Rishte Adhoore Reh Jaate Hain
رشتے ادھورے رہ جاتے ہیں

موت جب عمر کی دہلیز پار کر چکی ہو تو ہم اسے ایک فطری واقعہ کہہ کر دل کو سمجھا لیتے ہیں جیسے کسی پرانے درخت کا سوکھ کر گر جانا جس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ ایک دن ایسا ہونا ہی تھا۔ مگر یہ دل کی منطق ہے، زندگی کی نہیں۔ زندگی حساب نہیں مانتی، رشتے دلیل نہیں سنتے۔ وہ جہاں جڑ جاتے ہیں وہاں عمر، سال اور منطق سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔
ہمیں شروع سے اشاروں کنایوں میں یہی سکھایا جاتا ہے کہ بوڑھے کی موت پر زیادہ ماتم نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے بھرپور زندگی دیکھی، ذمہ داریاں نبھائیں، اولاد کو پال پوس کر بڑا کیا، انکی شادیاں کر لیں، اب اس کا جانا ایک تکمیل ہے۔ اس جملے میں بظاہر بہت حکمت چھپی ہوتی ہے مگر یہ حکمت صرف سننے والے کو تسلی دیتی ہے، جانے والے کے پیچھے رہ جانے والے دل کو نہیں۔ کیونکہ جو شخص برسوں ہماری زندگی کا حصہ رہا ہو، اس کی کمی عمر دیکھ کر کم نہیں ہو جاتی۔
یہی سوچ میرے اندر بھی خاموشی سے پکتی رہی تھی۔ میں بھی یہی مانتا تھا کہ جوان کی موت زیادہ کربناک ہوتی ہے، بوڑھے کی موت میں دکھ کم ہوتا ہے۔ یہی نظریہ اس دن تک میرے ساتھ رہا جب میرے دادا جی نے دنیا سے رخصت ہونا تھا۔ اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ غم عمر کا محتاج نہیں ہوتا، غم رشتے کا ہوتا ہے۔
دادا جی کے انتقال پر وہی سینے کا بوجھ تھا جو ڈھائی برس پہلے ابا جی کے انتقال پر محسوس ہوا تھا۔ وہی سانس کی گھٹن، وہی لفظوں کی کمی، وہی آنکھوں کے سامنے اندھیرا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ دکھ تو برابر کا ہے۔ میں نے خود سے سوال کیا: اگر بوڑھے کی موت اتنی ہی فطری اور ہلکی ہوتی ہے تو یہ دل کیوں اسی طرح ٹوٹ رہا ہے؟
ابا جی کے انتقال کے بعد دادا جی نے باپ کا خالی ہوتا ہوا سایہ اپنی ہتھیلیوں پر سمیٹ لیا تھا۔ وہ خاموشی سے ہمارے قریب آ گئے تھے۔ کبھی سر پر ہاتھ رکھ دیتے، کبھی خاموشی سے سامنے بیٹھ جاتے۔ نہ کوئی دعویٰ، نہ کوئی اعلان، بس موجودگی۔ وہ جانتے تھے کہ باپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا مگر محبت خلا کو تھوڑا کم ضرور کر سکتی ہے۔
یہ اور بات ہے کہ دادا جی خود دکھوں کے ایسے مسافر تھے جن کی داستان سنی جائے تو دل کانپ اٹھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دو سگے بھائیوں کی میتیں اپنے کندھے پر اٹھائیں، دو جوان بیٹوں کی میتیں اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتاریں، ایک جوان بیٹی کو قبر کے سپرد کیا اور دو دامادوں کی جوانی کی عمر میں وفات کا زہر بھی پیا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی اولاد اور بھائیوں کو کندھا دیا ہو، اس کے لیے بڑھاپا آرام نہیں، صرف سانسوں کی مہلت ہوتا ہے۔
میں نے دیکھا تھا کہ وہ اکثر خاموش رہتے تھے۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں تھی، یہ تجربے کی گہرائی تھی۔ وہ جان چکے تھے کہ زندگی کسی سے وعدہ نہیں کرتی۔ شاید اسی لیے وہ ہمیں زیادہ ٹوکتے نہیں تھے، زیادہ ڈانٹتے نہیں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وقت خود سب کچھ سکھا دیتا ہے، کبھی نرمی سے، کبھی لاشوں کے ذریعے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ "اپنی عمر پوری کرکے گئے"۔ مگر سچ یہ ہے کہ عمر کبھی پوری نہیں ہوتی۔ جو دادا پوتوں کے سروں پر ہاتھ رکھتا ہو، اس کے لیے ہر آنے والا دن ایک نئی امید ہوتا ہے۔ جو نانا اپنی نواسی کی ہنسی سن کر مسکراتا ہو، اس کے لیے زندگی ابھی باقی ہوتی ہے، چاہے سانسیں کم کیوں نہ ہوں۔
دادا جی کے جانے کے بعد مجھے پہلی بار یہ سمجھ آیا کہ بوڑھے کی موت ہمیں اس لیے بھی زیادہ خاموش کر دیتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ پورا زمانہ لے جاتی ہے۔ وہ صرف ایک انسان نہیں جاتا، اس کے ساتھ وہ کہانیاں، وہ روایتیں، وہ پرانے لفظ، وہ دعائیں بھی چلی جاتی ہیں جو نئی نسل کے پاس نہیں ہوتیں۔
شاید اسی لیے دادا جی کے جنازے پر آنسو قدرے کم اور خاموشی زیادہ تھی۔ لوگ زیادہ بول نہیں رہے تھے جیسے سب جانتے ہوں کہ کچھ رشتے الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہاں موجود ہر شخص اپنے اپنے دادا، نانا، بزرگ کو یاد کر رہا تھا جنہوں نے بغیر شور کے زندگی نبھائی تھی۔
اب میں جب کسی بوڑھے کے انتقال پر یہ جملہ سنتا ہوں کہ "انہوں نے عمر پوری کر لی تھی"، تو دل کے اندر ایک ہلکی سی مزاحمت جاگ اٹھتی ہے۔ کیونکہ میں جان چکا ہوں کہ عمر پوری نہیں ہوتی، رشتے ادھورے رہ جاتے ہیں اور بعض اوقات بڑھاپے کی موت بھی اتنی ہی جوان ہوتی ہے جتنی کسی نوجوان کی، بس فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ آنسو خاموش ہو جاتے ہیں۔
دادا جی نے جاتے جاتے مجھے یہ سکھایا کہ دکھ کا تعلق عمر سے نہیں، محبت سے ہوتا ہے اور جن سے محبت ہو ان کی جدائی کبھی وقت دیکھ کر آسان نہیں ہوتی۔

