Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Waris Dinari
  4. Allah Tujhe Patwari Bana De

Allah Tujhe Patwari Bana De

اللہ تجھے پٹواری بنا دے

پٹواری کی طاقت پٹواری کی اہمیت ان کا اثرورسوخ ان کی کارستانیوں کی داستانیں اکثر سنتے پڑھتے آئے ہیں۔ اس پٹواری کی پوسٹ کی اتنی اہمیت پہلی بار دیکھنے کو ملی ہے۔ جس پر میں بجا طور پر یہ کہہ سکتا ہوں

واہ رے پٹواری تیری قسمت

بلوچستان ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں پٹواری کی 299 خالی آسامیاں پر 47671 کی درخواستیں۔ یہ بیروزگاری ہے یا کچھ اور بھی۔۔

چند روز قبل بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام پٹواری کی299 اسامیوں پر 47671 ہزار امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے اور کم وبیش اتنے ہی امیدواروں نے پیپر بھی دیئے ہیں۔ اس نو اسکیل کی اسامی کے لئے انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نے بھی شرکت کی جن کو سی ایس ایس، پی سی ایس کے امتحانات میں شرکت کرنی چاہیے تھی انہوں نے بھی پٹواری کی پوسٹ پر اپلائی کیا ہے۔ شنید میں آیا ہے کہ امیدواروں میں بعض ایسے بھی شامل ہیں جو پہلے سے نہ صرف سرکاری ملازم ہیں بلکہ 17/16گریڈ پر تعینات بھی ہیں انھوں نے بھی اس نو اسکیل کی پوسٹ کی خاطر گریڈ سترہ کو لات مارنے کے لئے بھی تیار نظر آئے تو یہ دیکھ کر پھر کچھ بات سمجھ میں آئی۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بلوچستان میں بیروزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے سرکاری ملازمتیں تو نا پید ہیں ہی لیکن پرائیویٹ جاب بھی نہیں ہیں۔ ان حالات کی بدولت بلوچستان کا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ سخت مایوسی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ یہ مایوسی احساس محرومی بڑھتی جارہی ہے، لیکن حیرانگی تب ہوئی جب بعض برسروزگار افراد بھی اس معمولی پوسٹ کے لئے درخواستیں جمع کرانے ٹیسٹ دینے والوں میں شامل رہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نو اسکیل کی پوسٹ میں کتنا چارم رکھا ہے۔ اس پر مجھے معروف بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب کی کتاب شہاب نامہ یاد آیا جس میں انھوں نے پٹواری کی طاقت ان کی رسائی اور کارستانیوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا انھوں نے بتایا کہ کس طرح ایک عمر رسیدہ خاتون نے خوش ہو کر مجھے دعا دی جا بیٹا اللہ تجھے پٹواری بنا دے گا۔

کہتے ہیں کہ کسی پٹواری کو آتے جاتے ہوئے راستے میں ایک کتا پٹواری کو دیکھ کر اس پر بھونکتا تھا جس پر ایک روز پٹواری نے غصے میں اکر کتے سے کہا کاش کہ زمین کا ایک مرلہ بھی تمھارے نام پر ہوتا تو پھر میں دیکھتا تو مجھ پر کس طرح سے بھونکتا۔ اس سے پٹواری کے طاقتور ہونے کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ وقت وقت کی بات ہے نوے کی دہائی میں پی ٹی سی ایل کے اہلکار خاص کر آپریٹر اور سپروائز بھی اپنے دور میں کسی پٹواری سے کم نہیں تھے پھر دور بدلہ آج سوائے ڈی ایس ایل نیٹ کے علاوہ لوگوں نے پی ٹی سی ایل سے اپنا ناطہ توڑا ہے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں میں گو کہ پٹواریوں کے اختیارات میں کچھ کمی کرکے ریونیو ریکارڈ جدید خطوط پر استوار کرکے کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا لیکن بلوچستان میں اس ٹیسٹ سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں پر حالات جوں کے توں ہیں۔

بچپن میں جب ہم بچے ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ یار آپ پڑھ کر کیا بنو گے تو اسی فیصد کا جواب ہوتا تھا کہ ہم فوجی بنیں گے باقی بیس فیصد بچے پائلٹ ڈاکٹر انجینئر بننے کی تمنا رکھتے تھے اور پھر جب ہم کچھ سمجھدار ہوئے چوتھی پانچویں میں آئے تو نظریہ ضرورت کی طرح ہم نے بھی اپنا نظریہ تبدیل کر دیا اب کہ بار انتظامی پوسٹوں کو ترجیح دینے لگے کیونکہ کے ہم نے دیکھا کہ جب دیگر اداروں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد پولیس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں آنے لگے تو ان پوسٹوں کی پر کشش کا کچھ مطلب سمجھ میں آنے لگا کہ زیادہ تر پڑھے لکھے نوجوانوں کی پہلی ترجیح اب ایس ڈی ایم یا ایس پی بنا ہے یہ پرکشش پوسٹ آج بھی ہمارے بیشتر نوجوانوں کی پہلی ترجیح ہیں۔

پھر پرویز مشرف نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت 2001 میں ایک ترمیم کے ذریعے ایس ڈی ایم کو اسسٹنٹ کمشنر جبکہ ڈپٹی کمشنر کو ڈی سی او بنا کر ان کے اختیارات میں کمی کرکے ڈسٹرکٹ ناظم اور تحصیل ناظم کو با اختیار بنانے کی کوشش کی گئی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے تھے جو بعد میں آنے والی حکومتیں ان کو جاری نہ رکھ سکی اور پھر موجودہ حکومت نے ایک بار پھر ان بیوروکریٹ کے اختیارات میں اضافہ کرکے پڑھے لکھے نوجوانوں کی پہلی پسند بنا دی ہے۔ یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے بلکہ لمحہ فکر ہے کہ ہماری موجودہ پڑھا لکھا زی جنریشن کیا چاہتی ہے۔

اس کے لئے ارباب اختیار کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہئے اور اس روش کا تدارک فوری طور پر لازمی کرنا چاہئے جس روز ہمارے نوجوان پڑھ لکھ کر معلم ڈاکٹر انجینئر بننے کو ترجیح دیں تب ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اب ہم اور ہماری آئندہ والی نسلیں محفوظ ہیں۔ اس طرح کی سوچ اور تبدیلی کب آئے گی جب تک حقیقی احتساب کا عمل ہو ہر ادارے ہر فرد پر لاگو ہو کسی کو بھی کسی طرح کا استثناء حاصل نہ ہو ہر عہدہ ہر فرد پبلک اور حکومت کو جواب دے ہو نیز ایک قانون بنایا جائے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم اگر وہ گیارہ اسکیل کا ملازمت کررہا ہے انھیں حق نہیں پہنچتا کہ وہ دس اسکیل کی پوسٹ پر اپلائی کرے اگر بہت ہی مجبوری ہو تو اس کا جواز پیش کرنا لازمی ہو اگر موجودہ روش برقرار رکھا گیا تو ملک اور قوم کے لئے جنگ سے بھی زیادہ نقصان دے ہوگا۔

Check Also

Daulat Se Aage Ka Safar

By Rao Manzar Hayat