Kutta Kuen Mein
کتا کنوئیں میں

ہمارے ملک میں نیٹ ٹیکس کی شرح نسبتا دوسرے ہمسایہ ممالک کے زیادہ ہے۔ لیکن اس کے برعکس ٹیکس وصولی کی شرح کم ہے۔ جس کی وجہ سے ہر سیاسی حکومت کو ہمیشہ معاشی مسائل کا سامنا رہا ہے اور اس کو عالمی مالیاتی ادارے کے دروازے کھٹکانے پڑتے ہیں۔ ہر سال بجٹ کے موقع پر سرسری گفت وشنید کے بعد نمبروں کو آگے پیچھے کرکے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے کام لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ کہ ہم اپنے خطے کے ہمسایہ ممالک سے ترقی کی شرح میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ہماری حکومتی سیاسی نظام کا کمزور ہونا ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج تک کوئی بھی سیاسی حکومت سوائے سیاسی نعروں کے کوئی لمبا معاشی پلان نہیں دے سکی ہے اور نہ ہی کسی آنے والی نئی حکومت نےکسی اچھی معاشی پالیسی کو تسلسل سے نوازا ہے۔ ہم کولہو کے بیل کی طرح ایک گول دائرے میں ہی سفر کئے جارہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کے ایف بی آر سفید ہاتھی بن چکا ہے۔ اس کی تنظیم نو کا وقت آن پہنچا ہے۔ جب کوئی کشتی ڈوب رہی ہو تو اضافی بوجھ کو سمندر برد کیا جاتا ہے۔ اس نقطہ کو جو بھی سیاسی حکومت سمجھ جائے گی۔ ملک معاشی منازل طے کرنے لگے گا۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ایف بی آر کے کرتا دھرتا لوگوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ سیاسی حکمرانوں کو زیر عتاب رکھا جائے جو بے تحاشہ قوانین پاس ہو چکے ہیں۔ ان سے دست بردار نہ ہوا جائے۔ اصل جان اس توتے کے اندر ہے۔
ہمیشہ سے چھوٹا تاجر ٹیکس دینا چاہتا ہے۔ لیکن ہمیشہ اس نے آواز اٹھائی ہے کہ ٹیکس کی شرح کو کم کیا جائے۔ پیپر لیس کیا جائے کیونکہ ہمارا چھوٹا تاجر کچھ زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہے پر محب وطن ضرور ہے۔ وہ ان قانونی موشگافیوں میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ اس کے لئے آپ کو الگ سے وکیل حضرات کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب بھی ٹیکس اسکیم کوئی لانچ ہوتی ہے تو یہ تکون برقرار رکھی جاتی ہے۔ جس میں ایف بی آر اور وکیل حصہ دار ہوتے ہیں۔
ابھی چھوٹے تاجر کی فکس ٹیکس اسکیم لانچ کی گئی ہے۔ اس ٹیکس اسکیم کو فیل کرنے کے لئے سابقہ طریقہ کار ہی اپنایا گیا ہے۔ ماضی میں جتنی بھی اس طرح کی اسکیمز متعارف کروائی گئیں۔ ایف بی آر کے بابوؤں نے اس میں ایسی جھول رکھی کہ تاجر واپس ان کے پاس در دولت پر حاضری دے اور وہ اپنا فرعونی رویہ اپناتے ہوئے ملک کی خدمت کے ساتھ ساتھ تھوڑی بہت اپنی بھی خدمت کروا لیں۔ حکومت ٹیکس کولیکشن میں اگر واقعی سنجیدہ ہے توان کو چاہئے کہ چھوٹے تاجر کو فکس ٹیکس لگائے لیکن اس کی وصولی بجلی کے بل میں سال میں ایک یا دو مرتبہ وصول کر لے۔ یہ جو گوشوارے کے بھرنے کا گھن چکر ہے چاہے ایک صفحہ ہی کیوں نہیں اور ساتھ فیصد کی پخ اور یہ ایڈوانس پچیس ہزار جمع کروائیں بعد میں ری فنڈ کروائیں یہ سب اوپر والوں کی کارستانی ہے۔
ایف بی آر کبھی نہیں چاہتی کہ ان کو بائی پاس کرکے حکومت ٹیکس اکٹھا کرے۔ جب تک چھوٹے تاجر کو جو اپنا حساب کتاب نہیں رکھتا وہ کیسے اپنا گوشواراہ بھر سکتا ہے۔ جتنا ٹیکس کے نظام کو آسان سہل کریں گے ٹیکس ریونیو بڑھے گا۔ مڈل مین کے کردار کو ختم کرنا ہوگا۔ پیپر لیس کرنا ہوگا۔ ڈیجیٹل کرنا ہوگا۔ چھوٹے تاجر سے آپ صرف ایک ایپ بنا کر سیدھا حکومتی خزانہ میں رقم جمع کروا سکتے ہیں۔ جب تک کنوئیں میں پڑا کتا باہر نہیں نکالا جاتا پانی ناپاک ہی رہے گا چاہے جتنے مرضی ڈول بھر کے باہر نکالتے رہیں۔ آپ جب تک ایف بی آر کی مناپلی کا توڑ نہیں کریں گے خزانہ کبھی نہیں بھرے گا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا دودھ کی رکھوالی کے لئے آپ بلے کو پال لیں۔
نوٹ: ایف بی آرسے جان خلاصی صرف چھوٹے تاجر کے لئے ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر سے حکومت جیسے چاہے اپنا ٹیکس اکٹھا کرے۔

