Ghair Ikhlaqi Kirdaron Ki Pazeerai
غیر اخلاقی کرداروں کی پزیرائی

اگر ہم میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو اداکاروں متعلق خبروں کے رجحان سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا یہ طبقہ معاشرے کا رول ماڈل بنتے جا رہے ہیں۔ خاص کر میڈیا پر غیر اخلاقی کرداروں کا پرچار کرتی ان کی ادائیں، ناز و نخرے، عشقیہ داستانیں اور بالآخر ایک دوسرے سے علیحدگی پر مبنی معاشرت ہماری نئی نسل کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں اداکاری کا معاشروں کی تشکیل میں اہم کردار ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسا قطعاً بھی نظر نہیں آرہا جس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو ہمارے لکھاریوں کی ترجیحات اور ہدائتکاری کی سمت درست نہیں رہی یا پھر ہمارے معاشرے کے اندر منفی پہلوؤں کی مقبولیت کا رجحان غالب آ چکا ہے۔
ڈرامے اور فلمیں کسی بھی معاشرے کے اندر ماحول کی عکاسی کر رہی ہوتی ہیں مگر ان کے پس پردہ اصل مقاصد معاشرتی اصلاح ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے گماں ہوتا ہے کہ گویا ہم اس اصلاحی ہتھیار کو برائی کی تشہیر یا اس میں کشش پیدا کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ معاشرے میں برائی کی قبولیت کا دوستانہ ماحول بھی ہو سکتا ہے مگر ایسے حالات میں میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے نہ کہ ایسے پہلووں کو جو ہماری قومی اور شرعی اقدار کے خلاف ہوں۔
میڈیا کو ہمیشہ سادگی، دانشمندی اور حکمت پر مبنی معاشرتی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے فضول خرچی، جاہلانہ رسم و رواج اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تاکہ عوام کے اندر مثبت رجحان پیدا کیا جا سکے۔
ڈرامہ اور فنون لطیفہ معاشروں کی تشکیل میں ایک موثر ہتھیار ہوتے اور اگر ان کا استعمال ٹھیک سے نہ ہو رہا ہو تو تباہی اس قدر سرائیت کر جاتی ہے کہ اس سے چھٹکارہ صدیوں کی محنت سے بھی ممکن نہیں رہتا۔
پچھلی دو دہائیوں سے اداکاری کے اثرات جہاں مختلف طبقہ زندگی پر پڑے ہیں وہاں ان سے سیاست بھی محفوظ نہیں رہ سکی اور کارکردگی سے بے نیاز محض کھوکھلے نعروں اور رقص و سرور کی محفلوں کو ہی سیاست سمجھا جانے لگا تھا جس کے اثرات اس قدر غالب آ چکے ہیں کہ ان کے خلاف اب بات کرنا بھی فضول کوشش سمجھا جانے لگا ہے۔ کارکردگی دکھانے والوں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال کی طرف اشارہ ہے۔
حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پہلو کی طرف توجہ دیں اور علمی و ادبی لوگوں کا ایک ایسا ریسرچ یونٹ بنائیں جو میڈیا، تھیٹر اور فلم انڈسٹری کی سرگرمیوں اور کارکردگی پر نظر رکھتے ہوئے اصلاح کے پیمانوں کو رائج کروائے اور ایسی اداکاری جس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہوں کی حوصلہ شکنی اور جوابدہی کو ممکن بنائے تاکہ معاشرے میں بہتری لانے کے عمل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
میڈیا کو بھی چاہیے کہ اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق بنائے جس میں مثبت تاثر کو عام کرنے کی ترغیب ہوتاکہ تعمیری معاشرہ پرورش پا سکے جو ملک کی ترقی و خوشحالی کے عمل میں ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ سیاست، گورننس اور ترقی کے عمل میں نگرانی اور محاسبے کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو چہ جائے کہ تماشائی بن کر اپنی نسلوں کی تباہی پر تالیاں بجاتے رہیں۔

