One Constitution Avenue
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو نامی عمارت کے مالک شیخ عبدالحفیظ پاشا ہیں۔ یہ فیصل آباد کی نامور ٹیکسٹائل مل بسم اللہ ٹیکسٹائل کے مالک ہیں اور فیصل آباد کے ایک اور نامور ٹیکسٹائل گروپ ستارہ گروپ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ اس متنازع عمارت کی تعمیر میں اوائل میں تین حصہ دار تھے جو بعد ازاں شیخ صاحب نے فارغ کرا دیے اور خود اکلوتے مالک بن گئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن اور ثاقب نثار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس عمارت کو 17 ارب سی ڈی اے کو جمع کرانے کے عوض قانونی قرار دیا۔ لیکن شیخ صاحب سوا دو ارب جمع کرا سکے اور ہاتھ کھڑے کر گئے۔ معاملہ کمیٹیوں کے سپرد ہوگیا اور اگلے سات آٹھ سال عدالت اور سی ڈی اے کے بیچ گھومتا رہا۔
اب جب نیا عدالتی حکم آ چکا ہے تو اشرافیہ کے ماتھے پر پسینے آ گئے ہیں۔ چونکہ اشرافیہ کا مائنڈ سیٹ اور فریم ورک ایک سا ہوتا ہے اس لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے پولیس اور سی ڈی اے کو کارروائی سے روک کر ایک نئی "کمیٹی" قائم کر دی ہے۔ پاکستان کے سیاسی و انتظامی کلچر میں "کمیٹی" کا لفظ سنتے ہی عوام کو سمجھ جانا چاہئیے کہ معاملہ فوری حل نہیں بلکہ طویل التواء کی نذر ہونے جا رہا ہے۔ پہلے کمیٹی رپورٹ دے گی، پھر سفارشات بنیں گی، پھر نئی مشاورت ہوگی اور یوں وقت کی گرد میں اصل مسئلہ کہیں دب جائے گا یا عدالتی فیصلہ ایک نئے عدالتی چکر کا شکار ہو جائے گا۔
اس متنازع عمارت کا مسئلہ یہ ہے یہاں نون لیگ اور تحریک انصاف کی نمایاں شخصیات کے فلیٹس ہونے کے ساتھ ساتھ صحافیوں، ججوں، بیوروکریٹس اور سابقہ نیول چیف کے فلیٹ بھی موجود ہیں۔ یعنی پاکستان کی اشرافیہ ایک ہی چھت تلے سما گئی ہے۔ بعض نے اپنے نام پر اپارٹمنٹ لیا اور بعض نے اپنے عزیز و اقارب کے نام پر لئے ہیں۔ یہاں فلیٹ مالکان میں عمران خان، سابق وفاقی وزیرحماد اظہر، شاندانہ گلزار، سابق وزیر برجیس طاہر، سابق نگران وزیراعظم ناصرالملک، کشمالہ طارق، فضیلہ عباسی و حمزہ عباسی، اسفندیار بھنڈارا ایم این اے، شہزاد وسیم، فریال گوہر، شعیب اختر کرکٹر، جسٹس ریٹائرڈ اعجاز الاحسن، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، احمد مختار، شایہ حفیظ شیخ (سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی اہلیہ)، شیخ عامر حفیظ، سابق فارن سیکرٹری سلمان بشیر، سابق نیول چیف آصف سندھیلہ، سابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر، اینکر پرسن و صحافی نسیم زہرہ، ابصار عالم، جام کمال خان، سابق چئیرمین پی سی بی احسان مانی سمیت بابوکریسی، ججز اور بااثر سیاسی خاندانوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ قانون کی عملداری کا معیار کیا ہے؟ اگر کوئی رعایت ہے تو صرف طاقتوروں کو کیوں؟ پاکستان میں ایسا طبقاتی نظام مضبوط ہو چکا ہے جہاں قانون کی سختی کمزور کے لیے اور نرمی طاقتور کے لیے مخصوص محسوس ہوتی ہے۔ غریب کی چھت چند گھنٹوں میں گرا دی جاتی ہے جبکہ اربوں روپے کی متنازع تعمیرات برسوں تک قانونی موشگافیوں، سیاسی اثرورسوخ اور انتظامی خاموشی کے سہارے کھڑی رہتی ہیں۔
سوال یہ بھی ہے کہ جب یہ عظیم الشان ٹاورز تعمیر ہو رہے تھے تب متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ سی ڈی اے کے مطابق 2004-05 میں اس مقام پر صرف ایک ہوٹل کی تعمیر کے لیے لیز دی گئی تھی مگر بعد میں وہاں رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر اور تجارتی سرگرمیوں پر مشتمل ایک مکمل کمپلیکس کھڑا ہوگیا۔ متعلقہ اداروں کو اس خلاف ورزی کا احساس ایک دہائی بعد ہوا؟ پھر مقدمات عدالتوں میں گئے۔ کبھی لیز منسوخ ہوئی، کبھی بحال ہوئی، کبھی غیر قانونی قرار دیا گیا، کبھی سرمایہ کاروں کے حقوق کا سوال اُٹھا۔ سوال یہ بھی ہے کہ بسم اللہ ٹیکسٹائل مل کے مالک شیخ پاشا کو کسی نے طلب کیا؟ ان سے سوال جواب کر لیے؟ ان سے حساب لے لیا؟
بری امام کے اطراف غریبوں کی بستی پر تو فوراً بلڈوز پھر جاتے ہیں۔ کچی بستی والوں کو تو کبھی رعایت نصیب نہیں ہوئی۔ کراچی کا نسلہ ٹاور تو آناً فاناً عدالتی حکم پر گرا دیا جاتا ہے شاید اس لیے کہ اس میں اشرافیہ کے فلیٹس نہیں تھے۔ عوام اس وقت نظام سے نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں جب ان کو یقین ہو جائے کہ انصاف خریدنے والوں کے لیے الگ اور مجبوروں کے لیے الگ ہوتا ہے۔

