Monday, 02 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Watan Sab Se Bala Hai

Watan Sab Se Bala Hai

وطن سب سے بالا ہے

اسی سرزمین پر فاطمہ جناح کو انتخابی میدان میں دیوار سے لگایا گیا۔ اسی ملک میں بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ بینظیر قتل ہوئیں۔ نواز شریف تین بار اقتدار سے نکالے گئے۔ باچا خان کے بعد ولی خان کو قید کیا گیا۔ ایوب، یحییٰ، ضیا اور مشرف کے ادوار میں سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگیں۔ کارکنان کو کوڑے پڑے۔ شاہی قلعے سے مچھ جیل تک قید و بند اور تشدد کی طویل داستانیں رقم ہوئیں۔ سیاسی کارکنان جیلوں سے پاگل ہو کر نکلے۔ ادیب و شعراء کو بھی نہ بخشا گیا۔ یہ سب کچھ ہوا۔ بار بار ہوا۔ مگر ایک بات نہیں ہوئی۔

وہ یہ کہ سیاسی اختلاف کو دشمن کے بیانیے میں ڈھالنے کی روایت عام نہیں ہوئی۔ فوج سے اختلاف تھا، عسکری مقابلہ بھی ہوا، فوج کے خلاف الذوالفقار جیسی مسلح تنظیم بنی، اس نے طیارہ بھی ہائی جیک کیا مگر کسی نے دشمن ملک کے حملے کو جواز بنا کر اپنے ہی وطن کو تماشہ نہیں بنایا۔ اختلاف تھا مگر ریاست دشمنی کا باقاعدہ میلہ نہیں لگا۔

آج مسئلہ تاریخ کا سیاہ ہونا نہیں شعور کا نہ ہونا ہے۔ سوشل میڈیا کے عہد میں ایک نیا قبیلہ پیدا ہوا۔ سیاسی عقیدت مندوں کا قبیلہ۔ یہ سیاست کو نظریے سے نہیں، شخصیت سے ناپتے ہیں۔ ان کے نزدیک پارٹی آئین نہیں، لیڈر کا مزاج آئین ہوتا ہے۔ دلیل کی جگہ گالم گلوچ، اختلاف کی جگہ تمسخر اور تنقید کی جگہ کردار کشی۔

اگر کسی جج کا فیصلہ خلاف آ جائے تو وہ بکاؤ ہے، اگر حق میں آ جائے تو وہ عدل کا مجسمہ۔ جو صحافی تعریف کرے وہ جینوئن، جو سوال کرے وہ لفافہ۔ جو ہر بیانئے کا باجا بن جائے وہ حق کی آواز، جو اختلاف کرے وہ باطل، جاہل۔ یہ وہی گروہ ہے جو کل تک فوجی سپورٹ کے سائے میں "ون پیج" کی برکتیں گنواتا تھا۔ تب کہا جاتا تھا کہ "جو پاک فوج پر بھونکتا ہے وہ بھارت چلا جائے"۔ آج وہی حلقے فوج کو یزیدی قرار دے کر کارکنان کو ابھارتے ہیں۔

سوشل میڈیا بریگیڈ کا حال یہ ہے کہ دہشت گردی میں شہید ہونے والے جوانوں کی خبر پر لافٹر ری ایکٹ آتا ہے۔ مخالف سیاستدان کی موت پر طنز، کوسنے اور تمسخر۔ حالانکہ کوئی بشر لافانی نہیں۔ سب نے رخصت ہونا ہے۔ ایک دن ایسا بھی آنا ہے جب پسندیدہ شخصیت نے جانا ہے۔ کیا کوئی پسند کرتا ہے اس دن طنز، تمسخر اڑایا جائے؟ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے اور رد عمل کئی گنا زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ اگر نہیں چاہتے کہ ایسا رد عمل اپنی پسندیدہ شخصیت کی موت پر آئے تو آج ایسا عمل نہ کیجئیے۔ بدتہذیبی کو انقلابی جرات سمجھ لیا گیا ہے۔ گالی کو دلیل اور تضحیک کو جرات کا نام دے دیا گیا ہے۔

سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ خارجی بیانیوں کو داخلی ہتھیار بنا لیا گیا ہے۔ بھارت یا افغانستان کے میڈیا کی کسی خبر کو بنیاد بنا کر ریاستی اداروں پر حملہ کرنا، جنگ کو "نورا کشتی" کہنا، ہر واقعے کو اندرونی سازش قرار دینا۔ یہ سیاسی تنقید نہیں ذہنی انتشار ہے۔ اختلاف حق ہے۔ مگر دشمن کی زبان بولنا حق نہیں۔ شہداء کی توہین آزادی اظہار نہیں اور ہر مخالف کو یزید قرار دے کر خود کو حسین ثابت کرنا مذہب کارڈ کا سستا ترین استعمال ہے۔

یہ کیفیت دراصل ایک کلٹ کی علامت ہے۔ کلٹ میں سوال جرم ہوتا ہے، اختلاف غداری اور رہنما معصوم عن الخطا۔ جب جرمنی میں نازی ازم شکست کھا گیا تو اتحادیوں کو برسوں لگے لوگوں کے ذہنوں سے نسلی برتری کا خناس نکالنے میں۔ وہ بھی تب جب ڈی نازیفیکیشن پروگرام سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ورکنگ پلیس پر لازم حصہ بنایا گیا۔ ڈی نازیفیکیشن صرف حکومت نہیں معاشرے کی سطح پر ہوا۔

فوجی آمریت بلاشبہ قابلِ تنقید ہے مگر شخصی آمریت بھی ویسی ہی ہے۔ اگر اداروں کی بالادستی مسئلہ ہے تو فرد کی بالادستی بھی مسئلہ ہے۔ سیاست مذہب نہیں، خدمت ہے۔ لیڈر نبی نہیں، انسان ہے۔ اگر ہم نے شخصیت پرستی کے اس خناس کو نہ روکا تو کل کوئی اور چہرہ ہوگا مگر رویہ یہی رہے گا۔

صرف اتنا ہی تو سمجھنا ہے کہ یہ ملک میرا ہے اور میں نے اس کا دفاع کرنا ہے۔ مجھے حملہ آوروں کی آواز نہیں بننا۔ مجھے پاکستانی بننا ہے۔ وطن سب سیاسی، مذہبی و سماجی شخصیات سے بالا ہے۔

Check Also

Tareekh Jo Hum Nahi Jante

By Zahra Javed