے سرپرست امریکا نے دو ہزار پندرہ کی این پی ٹی کانفرنس میں مشرقِ وسطی کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ قرار دینے کی قرار داد کو ویٹو کر دیا۔

اس تناظر میں گذشتہ ہفتے وہ ہوگیا جس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ یعنی امریکی سینیٹ کے تیس ڈیموکریٹک ارکان نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ایک اجتماعی خط میں مطالبہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ باضابطہ طور پر بتائے کہ اسرائیل جوہری طاقت ہے یا نہیں۔ چونکہ امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کے ایران کو جوہری طاقت بننے سے روک رہا ہے لہذا اسرائیل کا ایٹمی اسٹیٹس ریکارڈ پر آنا چاہیے۔ اگر امریکا اپنے سمیت نو ممالک کو باضابطہ ایٹمی طاقت کا درجہ دیتا ہے تو پھر اسرائیل کے معاملے میں گومگو کی کیفیت بھی ختم ہونی چاہیے۔ خط میں کہا گیا کہ یہ امریکی کانگریس کا آئینی حق ہے کہ وہ مشرقِ وسطی میں جوہری توازن کے معاملے سے مکمل طور پر باخبر رہے تاکہ کسی بحران کی صورت میں کانگریس باخبر انداز میں قومی سٹرٹیجک پالیسی وضع کر سکے۔

براک او باما واحد امریکی صدر ہیں جن سے براہ راست پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا نہیں۔ براک او باما نے اس سوال کے جواب میں بس اتنا کہا کہ " میں قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتا۔ (اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس سو سے پونے دو سو تک جوہری ہتھیار ہیں)

آئزن ہاور سے لے کے ٹرمپ تک ہر امریکی صدر کو علم تھا اور ہے کہ اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ مگر چاہے ڈیموکریٹ سرکار ہو یا ریپبلیکن۔ اس معاملے پر سب کے منہ سلے ہوئے ہیں۔ جو سوال اب ڈیموکریٹ سینیٹرز ریپبلیکن صدر ٹرمپ کے وزیرِ خارجہ سے پوچھ رہے ہیں وہی سوال ڈیموکریٹ صدر جان ایف کینیڈی، جانسن، کارٹر، کلنٹن، اوباما اور بائیڈن سے بھی تو پوچھا جا سکتا تھا؟

یہ صرف واشنگٹن کا ہی مسئلہ نہیں۔ انیس سو پچاس کی دہائی سے اب تک کسی یورپی صدر یا وزیرِ اعظم نے بھی برسرِ عام یہ سوال نہیں اٹھایا کہ اسرائیل کا ایٹمی سٹیٹس کیا ہے۔ حالانکہ برطانیہ اور فرانس نے سن پچاس کی دہائی میں بن گوریان کو سب سے پہلے ایٹمی ٹیکنالوجی تھمائی تھی۔ اب یہ سب کس ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ ایران کو کسی کم ازکم حد تک بھی یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ منافقت کے موسم میں اس پیش رفت کو بھی خوش آئند سمجھنا چاہیے کہ کم ازکم اتنا تو ہوا کہ امریکی کانگریس میں اب اس ممنوعہ موضوع پر سوال ہونے لگا ہے۔

About Wusat Ullah Khan

Wusat Ullah Khan is associated with the BBC Urdu. His columns are published on BBC Urdu, Daily Express and Daily Dunya. He is regarded amongst senior Journalists.

Check Also

Daulat Se Aage Ka Safar

By Rao Manzar Hayat