Waldain, Bache Aur Numbers Ka Taluq
والدین، بچے اور نمبرز کا تعلق

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ بچوں کی کامیابی صرف ان کے نمبروں سے ظاہر ہوتی ہے۔ والدین کا یہی ماننا ہے کہ نمبر اچھے ہوں تو بچہ کامیاب ہے اور اگر نمبر کم ہیں تو بچہ ناکام۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نمبر صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ بچوں کی اصل کامیابی ان کے اعتماد، محنت، تسلسل اور صحت میں چھپی ہوتی ہے۔
والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کو محبت، سپورٹ اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اگر بچہ ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہے، تو نمبر خود بخود بہتر ہو جائیں گے۔ لیکن صرف نمبروں پر زور دینے سے بچہ ذہنی دباؤ میں آ سکتا ہے اور اس کی سیکھنے کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔
اگر تو ہم واقعی بچے کو سکھانا چاہتے ہیں تو ہم میں بچے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ مگر ہم بچے سے زیادہ خاندان والوں اور لوگوں کی فکر کرتے ہیں۔ اگر میرے بچے کے اچھے نمبر نہ ائے تو خاندان والے کیا کہیں گے؟ اگر اس سال میرا بچہ اول پوزیشن لے کر نہ آیا تو لوگ کیا کہیں گے میرے مائی کے والے کیا کہیں گے میرے سسرال والے کیا کہیں گے؟ میرا آپ سے سوال ہے کہ ہم مائکے والو اور سسرال والوں کے لیے بچوں کو پڑھا رہے ہیں ان کو اچھا انسان بننے کے لیے نہیں؟ کیا نمبروں سے زیادہ یہ ضروری نہیں ہے کہ بچہ خوش ہو اور صحت مند ہو؟
میں مانتی ہوں کہ نمبر ضروری ہیں۔ لیکن ان نمبروں کا کیا کریں گے جن کو حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے بچے کو کھو دیں گے آپ اس کے اعتماد کو کھو دیں گے۔ آپ اس کی محبت کو کھو دیں گے۔ پھر کل کو آپ شکوہ کریں گے کیا آپ کا بچہ آپ کو سمجھتا نہیں۔ یاد رکھیں آج آپ اسے نہیں سمجھ رہے تو کل وہ آپ کو سمجھ کر بھی نہیں سمجھے گا۔ اس کو یاد آئے گا کیا آپ کو نمبر چاہیے تھے بچہ نہیں۔ ایک بچہ اچھے نمبر حاصل کرکے پاس ہو جائے۔ بلکہ پورا ضلع ٹاپ کر لے۔ مگر اس میں اعتمادگی کمی ہو تو کیا اس کا وہ ٹاپ کیا ہوا ضلع اس کے کسی کام کا ہے؟ جب وہ باہر لوگوں سے ملے اسے بات کرنی نہ آئے۔
پڑھنے کا مطلب نمبر حاصل کرنا نہیں ہے۔ پڑھنے کا مطلب اپنی ذمہ داریوں کو جاننا اور ان کو حسن سلوک کے ساتھ نبھانا ہے پڑھائی ہمیں ہم سے ملاتی ہے ہمیں ہماری ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے۔ پڑھائی بوجھ نہیں بلکہ انسان بننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس کو اپنے بچوں پر بوجھ نہ بنائیں۔ وہ آپ کا بچہ ہے۔
یاد رکھیں وہ بچہ ہے بچے کو بچے کی طرح بڑے کو پڑے کی طرح ہر عمر کے انسان کو اس کی عمر کے مطابق ٹریٹ کیا کریں۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اس جملے پر غور کریں اگر وہ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی تو وجہ ہوگی نا وہ بچوں کو گود میں بٹھاتے وہ بچوں کے ساتھ کھیلتے وہ تو بچے ان کے بھی نہیں تھے لیکن وہ پھر بھی کتنا پیار کرتے تھے۔ یہ تو آپ کی اپنی اولاد ہے تھوڑا سا رحم کھائیں بچوں پر اور بچوں کو بتائیں کہ وہ آپ کے لیے بہت اہم ہیں۔
ہمیں بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ نمبر اہم ہیں، لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ سیکھیں، کوشش کریں اور اپنی پڑھائی میں دلچسپی لیں۔ نمبر کبھی بچے کی محنت، تخلیقی سوچ یا خود اعتمادی کا مکمل پتہ نہیں دیتے۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے دل، دماغ اور صحت پر بھی توجہ دیں۔
آخر میں، والدین کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نمبر وقتی کامیابی ہیں، لیکن بچے کی خوشی، اعتماد اور صحت ہمیشہ کا سرمایہ ہیں۔ اگر ہم ان پر توجہ دیں، تو بچے نہ صرف نمبر میں کامیاب ہوں گے بلکہ زندگی میں بھی کامیاب اور خوش رہیں گے۔

