Wafadari Ki Saza (2)
وفاداری کی سزا (2)

پچھلی قسط میں ہم نے اس تلخ حقیقت پر بات کی تھی کہ گلگت بلتستان کے لوگ گزشتہ اناسی برسوں سے اپنی بے لوث وفاداری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، ایک ایسی وفاداری جس کے بدلے میں انہیں مکمل آئینی شناخت بااختیار نمائندگی اور بنیادی سیاسی حقوق آج تک نہیں مل سکے۔ مگر کہانی صرف اتنی نہیں اس داستان کا ایک اور باب بھی ہے اور شاید زیادہ دردناک باب۔ یہ باب سوالوں کا ہے وہ سوال جو کبھی پوچھے ہی نہیں گئے وہ سوال جو پوچھنے چاہیئے تھے مگر نعروں کے شور میں دب گئے وہ سوال جو ہر الیکشن کے بعد عوام کے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں مگر اگلے الیکشن تک کہیں گم ہو جاتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں انتخابات کا موسم ہمیشہ بہار کی طرح آتا ہے۔ سڑکیں اچانک اہم ہو جاتی ہیں عوام اچانک عزیز ہو جاتے ہیں، جلسے شروع ہو جاتے ہیں قافلے نکل آتے ہیں اور وعدوں کی فصل اگنا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وفاق کو یک دم یاد آ جاتا ہے کہ شمالی پہاڑوں کے درمیان بھی کچھ لوگ بستے ہیں جنہیں کبھی کبھی خوشخبریاں سنانا ضروری ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ خوشخبریاں صرف انتخابات کے موسم میں ہی کیوں پیدا ہوتی ہیں؟
گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی ہو رہا ہے۔ ہر الیکشن میں نئے وعدے نئے دعوے نئی امیدیں اور نئے خواب کبھی بجلی کے منصوبے کبھی ترقی کے منصوبے، کبھی روزگار کے وعدے اور کبھی آئینی حقوق کی نوید۔ لیکن جب انتخابات گزر جاتے ہیں تو وعدے بھی رخصت ہو جاتے ہیں اور عوام بھی دوبارہ انتظار کے طویل موسم میں داخل ہو جاتی ہے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس سارے عمل میں عوام نے خود کو صرف سامع بنا لیا ہے گونگا بن کر یہ عوام سنتی رہی خوش ہوتی ہے تالیاں بجاتی ہے اور پھر گھر واپس چلی جاتی ہے۔
سوال پوچھنے کی روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے مطلب یہ روایتی غلام بن گئی غلامی کے سحر میں ایسی مست قوم میں نے آج تک نہیں دیکھی نہ انکو علاقے کی ترقی عزیز اور نہ ہی اپنے بچوں کا مستقبل عزیز اگر عزیز ہے تو دھوکہ باز پارٹیاں اور اسکے نمائندے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر ایک پارٹی نے عوام کی کھال تک ادھیڑ دی دوسری پارٹی نے قرض اتارو ملک سنوارو کے نام پر عوام کو بھکاری بنا دیا اور اپنے بچوں کو کھرپ پتی بنایا آج مزے سے لندن میں عیاشیاں کر رہی ہیں ہماری سوئی ہوئی قوم کو کچھ نظر نہیں آرہی ہے سوائے انکی غلامی کے۔
دنیا کی ہر زندہ قوم اپنے حکمرانوں سے حساب مانگتی ہے ترقی یافتہ معاشروں میں سیاستدان اگلے وعدے کرنے سے پہلے پچھلے وعدوں کا جواب دیتے ہیں وہاں عوام پوچھتی ہے کہ خزانہ کہاں خرچ ہوا؟ منصوبہ کہاں گیا؟ ترقی کہاں آئی؟ لیکن ہمارے ہاں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں وعدہ پورا نہ ہونے پر شرمندگی سیاستدان کو نہیں بلکہ سوال کرنے والے کو ہوتی ہے گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور المیہ مقامی قیادت کا کردار بھی ہے وفاقی ایوانوں سے آنے والے سیاستدان تو اپنے سیاسی مفادات کے تحت آتے اور چلے جاتے ہیں مگر یہاں کے مقامی نمائندے کس کے سامنے جوابدہ ہیں؟
عوام کے یا اپنے سیاسی سرپرستوں کے یہ وہ سوال ہے جس سے اکثر لوگ دانستہ گریز کرتے ہیں عوام کی محرومیوں میں بیرونی قوتوں کا کردار ضرور ہو سکتا ہے لیکن مقامی خاموشی بھی کم ذمہ دار نہیں جب نمائندے عوام کے ترجمان بننے کی بجائے طاقتور حلقوں کے ترجمان بن جائیں تو پھر محرومیاں مقدر بن جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے آج گلگت بلتستان کے نوجوان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ صرف بے روزگاری نہیں بلکہ بے یقینی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کے خطے کا آئینی مستقبل کیا ہے وہ نہیں جانتا کہ اس کی شناخت کیا ہے وہ نہیں جانتا کہ اس کے وسائل پر فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے اور وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے نام پر کیے جانے والے وعدوں کی اصل حیثیت کیا ہے۔
یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے پہاڑ ہیں، دریا ہیں، معدنیات ہیں۔ سیاحت ہے۔ جغرافیائی اہمیت ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر اتنی دولت موجود ہے تو پھر محرومی کیوں موجود ہے؟ شاید اس لیے کہ وسائل سے زیادہ اہم اختیار ہوتا ہے اور اختیار آج بھی اس عوام کے ہاتھ میں نہیں جس کے نام پر سیاست کی جاتی ہے عوام کو ژرملہ کے تیر اور جنگل کے بے رحم خونخار شیر کے حوالے کردیا گیا تیر عوامی امنگوں کو چھلنی کرتا ہے۔ زخم دیتا ہے اور درندہ صفت شیر عوام کو تسلی شکار کرتا ہے اب ان دونوں سے بچنے کا وقت ہے بلکہناب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ شخصیات سے آگے بڑھ کر اصولوں کی سیاست کو سمجھیں۔ نعروں سے آگے بڑھ کر سوالوں کی سیاست کو اپنائیں جلسوں کی رونق سے آگے بڑھ کر اپنے حقوق کی حقیقت کو پہچانیں کیونکہ تاریخ کا سبق بڑا واضح ہے جو قومیں سوال کرنا چھوڑ دیتی ہیں وہ جواب پانے کا حق بھی کھو دیتی ہیں اور جو قومیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کرتیں ان کے حقوق ہمیشہ وعدوں کی فائلوں میں دفن رہتے ہیں۔
وفاداری ایک عظیم وصف ہے مگر وفاداری کا مطلب خاموشی نہیں ہوتا محبت کا مطلب غلامی نہیں ہوتا۔ وابستگی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انسان اپنے جائز حقوق کے مطالبے سے دستبردار ہو جائے۔ شاید گلگت بلتستان کے عوام کو اب یہی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے بھٹو کی غلامی سے نکلنے کی ضرورت ہے شریفوں کی غلامی سے نکلنے کا وقت ہے یہ سیاسی پارٹیاں کم سیاسی فیکٹریاں زیادہ ہیں اگر وفاداری شعور کے ساتھ ہو تو عزت بنتی ہے اور اگر سوال کے بغیر ہو تو اکثر سزا بن جاتی ہے اور گلگت بلتستان کی تاریخ آج بھی اسی سوال کے جواب کی منتظر ہے۔ نیز ایک اہم بات ہمارے مقامی نمائیندوں نے بھی عوام کو کوئی شعور نہیں دیا وہ بھی اپنے مفادات کو لیکر وفاقی پارٹیوں کے کھٹ پتلی غلام بنتے رہے مفادات سمیٹتے رہے عوام کو نعتوں میں لگا کر انکا مستقبل داو پر لگا دیا اور خود مزے لیتے رہے وفاقی حکومت اور ہمارے اپنے مقامی نمائیندے اس قوم کے اصل مجرم ہیں جنہوں نے بنیادی حقوق تلف کرکے عوام کو نعروں کے پیچھے لگا دیا جو آج 78 سال کے بعد بھی اپنے حقوق سے محروم ہے۔۔
جاری ہے۔۔

