Friday, 27 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Pak Afwaj Hamara Fakhar

Pak Afwaj Hamara Fakhar

پاک افواج ہمارا فخر

اکثر لوگ افواج پاکستان پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور پچھلے کچھ عرصہ سے ایک سیاسی جماعت تسلسل سے افواج پاکستان کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہی ہے اور چند دن پہلے ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے فوج کو چند اضلاع کی فوج کہہ کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ افواج پاکستان میں پورے پاکستان کی نمائندگی نہیں ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کیونکہ پاکستانی فوج میں تمام صوبوں کے ناموں سے ناصرف رجمنٹس قائم ہیں بلکہ سارے پاکستان سے فوج میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد بھی خاطر خواہ موجود ہے۔

فوج میں بھرتی ہونا کوئی بہت عیاشی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ قربانی اور وطن کی مٹی کی حفاظت سے مامور ہے۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ آج بھی سات لاکھ فوج میں سے زیادہ تر افراد بہت اچھی معاشی پوزیشن میں نہیں ہوتے اور سویلین تو اپنی نوکریوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی کاروبار بھی کرسکتے ہیں جبکہ پاکستان آرمی کے لوگ پوری زندگی مشکل ترین محاذوں پر تعینات ہوتے ہیں۔ جہاں نہ تو خاندان کے افراد سے ملاقات ہوتی ہے اور نہ ہی آزادی سے کھانا پینا ہی میسر ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے ملک کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں اور یہاں تک کہ جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔

میری اکثر ریٹائرڈ فوجی بھائیوں سے ملاقات ہوتی ہے جو کسی نہ کسی آفس کے باہر اور کسی فیکٹری کے گیٹ پر گارڈ کی نوکری کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ اس بات کی گواہی ہے کہ ایک فوجی کو اپنی جوانی سرحدوں اور مشکل ترین محاذوں پر گزارنے کے بعد بھی زندگی کی ڈور چلانے کے لئے سخت محنت ہی کرنا پڑتی ہے۔

کسی بھی ملک کے بقا کے لئے اس وقت مضبوط اور تربیت یافتہ فوج کا کردار بڑا اہم ہے، کیونکہ آج کی دنیا بظاہر تو مہذب اور بین الاقوامی قوانین کے تحت متحد دکھائی دیتی ہے، لیکن دنیا میں طاقتور کے سامنے کوئی قانون نہیں ٹھہرتا ہے، بلکہ جہاں بھی طاقتور ملک اپنا قبضہ جمانا چاہتا ہے تواس کے سامنے کوئی ضابطہ یا اخلاق رکاوٹ نہیں بنتا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ وینیزویلا جیسے پٹرول سے مالا مال ملک کے اندر گھس کر امریکہ نےاس کے صدر کو ہی گرفتار کرلیا اور اس کے تمام وسائل پر قبضہ جمالیا۔ اس سے پہلے ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ پہلے روس اور پھر امریکہ نے افغانستان کے اندر دھائیوں اپنا تسلط قائم رکھا ہے۔

آج یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی جانے لگی ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ملک اپنی آزادی کو قائم رکھنا چاہتا ہے تو اس کو مضبوط فوج اور جدید اسلحہ سے لیس ہونا ضروری ہے اور ان دونوں چیزوں میں سے پہلی ترجیح مضبوط اور تربیت یافتہ فوج ہی ہے جو آج کے دور میں کسی بھی ملک کی آزادی کی علامت ہے۔

پچھلے سال پاک بھارت جنگ میں دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ بھارت اپنی عددی فوجی برتری اور دنیا کے جدید ترین طیاروں اور ڈیفنس سسٹم کے ساتھ پاک فوج کے سامنے چند گھنٹے بھی نہ ٹھہر سکا اور مودی سرکار کو امریکہ سے مداخلت کی بھیک مانگنا پڑی تھی۔ اس جنگ میں ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے فرانسیسی رافیل طیاروں کو پاک افواج کے شاہینوں نے اپنے تیار کئے گئے جے ایف 17تھنڈر طیاروں کی مدد سے ان کے اپنے ہی ملک کے اندر بھسم کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ بھارت چاہے جتنا بھی اسلحہ اکٹھا کرلے اور دنیا کا جدید ترین نظام لے آئے لیکن پاک فوج کی بہادری اور پروفیشنلزم کے سامنے اس کی دال نہیں گل سکتی ہے۔

پاکستانی فوج نے 1948 کی جنگ سے لے کر آج تک ناصرف کھلی جنگوں میں، بلکہ مختلف پراکسی فورسز کے سامنے ڈٹ کر ہمیشہ ملکی سالمیت کا تحفظ کیا ہے جو لائق تحسین بھی ہے اور قابل فخر بھی۔ آج اگر ہم اپنے پورے نظام کا تنقیدی جائزہ لیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ سیاسی اور معاشی بدحالی کے باوجود افواج پاکستان اپنا کردار ادا کررہی ہے اور وہ بھارت جس کا سیاسی نظام بڑا مضبوط ہے اور وہاں کے سیاستدان ہمارے سیاستدانوں سے زیادہ میچور ہیں اور تو اور کھیلوں کے میدان میں بھی بھارت ہمیشہ پاکستان سے بہت آگے رہا ہے۔ پھر بھارت کی معیشت کا حجم اور اس کی معاشی پالیسیاں پاکستان کی نسبت زیادہ دیرپا اور پائیدار ہیں۔ ایسی ہی حالت وہاں کی سول بیوروکریسی کی ہے جس نے بھارت جیسے مختلف قومیتوں کے ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک کو دنیا کی معیشت میں بڑا مقام دیا ہے اور آئی ٹی کے میدان میں بھی بھارت کی بالا دستی کو دنیا مانتی ہے۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیاست دان آج بھی محاذ آرائی کا شکار ہیں اور وزیر اعظم سے لے کر عام ممبر اسمبلی تک ہر کوئی اپنے لئے تنخواہوں کے بڑھانے اور گاڑیاں اور جہاز خریدنے میں مصروف ہے۔ جبکہ بیوروکریسی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہاں تک کہ وطن عزیز کی عدلیہ اور سرکاری افسران کی تنخواہیں بھارتی بیوروکریسی اور عدلیہ سے بہت زیادہ ہیں لیکن پھر بھی ہم غربت اور معاشی بحرانوں کا شکار ہیں۔

اگر موازنہ کیا جائے تو صرف دفاع کے میدان میں ہمارا پلڑا ہمیشہ ہندوستان سے بھاری رہا ہے اور افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور ملک کے لئے لڑ مرنے کا جذبہ پاک فوج کو دشمن کے مقابلہ میں مضبوط بناتا ہے۔ حالانکہ بھارت کی فوج پاکستانی فوج سے دگنی ہے اور بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے بھی زیادہ ہے، لیکن جب بھی بھارتی فوج نے پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھا ہے تو افواج پاکستان نے اس کے ایسے دانت کھٹے کئے ہیں کہ پھر کئی سال تک بھارت دبک کر بیٹھنے پر مجبور ہوگیا۔

1965 کی جنگ میں بھارتی فوج لاہور پر قبضہ کا خواب لے کر آئی اور اپنے کئی علاقے چھوڑ کر بھاگ گئی۔ اسی طرح کارگل کی جنگ ہو یا کشمیر کے محاذ پر ہونے والی بھارتی دراندازی ہو، پاکستانی فوج نے ہمیشہ دشمن کو دھول چٹائی ہے۔ افغان روس جنگ کے بعد افغانستان مختلف قوتوں کے لئے تجربہ گاہ بنا رہا ہے اور وہاں ہونے والی طویل جنگ نے پاکستان کو بھی گوریلا حملوں سے متاثر کیا ہے اور ان حالات میں افواج پاکستان نے ناصرف انڈین بارڈر پر بلکہ افغانستان سرحدوں کے پاس بھی دہشت گردوں سے ایک طویل لڑائی لڑی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمام دہشت گرد جو افغانستان سے بھاگ کر پاکستان میں آئے تھے انہوں نے انڈیا کی ایماء پر پاکستانی معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جن میں فوجی جوانوں کے ساتھ معصوم پاکستانی شہری بھی ہزاروں کی تعداد میں شہید ہوئے تھے۔

پاک فوج نے پہلے ان تمام دہشت گردوں کو ملک سے بھگایا اور آج پاک فوج کے شاہین ان دہشت گردوں کو افغانستان کے اندر بھی چن چن کر لقمہ اجل بنارہے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ دونوں اطراف سے ہمیں دشمنوں نے گھیر رکھا ہے اور ایسے حالات میں پاک فوج مسلسل دونوں محاذوں پر وطن عزیز کے ایک ایک چپے کی حفاظت کررہی ہے اور اب تو سعودی عرب نے بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرکے افواج پاکستان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ملک میں واحد ادارہ فوج کا ہی بچا ہے جو منظم بھی ہے اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملک کے لئے کام کررہا ہے اور اگر ہماری سیاسی قیادت اور سول بیوروکریسی بھی افواج پاکستان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرنے لگے تو پاکستان کو کوئی ترقی سے نہیں روک سکتا۔

Check Also

Do Tok Aur Ba Waqar

By Asif Masood