Iran, Lohe Ka Channa
ایران، لوہے کا چنا

ایران کے اندرونی مسائل افسانہ نہیں ایک تلخ حقیقت ہیں۔ ایران میں تھیوکریسی یا کٹر مذہبی رجیم سے بے زاری رکھنے والا طبقہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔ انقلابِ ایران نے عوامی فلاح اور معاشی آسودگی کے وعدے کیے تھے مگر ریاست نے خود کو ایک نظریاتی اور الٰہی مشن کی علمبردار قرار دے کر خطے میں اثر و نفوذ بڑھانے کو ترجیح دی۔ شاہ ایران کے خلاف عوام نکلی اسی لیے تھی کہ اپنے وسائل عوام پر خرچ ہوں نا کہ شاہی خاندان کی عیاشیوں پر۔ انقلاب تو آ گیا مگر اس کے بعد ایران نے خلیجی ریاستوں میں شیعہ اثر کے پھیلاؤ پر فوکس کیا۔ شیعت کو آزو بازو ایکسپورٹ کرنے کا مشن بنایا اور اس کے مقابل وہابی ردعمل نے پراکسی جنگوں کو جنم دیا۔ سعودیہ نے ایران اور ایران نے سعودیہ کو مذہبی بنیادوں پر کاؤنٹر کرنا چاہا۔ وہابیت نے شیعت کو کاؤنٹر کرنا چاہا۔ شیعت نے وہابیت کو۔
شام سے یمن اور بحرین تک آگ پھیلی، خلیجی ریاستیں اس کی لپیٹ میں آئیں اور اس کی لپیٹ میں پاکستان بھی آیا جہاں فرقہ واریت نے بے شمار معصوم جانیں نگل لیں۔ بڑے علما، ڈاکٹر، انجینئر، شاعر کوئی محفوظ نہ رہا۔ ریال اور دینار کی اس کشمکش نے مسلح گروہوں کو جنم دیا اور دونوں ریاستیں اپنی اپنی پراکسیوں کو ایندھن دیتی رہیں۔ یہ تاریخ ہے، اس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔
دوسری جانب سعودیہ عرب تیل کی دولت سے مالا مال رہا۔ اسے نہ عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، نہ ہی وہ طویل عرصے تک کسی وسیع عسکری مہم جوئی میں الجھا۔ اس کے برعکس ایران نے میزائل پروگرام، یورینیم افزودگی اور عسکری تیاری پر سرمایہ لگایا، نتیجتاً پابندیوں کی زد میں آیا۔ تیل اور معدنی وسائل کی برآمد محدود سے محدود تر ہوئیں، معیشت دباؤ میں آئی اور عام ایرانی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی گئی۔ جو سرمایہ آیا بھی تو اکثر دفاعی ڈھانچے اور پراکسیوں پر خرچ ہوا۔ یوں ایک طرف خلیج میں خوشحالی کی تصویر بنی دوسری طرف ایران میں معاشی گھٹن۔
سعودی عوام خوشحال رہی، ایرانی معاشی چکی میں پس گئے۔ دو وقت کی روٹی پورا کرنا مشکل ہوتا گیا۔ آسودگی ایرانیوں نے کبھی نہیں دیکھی۔ وجہ وہ رجیم رہی جس کا مشن عوامی فلاح کی بجائے خود کو سیکئورٹی سٹیٹ قرار دینا تھا۔ ایرانی رجیم کی نظریاتی جنگ نے ایرانیوں کی زندگیاں مشکل بنائیں۔ قصہ مختصر، ایرانی عوام کو چالیس سالوں سے انقلاب نے ڈلیور نہیں کیا۔ یہی وہ خلا تھا جس کو اسرائیل و امریکا نے پُر کرنا چاہا اور چاہا کہ عوام تختہ اُلٹ دیں۔ لیکن وہ ایران کے نیشنل ازم کو ہلکا لے گئے۔
ایرانی عوام نے چالیس برسوں میں بے شک سختیاں جھیلی ہوں مگر قوم پرستی کی جڑیں کمزور نہیں ہوئیں۔ عرب امپریل ازم اور ایرانی نیشنل ازم دونوں عرب و عجم کی تاریخی اور مستند حقیقتیں ہیں۔ ایرانی بھلے کچھ بھی کر لیں یا کرنا چاہیں مگر وہ قوم پرستی کی جڑوں سے الگ نہیں ہو سکتے۔ ایران کی ہزاروں برس پر محیط تہذیبی شناخت محض ایک حکومت سے عبارت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو حکومت مخالف طبقہ بھی قومی خودمختاری کے سوال پر بیرونی حملہ آور کا ساتھ نہیں دیتا۔ کیونکہ اس نے لیبیا، عراق، شام اور لبنان میں "بیرونی تبدیلی" کے نتائج دیکھ رکھے ہیں۔ اس لیے وہ داخلی اصلاح تو چاہتا ہے مگر بیرونی سرپرستی میں نہیں۔ اہل فارس کا ہمیشہ سے یہی ماننا رہا " اپنا مار لے، غیر سے مار برداشت نہیں" اور یہی نسلوں میں منتقل ہوا ہے۔ آپ اچانک پانچ ہزار سالہ قدیم ایرانی تہذیب بدل نہیں سکتے۔
ٹرمپ کی بے چینی اسی تناظر میں سمجھی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ پریشان ہے۔ اس کی پریشانی عیاں ہونے لگی ہے۔ وہ طبقہ سڑک پر نہیں نکلا جس کے سہارے ایران پر حملہ آور ہوا تھا۔ یہی سبب ہے کہ اب اس کا فرمانا ہے "ضرورت پڑی تو ایران میں فوج اتاروں گا"۔ یہ بیان پریشانی کا عکاس ہے۔ سپر پاور کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا ہے۔ اگر رجیم چینج کا خواب عوامی بغاوت سے جڑا تھا اور وہ بغاوت برپا نہ ہو سکی تو حکمت عملی بدلنے کی باتیں اضطراب کی علامت بنتی ہیں۔
گو کہ یہ جنگ یکطرفہ جنگ ہے۔ طاقت کا توازن امریکا کے حق میں ہے۔ ایران تنہا ہے اور ایرانی رجیم اپنے سیاسی و عسکری اثاثے گنوا چکی، گنوا رہی ہے۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ امریکا و اسرائیل نے اس جنگ کا آغاز رجیم چینج کی خاطر کیا تھا۔ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں تو اپنے اہداف مکمل کر لیں گے۔ مگر اگر، وہ ایرانی نیشنل ازم کا مقابلہ نہ کر پائے اور رجیم کی تبدیلی نہ ہو سکی تو یہ امریکا اسرائیل دونوں کی شکست کے مترادف ہوگا اور اگر رجیم کی تبدیلی تہران میں فوج اتار کر ہی کرنے کی نوبت آئی تو یہ بھی کوئی فتح نہیں ہے۔ کیونکہ فوج اتارنا پلان میں شامل تھا نہ اس کا اظہار کبھی کیا گیا تھا۔ ہمیشہ یہی کہا جاتا رہا کہ ایران کو ہوائی حملوں سے خاک کر دیں گے۔ فوج اتارنے کا مطلب ہوگا بینادی پلان ناکام رہا۔ اگر قوم پرستی دیوار بن جائے تو برتری بھی فیصلہ کن نہیں رہتی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فوج اتارنا منصوبے کی ناکامی کا اعتراف بن جاتا ہے اور یہ دوسرا ویتنام بھی بن سکتا ہے۔
ایران معاشی طور پر کمزور ہے، سیاسی طور پر متنازع ہے مگر اس نے کم از کم یہ ثابت کیا ہے کہ قوم پرستی کی دیوار آسانی سے ڈھتی نہیں۔ ایران اور کچھ نہیں تو کم از کم امریکا اسرائیل کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوا ہے جسے چبانا بھی آسان نہیں اور پورا ہضم کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ سپر پاور کے بھی دانت ٹوٹ ہی جاتے ہیں اور اس سب کی بنیادی وجہ ایرانی قوم پرستی ہے۔ قوم کیا ہوتی ہے یہ سبق ایرانیوں سے سیکھنا چاہئیے۔

