Is Rastay Ka Anjam Kya Hai?
اس راستے کا انجام کیا ہے؟
شائستہ لودھی بڑی پیاری ہوتی تھی۔ مینٹین بھی رکھا ہوا تھا، تو اور بھی اچھی لگتی تھی۔ لیکن آئے دن کے پروسیجر کروا کروا کے اپنی ستیاناس کروا لی ہے۔ جب فلٹرز نئے نئے آئے تو ہم میں سے شاید ہی کوئی بچا جس نے فلٹر چہرے پر تھوپ تھوپ کر تصویریں نہ بنائیں۔ پھر ذرا عقل آئی تو سوچا کہ ذرا سی دیر کو کیمرہ میں جیسے بھی دکھائی دیں، اصل شکل تو وہی ہے جو آئینے میں نظر آتی ہے۔ یا آس پاس والوں کو۔
لیکن اب بات فلٹرز سے آگے کی ہے۔ راہ چلتی لڑکیوں نے بھی لپ فلرز کروا رکھے ہیں۔ پہلے یہ سب بہت مہنگا اور عام انسان کی پہنچ سے دور تھا، اب ذرا سا فالتو پیسہ آ جائے تو بوٹوکس سے نیچے ٹھہرتا نہیں کوئی۔
انسان اللہ کی تخلیق پر راضی نہیں، تو پھر خود ساختہ تبدیلیوں پر کیسے راضی رہ سکتا ہے۔ پہلے کچھ کروایا، پھر کچھ دن جب اس کے عادی ہو گئے تو مزید اور یہ سلسلہ کہیں رکتا نہیں۔ اللہ احسن الخالقین ہے اور اس نے انسان کو بہترین ساخت، بہترین توازن اور بہترین صورت میں پیدا فرمایا۔ مگر ہم اسے نعمت سمجھنے کے بجائے پروجیکٹ بنا بیٹھے ہیں جسے ہر وقت آپ گریڈ کرنا ہے۔ کتنی ہی سیلیبریٹیز نے اپنی شکل صورت تباہ کروا لی اس چکر میں اور سب کے سب ایک جیسے مصنوعی فیشل فیچرز کے ساتھ۔ سب کی ایک سی ناک، ایک سے ہونٹ، ایک سی چیک بون، ایک سی پلکیں۔
اوپر سے ہم اپنی عمر پر جانے اتنے شرمندہ کیوں ہیں کہ بس نہیں چلتا کیسے ایجنگ روک دیں۔ ایشوریہ رائے سے لے کر مریم نواز تک اور بشرٰی انصاری سے لے کر شائستہ لودھی تک ہر ایک بس اسی دوڑ میں ہے کہ جوان دکھائی دوں۔ پتہ نہیں خود کو اپنی فائن لائنز اور جھریوں کے ساتھ قبول کرنا اتنا ناقابلِ قبول کیوں ہے؟ اور جہاں بھنویں شیپ کرنا اور ٹیٹوز منع ہوں، وہاں رنگا رنگ پروسیجرز کو اتنا نارملائز کر دیا گیا ہے کہ اب کسی کو خیال بھی نہیں آتا کہ یہ کتنا غلط ہو رہا ہے۔
نوجوان لڑکیاں جو حسن کا یہ بناوٹی معیار دیکھ کر متاثر ہوتی ہیں، خود کو کم تر سمجھتی ہیں، میں چاہتی ہوں کہ وہ یہ بھی سوچیں کہ واقعی خوبصورت خواتین اگر خود سے مطمئن نہیں تو ہم کس دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش میں لگے ہیں اور یہ بھی کہ اس راستے کا انجام کیا ہے۔ ایک تو من مانی تبدیلیاں اور پھر مسلسل دل کی بے سکونی اور پھر مزید تبدیلیاں۔ ہوتے ہوتے انسان اپنی اصل شکل صورت بھول ہی جاتا ہے۔ پتہ نہیں آئینہ دیکھ کر اون کیسے کرتے ہیں خود کو؟
جتنی کوششیں خود کو تبدیل کرنے میں لگائی جاتی ہیں، اس سے آدھی بھی خود کو قبول کرنے میں لگا لی جائیں تو زندگی سکون ہو اور چہرے پر ویسے ہی گلو آ جائے۔

