Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Abu Nasr
  3. Kash Koi Churi, Chaqu, Qainchi Tez Karne Wala Aaye

Kash Koi Churi, Chaqu, Qainchi Tez Karne Wala Aaye

کاش کوئی چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا آئے

پرسوں پرلے روز کی بات ہے، ایک سیاسی رہنما کی طرف سے ایک سوال آیا: "سان چڑھانا کسے کہتے ہیں؟"

سوال سنتے ہی سوچوں کے سنّاٹے میں ایک صدا گونج اُٹھی: "چھری، چاقو، قینچی تیز کرالو"۔

یہ صدا ہمارے سدا جھگڑنے والے سیاست دانوں کے لیے کتنی پُرکشش ہوگی، اس کا ہمیں اندازہ نہیں ہے، لیکن کچھ عرصہ پہلے تک ہماری گلیوں میں یہ پُکار ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور گونجا کرتی تھی۔ اب بھی عید الاضحیٰ کے موقعے پر کبھی کبھار اور کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی پُکارنے والا سفید پوش محلّوں کے گلی کوچوں میں یہ صدا لگاتا ہوا نکل ہی آتا ہے کہ "چھری، چاقو، قینچی تیز کرالو"۔

گلی گلی گھوم کر اپنا ہنر دکھانے اور حق حلال کی روزی کمانے کا یہ سلسلہ اب ہمارے گلی کوچوں سے شاید ختم ہوتا جارہا ہے۔ یہ ہنر بھی ختم ہورہا ہے۔ ہوتے ہوتے بہت سے ہنر ختم ہوگئے۔ کس کس کا گلہ کیجیے، کس کس کو روئیے۔ صاحبو! یہ جو جدید دور ہے اس میں بقولِ شاعر:

اوج پر ہے کمالِ بے ہنری
باکمالوں میں گِھر گیا ہوں میں

چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا ہنرمند پہلے پہل تو اپنے کندھے پر سائیکل کے بہت بڑے پہیے جیسی مشین اُٹھائے، نگر نگر اور ڈگر ڈگر پھرتا تھا مارا مارا۔ اُس دُکھیا کا اِس دنیا میں یہی تھا ایک سہارا۔ جس گھر سے کام مل جاتا اُس کے آگے ڈیرا ڈال دیتا۔ مشین کندھے سے اُتارتا، پہیے کو پیڈل سے چلاتا اور ایک گول پتھر گردشِ ایام کی طرح پوری تیز رفتاری سے گھومنے لگتا۔ اب وہ چھری، چاقو، قینچی باری باری اُس گول پتھر سے رگڑتا، چنگاریاں نکلتیں اور دم بھر میں اوزار کی دھار اتنی تیز ہوجاتی کہ اُنگلی لگاؤ تو اُنگلی کٹ جائے، خون کی تللی بندھ جائے۔

بعد کو یہ گھومنے والا گول پتھر بڑی ہنرمندی سے خود سائیکل پر جَڑ دیا گیا۔ کندھے آزاد ہوگئے۔ سائیکل ہی کے پیڈل سے مشین کے پیڈل کا کام بھی لیا جانے لگا۔ مگر اب ہوتا یہ تھا کہ جب تک گھر سے نکلو، یہ ہنرمند اپنی سائیکل چلاتے ہوئے کہیں اور نکل چکا ہوتا۔ دُور کسی اور گلی سے، بلکہ کسی اور کی، گلی سے اُس کی سُریلی صدا آرہی ہوتی: "چھری، چاقو، قینچی تیز کرا لو!"

کُرنڈ کا بنا ہوا وہ گول پتھر جس کے گھومتے سرے پر رکھ کر اوزار و ہتھیارکی کُند دھار تیز کی جاتی ہے "سان" کہلاتا ہے۔ کُرنڈ، ایک خاص قسم کا معدنی پتھر ہوتا ہے۔ انتہائی سخت۔ مگر دیکھنے میں یوں لگتا ہے جیسے جمی ہوئی بھربھری ریت سے بنایا گیا ہے۔ سان، کے علاوہ اس پتھر کو سنگِ صیقل اور فَساں، بھی کہتے ہیں۔ اقبالؔ کا یہ مشہور مصرع تو آپ کو یاد ہی ہوگا۔

"خودی ہے تیغ، فَساں لا الٰہ الا اللہ"

یعنی خودی تلوار ہے اور لاالٰہ الااللہ، اس تلوار کی دھار تیز کرنے والی سان، ہے۔ جو لوگ اقبالؔ کے اس مصرعے کو پڑھتے ہوئے "تیغے فِساں" پڑھتے ہیں، وہ فَساں، کا تلفظ ہی نہیں بگاڑتے، اس مصرعے کا مفہوم بھی غارت کردیتے ہیں۔

پہلوانِ سخن شیخ امام بخش ناسخؔ، اِس گھومتے پتھر کو نہیں بلکہ اپنے محبوب کی گردش کرتی ہوئی آنکھوں کو، "سان" کہتے سنائی دیتے ہیں:

تیز ہر دم کرتی ہے تیغِ نگاہِ یار کو
چشم کی گردش ہوئی ہے سان اِس تلوار کو

سان چڑھانا، سان پر چڑھانا، سان رکھنا، سان پر رکھنا، سان دھرنا اور سان لگانا سمیت اُردو کے کئی محاوروں کو سان لگی ہوئی ہے۔ ان سب کا لفظی مطلب ایک ہی ہے: کسی اوزار کی دھار کو تیز کرنا یعنی سان، نامی پتھر پر رگڑ کر اوزار کی کاٹنے کی صلاحیت کو بڑھانا، چمکانا اور کاٹ کو تیز کرنا۔ مگر سان پر چڑھانا، کے مجازی معنوں میں کسی کی صلاحیتوں کو جلا بخشنا بھی لیا جاتا ہے اور کسی غریب کو رگڑا دینا، بھی، مثلاً: "بدھو میاں کے نکھٹو پن اور کاہلی کا یہ علاج کیا گیا کہ اُن کی شادی کرکے اُن کو سان پر چڑھا دیا گیا"۔

سان پر رکھنا، کے معنی باڑھ پر رکھنا، یا باڑھ دینا، بھی بتائے جاتے ہیں۔ باڑھ، دراصل دھار کو کہا جاتا ہے۔ امیرؔ مینائی کہتے ہیں:

مشکل آساں نہ ہوئی تیرے گنہگاروں کی
حیف منہ موڑ گئی باڑھ بھی تلواروں کی

مگر باڑھ، کے اور بھی کئی معانی ہیں۔ ندی یا دریا وغیرہ کا چڑھ جانا۔ طغیانی۔ حد یا کنارہ۔ کھیت وغیرہ کے احاطے کی کانٹوں یا کسی خاص پودے کی جھاڑیوں سے جو حد بندی کرتے ہیں اُسے بھی باڑھ، کہتے ہیں اور حد بندی کے عمل کو باڑھ باندھنا۔ بڑھوتری، بالیدگی، نمو اور اضافے کو بھی باڑھ، کہا جاتا ہے۔ باڑھ پر آنا، نشانے پر یا زَد پر آنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ کئی بندوقوں سے ایک ساتھ فیر، کرنے کو باڑھ مارنا کہتے ہیں۔ اُردو میں اب تو فائر کرنا، ہی لکھا اور بولا جانے لگا ہے، مگر پہلے فیر کرنا، لکھتے اور بولتے تھے۔ ظفرؔ کا شعر ہے:

غضب ہے توپ پر عاشق کو رکھ کر
فرنگی زاد تیرا فیر کرنا

فساں، کے معنی تو سنگِ صیقل کے ہیں، یعنی وہ پتھر جس پر رگڑ کر چھری، چاقو، قینچی تیز کی جاتی ہے، تلوار کو دھار دی جاتی ہے اور چمکایا جاتا ہے۔ مگر نون غنّہ کے ساتھ بولا جانے والا ساں اور ہی معنی رکھتا ہے۔ ساں، کے معنی ہیں: مانند، مثل، طرز اور روش۔ بساں، یا بسان، کا مطلب ہوا: کی طرح، کی مانند، کے مثل، کی طرز پر یا کی روش کے مطابق۔ انشا اللہ خان انشاؔ، بیٹھ کر یا لیٹ کر ٹکر ٹکر دیکھ رہے تھے:

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

مگراُن کا اپنا حال یہ تھا کہ راہ چلتے مسافروں کے پاؤں کے نشانات کی طرح کسی راہ پر سُست یا سُت پڑے ہوئے تھے:

بسانِ نقشِ پائے رہرواں کوئے تمنا میں
نہیں اُٹھنے کی طاقت، کیا کریں؟ لاچار بیٹھے ہیں

آج کے کالم کا سوال ایک سیاسی رہنما کی طرف سے آیا تھا۔ سو، جب ہم انشا اللہ خان انشا کے اس شعر تک پہنچے تو خیال آیا کہ یہ شعر تو نیرنگیِ سیاستِ دوراں کی عکاسی کررہا ہے۔ ارے، یہی حال تو اِس وقت ہماری ملتِ اسلامیہ کے سیاسی رہنماؤں کا ہے۔ اِن بِچاروں میں بھی "نہیں اُٹھنے کی طاقت، کیا کریں؟" کہ جو کتاب اُنھیں اُن کی بیٹھک سے اُٹّھک کرا سکتی ہے، ذلت کی پستیوں سے عزت و عظمت کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے، اُس کو بس بغل میں دابے، بے بسی سے فرشِ خاک پر گرے یا پڑے ہوئے ہیں۔ بقول پروینؔ شاکر:

ہماری بے جہتی کا کوئی جواز نہیں
یہ دُکھ تو اُن کا ہے جن کی کوئی کتاب نہ ہو

اب مفسدانِ عالَم میں سے جو بھی اُٹھتا ہے وہ باقی دنیا کو چھوڑ کر صرف ان ہی کی طرف لپکتا چلا آتا ہے اور انھیں روند کر چلا جاتا ہے۔ بلکہ ایک بد دماغ روندنے والا تو جاتے جاتے ان کے لیے غلیظ زبان اور نازیبا الفاظ بھی استعمال کرجاتا ہے۔ مگر سب کچھ سننے کے باوجود یہ اپنی اپنی جگہ اور اپنے اپنے کوئے تمنا میں "لاچار بیٹھے" رہتے ہیں۔ غیرت اور حمیت کے ہتھیار کُند ہوچکے ہیں۔ شاید یہ بھی منتظر ہیں کہ کہیں سے کوئی چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا آئے اور آکر انھیں سان پر چڑھائے۔

Check Also

Allah Tujhe Patwari Bana De

By Muhammad Waris Dinari