Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sardar Shokuat Iqbal
  4. Saniha 9 May

Saniha 9 May

سانحہ نو مئی

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو صرف وقتی بحران نہیں ہوتے بلکہ وہ ریاست، سیاست، عدلیہ، میڈیا اور عوامی نفسیات کے درمیان تعلق کی نئی جہت متعین کر دیتے ہیں۔ نو مئی 2023 کے واقعات بھی ایک ایسا ہی باب ہیں جنہوں نے نہ صرف ملکی سیاست کا رخ تبدیل کیا بلکہ جمہوریت، آئین، انصاف اور اظہارِ رائے کی آزادی کے متعلق کئی بنیادی سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

اس دن جو کچھ ہوا، وہ یقیناً ایک افسوسناک اور تکلیف دہ منظر تھا۔ قومی تنصیبات پر حملے، سرکاری املاک کو نقصان اور اشتعال انگیزی کسی بھی مہذب ریاست میں ناقابلِ قبول عمل ہے۔ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرے، مگر اصل بحث وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں قانون کی عملداری اور سیاسی انتقام کے درمیان لکیر دھندلا دی جائے۔

نو مئی کے بعد جو منظرنامہ تشکیل دیا گیا، اس میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ چند درجن افراد جن کی شناخت خود مشکوک تھی کے جرم کی سزا ایک پوری سیاسی جماعت، اس کے نظریے اور اس سے وابستہ لاکھوں لوگوں کو دی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف جس شدت سے کریک ڈاؤن کیا گیا، اس نے ماضی کی سیاسی انتقامی کارروائیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔

ملک بھر میں ہزاروں کارکن گرفتار کیے گئے، گھروں پر رات کی تاریکی میں چھاپے مارے گئے، خواتین اور بزرگوں تک کو ہراساں کیا گیا، چادر چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا خواتین کو سڑکوں پر گیسٹا گیا نوجوانوں کو محض سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر اٹھایا گیا اور سیاسی وابستگی کو جرم کی علامت بنا دیا گیا۔ کئی خاندان مہینوں اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر رہے جبکہ جبری گمشدگیوں کی آک نئی تاریخ رقم کی گئی۔ ریاستی طاقت کے اس بے رحم استعمال نے یہ سوال پیدا کیا کہ کیا واقعی مقصد صرف قانون کی بالادستی تھا یا ایک مقبول سیاسی قوت کو ہر قیمت پر دیوار سے لگانا؟

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متنازع معاملہ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا رہا۔ آئین اور جمہوری اصولوں کے تحت عام شہریوں کا شفاف سول عدالتی نظام میں ٹرائل ایک بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے، مگر نو مئی کے بعد متعدد افراد کو فوجی عدالتوں کے سپرد کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، آئینی ماہرین اور عالمی اداروں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سوال یہ تھا کہ اگر ملک میں آزاد عدالتیں، انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں اور مکمل قانونی ڈھانچہ موجود ہے تو پھر عام شہریوں کے لیے فوجی عدالتوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ وہ مقام تھا جہاں ریاستی بیانیہ اور آئینی اصول آمنے سامنے کھڑے دکھائی دیے۔

افسوسناک امر یہ رہا کہ اس پورے بحران میں عدلیہ بھی وہ کردار ادا نہ کر سکی جس کی ایک جمہوری معاشرے میں توقع کی جاتی ہے۔ عدالتی نظام اندرونی تقسیم، دباؤ اور غیر یقینی کیفیت کا شکار دکھائی دیا۔ کہیں فیصلوں میں تضاد نظر آیا، کہیں اہم مقدمات التوا کا شکار ہوئے اور کہیں طاقتور حلقوں کے سامنے خاموشی اختیار کی گئی۔ وہ عدالتیں جنہیں آئین کا محافظ سمجھا جاتا ہے، عوام کی نظروں میں خود بے بسی کی علامت بنتی چلی گئیں۔ عوام کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس شدت اختیار کرتا گیا کہ ملک میں انصاف کی فراہمی اب قانون کے بجائے طاقت کے توازن سے مشروط ہو چکی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب "مفلوج عدالتی نظام" کی اصطلاح محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک عوامی تاثر بنتی چلی گئی۔

تاھم بجائے اس مفلوج عدالتی نظام کو درست کرنے کے اک آئینی ترمیم سے پورے عدالتی نظام کو سرے سے ختم کر دیا گیا۔ میڈیا پر عائد غیر اعلانیہ پابندیوں نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ پاکستان میں صحافت ہمیشہ دباؤ کا شکار رہی ہے، مگر نو مئی کے بعد جس پیمانے پر سنسرشپ نافذ کی گئی، اس نے آزادیٔ صحافت کے تصور کو شدید دھچکا پہنچایا۔ پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر عمران خان کی تصویر اور نام لینے تک ہر پابندی لگائی گئی کئی معروف اینکرز اچانک اسکرینوں سے غائب کر دیے گئے، متعدد صحافیوں کے پروگرام بند ہوئے، کئی میڈیا ہاؤسز کو غیر محسوس انداز میں مخصوص بیانیے تک محدود کر دیا گیا۔ وہ صحافی جو ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے یا تحریک انصاف کا مؤقف نشر کرتے تھے، انہیں یا تو خاموش کرا دیا گیا یا اداروں سے نکال دیا گیا۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ ملک میں سچ بولنا ایک خطرناک عمل بنتا جا رہا ہے۔ میڈیا کا بڑا حصہ خوف، دباؤ اور معاشی مجبوریوں کے درمیان جکڑا ہوا نظر آیا جبکہ عوام تک صرف وہی بیانیہ پہنچنے لگا جو طاقتور حلقے سنانا چاہتے تھے۔

ان تمام تر حالات کے باوجود عمران خان کی مزاحمت پاکستانی سیاست کا ایک منفرد باب بن کر سامنے آئی۔ شدید دباؤ، درجنوں مقدمات، گرفتاری، سیاسی تنہائی، قید تنہائی، فیملی اور وکلاء کی ملاقات پر پابندی لگا دی گئی یہاں تک کے عمران خان کی آنکھ کے ضائع ہونے کی خبریں چلیں، دو مرتبہ اسلام کے پمز اسپتال لایا گیا لیکن فیملی وکلاء اور میڈیا کو بلکل رسائی نہیں دی گئی جس سے مذید افواہوں نے جنم لیا۔

میڈیا بلیک آؤٹ اور مسلسل کردار کشی کے باوجود عمران خان نے پسپائی اختیار کرنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اپنایا۔ ماضی کی پاکستانی سیاست میں اکثر رہنما طاقتور حلقوں کے ساتھ مفاہمت، خاموشی یا بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دیتے رہے، مگر عمران خان مسلسل اپنے بیانیے پر قائم رہے۔ انہوں نے نہ صرف عوامی جلسوں اور عدالتی پیشیوں کے ذریعے خود کو سیاسی منظرنامے میں زندہ رکھا بلکہ اپنے حامیوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حامی انہیں ایک مزاحمتی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے طاقتور حلقوں کے سامنے غیر معمولی سیاسی جرات کا مظاہرہ کیا۔

تاہم تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کی کمزوریاں بھی اس بحران میں واضح ہو کر سامنے آئیں۔ پارٹی کے کئی اہم رہنما دباؤ برداشت نہ کر سکے، کچھ خاموش ہو گئے، بعض نے پارٹی چھوڑ دی اور اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ گئے اور کچھ نے مفاہمت کو ترجیح دی۔ جس جماعت نے خود کو نظریاتی تحریک قرار دیا تھا، وہ تنظیمی نظم و ضبط اور واضح حکمتِ عملی دینے میں ناکام دکھائی دی۔ کارکن مسلسل قربانیاں دیتے رہے مگر قیادت کے اندر انتشار، غیر سنجیدہ بیانات اور داخلی اختلافات بڑھتے گئے۔ سوشل میڈیا کے نعروں سے آگے بڑھ کر کوئی مؤثر سیاسی حکمتِ عملی سامنے نہ آ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی مزاحمتی سیاست کئی مواقع پر غیر منظم اور جذباتی دکھائی دی۔

حیران کن پہلو یہ بھی تھا کہ جو سیاستدان کل تک تحریک انصاف کا حصہ تھے اور شدید تنقید کی زد میں تھے، پارٹی چھوڑتے ہی ان کے لیے سیاسی دروازے کھلنے لگے۔ کئی رہنماؤں کے مقدمات نرم پڑ گئے، کچھ دوبارہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ گئے اور بعض کو نئی سیاسی جماعتوں یا اتحادوں میں اہم جگہیں مل گئیں۔ اس عمل نے عوام میں یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ پاکستان میں وفاداریاں اصولوں، نظریات یا عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے مراکز سے قربت کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے سیاسی نظام پر عوامی اعتماد کو کمزور کیا۔

آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سیاسی انتقام، کمزور جمہوری روایات، دباؤ زدہ میڈیا اور مفلوج عدالتی نظام ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی قوتوں کو طاقت کے ذریعے وقتی طور پر کمزور تو کیا جاسکتا ہے مگر مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی سوچیں جیلوں، پابندیوں اور سنسرشپ سے نہیں مرتیں بلکہ مزید شدت اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر ریاست واقعی استحکام چاہتی ہے تو اسے سیاسی اختلاف کو دشمنی کے بجائے جمہوری حق تسلیم کرنا ہوگا، عدلیہ کو حقیقی معنوں میں آزاد بنانا ہوگا، میڈیا کو خوف سے نکالنا ہوگا اور تمام سیاسی قوتوں کو برابری کی بنیاد پر سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع دینا ہوگا۔

کیونکہ جب انصاف طاقت کے تابع ہو جائے، صحافت خوف کے سائے میں سانس لینے لگے، سیاسی کارکن اپنی وابستگی کی سزا بھگتنے لگیں اور اختلافِ رائے کو بغاوت سمجھا جانے لگے، تو بحران صرف ایک جماعت یا ایک رہنما کا نہیں رہتا بلکہ پورا نظام عدم استحکام، بے یقینی اور انتشار کی دلدل میں اترنے لگتا ہے۔

Check Also

Aurat Ko Izzat Nahi Haq Dijye

By Dr. Uzma Noreen