Asal Bohran
اصل بحران

رات کے آخری پہر جب شہر کی سڑکیں خاموش ہو جاتی ہیں اور جب بازاروں کے شور اپنے ہی قدموں کی دھول میں دفن ہو جاتے ہیں۔ تب انسان اگر اپنے اندر جھانکے تو اسے ایک عجیب سچائی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسی سچائی جو کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، تقریروں میں نہیں سنائی دیتی اور نعروں میں کبھی زندہ نہیں رہتی۔ وہ سچ یہ ہے کہ قومیں نظاموں سے نہیں بلکہ نیتوں سے بنتی ہیں۔ عمارتیں نقشوں سے نہیں بلکہ ہاتھوں کی دیانت سے کھڑی ہوتی ہیں اور معاشرے قوانین سے نہیں بلکہ انسانوں کے کردار سے زندہ رہتے ہیں۔ ہم نے برسوں سے ایک لفظ کو اپنی ناکامیوں کا کفن بنا رکھا ہے۔ وہ لفظ ہے "سسٹم"۔
ہر ناکامی کا الزام اسی پر اور ہر بگاڑ کی ذمہ داری اسی کے سر تھوپ دیتے ہیں مگر کبھی کبھار یوں لگتا ہے جیسے ہم نے "نظام" کو ایک قبرستان بنا دیا ہے جہاں ہم اپنی تمام کوتاہیاں دفن کرکے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نظام کبھی خود نہیں بگڑتا، اسے بگاڑنے والے ہاتھ ہمارے اپنے ہوتے ہیں۔ وہی ہاتھ جو دفتر میں رشوت لیتے ہیں، وہی ہاتھ جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، وہی ہاتھ جو سچ جانتے ہوئے بھی حرکت نہیں کرتے۔ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ سیاستدان خراب ہیں، ملک اس لیے تباہ ہو رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ سیاستدان آسمان سے اترتے ہیں یا اسی معاشرے کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں؟
اگر ایک باپ گھر میں جھوٹ بولتا ہے، ایک استاد نقل کرواتا ہے، ایک تاجر دھوکہ دیتا ہے، ایک افسر اختیار کو ذاتی جاگیر سمجھتا ہے، ایک صحافی اپنا ضمیر بیچتا ہے تو پھر انہی گلیوں سے نکلنے والا سیاستدان فرشتہ کیسے ہو سکتا ہے؟ قومیں صرف پارلیمنٹ میں نہیں بنتیں، وہ دکانوں، سکولوں، عدالتوں، ہسپتالوں اور گھروں میں تشکیل پاتی ہیں۔ ہمیں اکثر ایک ایماندار حکمران کی خواہش رہتی ہے مگر ہم کیا کررہے ہیں۔ ہم خود ایمانداری کے بوجھ سے گھبراتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالتیں انصاف کریں مگر سفارش کے دروازے بند نہ ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بازار صاف ہوں مگر سستا سامان ملاوٹ والا ہی کیوں نہ ہو خرید لیتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے مگر ٹیکس دیتے ہوئے ہمیں اپنی جیب کٹتی محسوس ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے مگر جب کسی امیر زادے کو سزا ملنے لگتی ہے تو ہم آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ یہ تضاد صرف ریاست کا نہیں، ہماری روحوں کا بحران ہے اور یہی اصل بحران ہے جس کا ہمیں پتہ ہی نہیں۔
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، ہر بڑے انقلاب سے پہلے انسان کے اندر ایک اخلاقی انقلاب آیا۔ جاپان پر ایٹم بم گرے، شہر راکھ بن گئے، مگر قوم زندہ رہی کیونکہ ان کے اندر دیانت ابھی زندہ تھی۔ یورپ نے جنگیں دیکھیں، مگر انہوں نے اپنے اداروں کو انسانیت کے اصولوں پر دوبارہ کھڑا کیا۔ قومیں اس وقت نہیں مرتیں جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، قومیں تب مرتی ہیں جب ان کے لوگوں کے ضمیر خالی ہو جائیں۔
ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہمارے اندر احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ڈاکٹر جب مریض کی نبض کی بجائے اس کی جیب دیکھنے لگے، ایک استاد جب علم کو صرف تنخواہ تک محدود کر دے، ایک انجینئر جب سیمنٹ میں بددیانتی ملا دے تو پھر پل نہیں گرتے، پورا معاشرہ گر جاتا ہے اور یہ سقوط اچانک نہیں ہوتا، یہ آہستہ آہستہ انسان کے اندر شروع ہوتا ہے۔ پہلے نیت مرتی ہے پھر کردار اور آخر میں قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ کبھی کسی سرکاری دفتر میں جا کر دیکھیے۔ ایک فائل میز پر پڑی رہتی ہے، صرف اس لیے کہ اسے حرکت دینے کے لیے "چائے پانی" چاہیے۔ وہاں مسئلہ نظام نہیں ہوتا، مسئلہ وہ شخص ہوتا ہے جس نے اپنے ضمیر کی قیمت مقرر کر رکھی ہوتی ہے۔
ہم نے اجتماعی طور پر خود احتسابی چھوڑ دی ہے۔ ہمیں دوسروں کے گناہ صاف دکھائی دیتے ہیں مگر اپنی غلطیاں دکھائی نہیں دیتی۔ ہم ٹی وی پر بیٹھ کر ملک کے مستقبل پر بحث کرتے ہیں مگر سگنل توڑتے وقت ہمیں قانون یاد نہیں رہتا۔ ہم کرپشن کے خلاف تقریریں کرتے ہیں مگر اپنا کام جلد کروانے کے لیے رشوت دینے میں ہچکچاتے نہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے، یہی وہ بحران ہے جہاں معاشرے کی بنیادوں میں دراڑ پڑتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نظام ایک آئینہ ہوتا ہے۔ اس میں قوم کا اصل چہرہ نظر آتا ہے۔ اگر چہرہ بدنما ہو تو آئینہ توڑ دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اس کا حل کیا ہے؟
حل شاید کسی بڑے انقلاب، کسی نئے آئین یا کسی مسیحا کے انتظار میں نہیں۔ حل ایک چھوٹے سے فیصلے میں چھپا ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ درست ہو جائے۔ دکاندار ناپ تول میں کمی نہ کرے، استاد کتاب سے پہلے کردار پڑھائے، افسر کرسی کو خدمت سمجھے، سیاستدان اقتدار کو امانت جانے اور عام شہری قانون کو دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی لازم سمجھے۔ یہ معمولی باتیں لگتی ہیں مگر قوموں کی تقدیر انہی چھوٹے اعمال سے لکھی جاتی ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ معاشرے صرف نعروں سے تبدیل نہیں ہوتے۔ تبدیلی اس دن جنم لیتی ہے جب انسان تنہائی میں بھی سچ کا ساتھ دیتا ہے۔ جب وہ غلط فائدہ اٹھانے سے صرف اس لیے رک جاتا ہے کہ اس کا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ کیونکہ اصل قانون عدالتوں سے پہلے انسان کے اندر ہونا چاہیے۔ باہر کے قوانین صرف وہاں کامیاب ہوتے ہیں جہاں اندر کی عدالت جاگ رہی ہو اور شاید یہی سب سے بڑا فلسفہ ہے۔
نظام کبھی خود بخود ظالم یا مہربان نہیں بنتا اسے انسان بناتے ہیں۔ اگر نیت پاک ہو تو بوسیدہ ادارے بھی روشنی دینے لگتے ہیں اور اگر کردار مر جائے تو بہترین آئین بھی کاغذ کے چند بے جان صفحے رہ جاتے ہیں۔ سوال ریاست کا نہیں بلکہ روح کا ہے۔ جب انسان اپنے حصے کی سچائی اٹھا لے گا تب معاشرہ خود بخود بدلنے لگے گا۔ کیونکہ دنیا کی ہر بڑی اصلاح ایک فرد کے اندر سے شروع ہوئی تھی اور شاید اسی دن ہمیں یہ احساس ہوگا کہ مسئلہ کبھی نظام کا تھا ہی نہیں، مسئلہ ہمیشہ ہمارے اندر بیٹھے اُس انسان کا تھا جسے ہم نے بہت عرصے سے خود سے چھپا رکھا ہے۔

