Thursday, 05 March 2026
  1.  Home
  2. Arif Anis Malik
  3. Ik Ishq Jo Hum Se Rooth Gaya

Ik Ishq Jo Hum Se Rooth Gaya

اک عشق جو ہم سے روٹھ گیا

رات کے پچھلے پہر، روم کے ایک ہوٹل میں آنکھ کھلی تو شہر ابھی سویا ہوا تھا۔ باہر وہی ابدی شہر تھا جس نے صدیوں کو اپنے سینے میں سمیٹ رکھا ہے، جس کی ہر اینٹ کسی شاعر کی سانس سے گرم ہے، جس کی ہر گلی کسی فلسفی کے قدموں کی یادگار ہے۔ مگر میں نے کیا کیا؟ فون اٹھایا اور انسٹاگرام کھول لیا۔ ایک گھنٹہ گزر گیا کسی انجان آدمی کی بچی کھچی پیزا اور چپس کی سینڈوچ دیکھتے ہوئے۔ جب ہوش آیا تو دل نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے تمہارے ساتھ؟

کتاب میرے پہلو میں رکھی تھی۔ بالکل ویسے جیسے کوئی وفادار دوست خاموش بیٹھا انتظار کرتا ہے، بغیر شکوے کے، بغیر گلے کے۔ مگر میں نے اسے ہاتھ نہ لگایا۔ یہ صرف میری کہانی نہیں، یہ اس دور کی کہانی ہے جسے ماہرین نے "مابعد خواندگی کا عہد" کا نام دیا ہے، وہ زمانہ جب لکھا ہوا لفظ اپنی تخت سے اتر رہا ہے اور تصویر اور آواز اس کی جگہ لے رہی ہے۔

مارشل میک لوہان نے ساٹھ کی دہائی میں کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ خود ہی پیغام بن جاتے ہیں۔ نیل پوسٹ مین نے 1985 میں لکھا کہ ہم نے بات چیت کو تفریح میں بدل دیا ہے، خیالات کو تصویروں میں سمیٹ دیا ہے اور دلیل کی جگہ چہرے اور تشہیر نے لے لی ہے۔ چالیس سال بعد یہ الفاظ اتنے تازہ لگتے ہیں جیسے آج کی صبح لکھے گئے ہوں۔ آرویل کو ڈر تھا کہ حکومتیں کتابیں جلائیں گی۔ ہکسلے کا خدشہ یہ تھا کہ کتابیں جلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی کیونکہ لوگ انہیں پڑھنا ہی چھوڑ دیں گے۔ تاریخ نے ہکسلے کو سچ ثابت کر دیا۔

آج شرح خواندگی تاریخ کے کسی بھی دور سے زیادہ ہے۔ لوگ پڑھ سکتے ہیں۔ مگر وہ پڑھتے نہیں۔ امریکہ میں صرف اڑتالیس فیصد لوگوں نے 2022 میں ایک بھی کتاب پڑھی۔ روزانہ پڑھنے والوں کی تعداد بیس سالوں میں اٹھائیس فیصد سے گھٹ کر سولہ فیصد ہوگئی۔ نوجوانوں میں یہ گراوٹ اور بھی تیز ہے۔ جیب میں رکھا فون بلا ناغہ توجہ کا خون پیتا رہتا ہے۔

لندن ٹائمز کے جیمز میریٹ نے لکھا کہ چھاپے خانے کے انقلاب نے عام انسانوں کو علم کی سب سے بڑی دولت منتقل کی تھی، جبکہ اسکرین کے انقلاب نے وہی دولت ان سے واپس چھین لی۔ یہ محض ثقافتی تبدیلی نہیں، یہ ایک چوری ہے جو خوشی سے کرائی جا رہی ہے۔

مگر سب سے گہری بات یہ ہے کہ ہم کتاب پڑھنے کی غلط وجہ بتاتے رہے ہیں۔ آدم کرش نے کہا کہ یہ کہنا کہ جمہوریت کے لیے پڑھو، سماج کے لیے پڑھو، مستقبل کے لیے پڑھو، ایسے ہی بے جان ہے۔ کتاب پڑھنا ایک ذاتی لذت ہے، ایک خفیہ خوشی ہے، بعض اوقات ایک گناہِ دلپذیر ہے۔ جب کتابیں خطرناک سمجھی جاتی تھیں تو لوگ انہیں چھپا کر پڑھتے تھے۔ اب جب انہیں نیک اور مفید قرار دیا گیا ہے تو لوگوں کا دل نہیں چاہتا۔

میں نے روم سے واپسی کے کچھ ہفتے بعد جان لے کارے کا ناول اٹھایا۔ رات گہری ہوتی رہی اور میں پڑھتا رہا۔ صبح اٹھا تو وہی تھکاوٹ تھی جو کسی خوبصورت رات کے بعد ہوتی ہے۔ فون اس رات میرا کچھ نہ بگاڑ سکا۔

کتاب کا جادو یہی ہے۔ وہ آپ کو وقت اور جگہ دونوں سے اٹھا کر کہیں اور لے جاتی ہے۔ اسکرین آپ کو مصروف رکھتی ہے، کتاب آپ کو بدل دیتی ہے اور جب کوئی قوم کتاب سے منہ موڑ لیتی ہے تو جمہوریت کمزور پڑتی ہے، سچ دھندلا جاتا ہے، حماقت کو راج ملتا ہے اور زندگی بتدریج بے رنگ ہوتی جاتی ہے۔

مابعد خواندگی کا یہ دور محض کسی عادت کا زوال نہیں، یہ انسانی تجربے کی گہرائی کا زوال ہے۔

Check Also

Arbon Ka Kya Qasoor Hai?

By Javed Chaudhry