Hockey Federation, Mohyuddin Wani Ke Rivayati Iqdamat
ہاکی فیڈریشن، محی الدین وانی کے روایتی اقدامات

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق عہدیداروں کی "کرتوتوں" کے باعث بیرون ملک ہاکی کے کھلاڑیوں کیساتھ جو سلوک ہوا ہے اس سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے، ہاکی جو ہمارا قومی کھیل ہے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جارہا ہے جو ہمارے سیاستدان ملک کیساتھ کررہے ہیں، قابل شرم کارکردگی کے باعث فیڈریشن کے عہدیداروں کو مجبوراً مستعفی ہونا پڑا جس کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے ہاکی پر نظر کرم کرتے ہوئے ایک سینئر بیوروکریٹ محی الدین وانی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر مقرر کیا ہے جنہوں نے چارج سنبھالتے ہی قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ پر سابق عہدیداروں کی جانب سے عائد کی گئی پابندی ختم کی جس سے پوری ٹیم کا مورال بلند ہوا، اس سے اقدام سے ہاکی کے وقار میں بھی اضافہ ہوا۔
محی الدین وانی تجربہ کار سینئر بیوروکریٹ ہیں، پنجاب میں وہ ڈی جی پی آر رہے، جب وہ ڈی جی پی آر تھے تب ان سے ایک ملاقات ہوئی تھی، بہت ملنسار افسر ہیں اور مینجمنٹ پر کمال مہارت رکھتے ہیں، ان کی تقرری پر خوشی ہوئی کہ ایک ایسا افسر لگایا گیا ہے جو کہ اپنے کام سے کمٹڈڈ ہے، سفارش بہت کم مانتے ہیں، میرٹ ان کی اولین ترجیح ہے، گلگت بلتستان تعیناتی کے دوران سرکاری گاڑیوں پر بڑے بڑے پوسٹر لگوا دیئے کہ یہ گاڑی حکومت گلگت بلتستان کی ملکیت ہے تاکہ سرکاری گاڑیوں کا بے جا استعمال کم ہوا، محی الدین وانی نے چارج سنبھال کر فوری کام شروع کردیا، ہاکی مینجمنٹ اور فیڈریشن کے معاملات کو الگ الگ کردیا جس سے ہاکی کے ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔
محی الدین وانی نے ہاکی کی دنیا کے پاکستان کے مایہ کھلاڑیوں کو ساتھ ملایا جس سے کھلاڑیوں کے کھیل میں بہتری آئے گی، ان میں سرفہرست صلاح الدین، حسن سردار جیسے نام شامل ہیں، صلاح الدین اور حسن سردار پہلے بھی ہاکی فیڈریشن میں رہے ہیں ہاکی ٹیم کو بنانے میں بہت محنت کی مگر فیڈریشن کے عہدیداروں کے فرعونی رویوں کے باعث فیڈریشن سے الگ ہوگئے۔
گزشتہ دنوں پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ایڈہاک کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد ہاکی کی بحالی کے لیے ایک جامع اور پرعزم اسٹریٹجک ریفارم ایجنڈا، جاری کر دیا ہے، اس نئے روڈ میپ کا مقصد گراس روٹ لیول سے لےکر ایلیٹ لیول تک ہاکی میں نئی روح پھونکنا ہے، اس منصوبے کے تین بنیادی ستون ادارہ جاتی شفافیت، ڈیٹا پر مبنی ٹیلنٹ کی تلاش اور فیڈریشن کی پیشہ ورانہ مینجمنٹ ہیں۔
اجلاس میں ایڈھاک کمیٹی کے چیئرمین اولمپیئن صلاح الدین اولمپین حسن سردار، برطانیہ میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر یاسر الیاس، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن ڈاکٹر نیاز، چیئرمین انٹر بورڈ کمیٹی غلام عباس ملاح، چیف کلکٹر کسٹم مقصود عباسی، چیئرمین فیڈرل بورڈ ڈاکٹر اکرم، چیف مارکیٹنگ آفیسر پی ٹی سی ایل سیف، چیف آپریٹنگ آفیسر جاز سید علی نصیر، شفاءکے کوآرڈینیٹر محمد مبین شریک تھے۔
کمیٹی نے 90 روزہ روڈ میپ کی منظوری دی ہے جس کے تحت ملک بھر میں ہاکی کلبوں کی سخت سکروٹنی کی جائےگی، تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت سے ہاکی کے کھلاڑیوں کی نئی کھیپ تیار کرنے کے لیے ملک گیر 'ٹیلنٹ ہنٹ' شروع کرنیکا فیصلہ کیا، اجلاس میں کارپوریٹ پارٹنرشپ اور مالی استحکام کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں، پی ٹی سی ایل کےساتھ 3 سالہ "کارپوریٹ ریوائیول پارٹنرشپ" کی گئی جس کے تحت "پی ٹی سی ایل نیشنل ہاکی لیگ" کا انعقاد کیا جائےگا، جاز (Jazz) مداحوں کے تجربے کو جدید بنانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں تعاون کرےگا۔
برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل کی کوششوں سے ہالینڈ اور آسٹریلیا سے استعمال شدہ 'آسٹرو ٹرف' حاصل کی جائےگی جو پسماندہ اضلاع میں لگائی جائےگی، پاکستان کسٹمز کراچی اور لاہور میں نئی ٹیمیں تشکیل دےکر محکمانہ ہاکی کو بحال کرےگا، کھلاڑیوں کی صحت کے لیے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال طبی خدمات فراہم کرےگا، ٹیم مینجمنٹ کی نگرانی ہاکی لیجنڈز اصلاح الدین صدیقی، حسن سردار اور سمیع اللہ کریں گے، ان کا ہدف 24 ماہ میں پاکستان کو ٹاپ 10 عالمی رینکنگ میں لانا، ایشین گیمز میڈل اور اولمپک کوالیفیکیشن کو یقینی بنانا ہے۔
ایڈہاک صدر نے پہلے اجلاس جو فیصلے کئے وہ سب روایتی ہیں، اس طرح کے کام ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، مگر ہاکی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا نہ ہی کھلاڑیوں کی حالت بدلی ہے، شہباز سینئر نے تو ہاکی کی دنیا کے لیجنڈ کھلاڑی بھی لاہور بلوا لئے تھے مگر اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا، پھر پروفیشنل ہاکی لیگ کرانے کے بھی اعلانات ہوتے رہے مگر کوئی کامیابی نہیں ملی۔
یہ سب روایتی ہتھکنڈے ہیں جس کا آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا، پاکستان ہاکی فیڈریشن سپورٹس بورڈ پنجاب سے لاکھوں روپے کے فنڈز لیتی رہی، اس وقت کے ڈی جی سپورٹس پنجاب اور اس ہاکی فیڈریشن کے عہدیدار ہاکی کی بحالی کیلئے بڑے بڑے دعوے کرتے رہے مگر وہ لاکھوں کے فنڈز فیڈریشن کے عہدیداروں کے دوروں اور دعوتوں میں اڑا دیئے گئے اور کھلاڑیوں کو کچھ بھی نہ ملا۔
2014-15 میں ایک طویل عرصے بعد قومی ہاکی ٹیم بھارت سے ایک ٹائیٹل جیت کر آئی تو اس وقت کے وزیراعلی اور موجودہ وزیراعظم شہبازشریف نے 180 ایچ میں ہاکی ٹیم کو ظہرانہ دیا، اس موقع پر اپنا روایتی جوشیلہ خطاب کیا اور ہاکی کو اوپر اٹھانے کیلئے لمبی لمبی چھوڑیں جو ان کا مشغلہ بھی ہے، میں خود اس اجلاس میں شریک تھا، اس موقع پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ یہ سب کچھ آپ کرتے رہیں مگر پوری ٹیم کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں اچھی سرکاری نوکریاں دیں تاکہ ہم پیٹ کی بھوک اور اپنے فمیلی کی فکر سے مبرا ہوکر اپنی تمام توجہ ہاکی پر دے سکیں۔
یہ بات سن کر شہبازشریف نے اپنے روایتی انداز میں انگلی گمائی اور کہا کہ میں ابھی آپ کو نوکریاں دیتا ہوں، آپ یہاں سے نوکریاں لیکر جائیں، انہوں نے کہا کہ ہاکی کی بحالی کے لئے ہر حد تک جاؤں گا، ساتھ ہی شہبازشریف نے کہا آئی جی صاحب سے کہیں کہ فوری طور پر پولیس فاؤنڈیشن میں گیارہ کھلاڑیوں کو اچھی پوسٹوں کے لیٹر ایک ہفتہ میں دیں، باقی کھلاڑیوں کو بھی سرکاری نوکریوں میں ایڈجسٹ کرنے کا کام ایک ہفتہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
آج بارہ برس بیت گئے کسی ایک کھلاڑی کو سرکاری نوکری نہیں مل سکی، وانی صاحب کو جلد از جلد فیڈریشن کے انتخابات کرانے چاہئیں جس کے لئے انہوں نے کلبز کی سکروٹنی کی ہدایت بھی کردی ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ وہ انتخابات کرا کر نکل جائیں کہیں فیڈریشن کا چسکا پڑگیا تو یہ تعیناتی لمبی نہ ہوجائے، اس مختصر عرصہ میں صدر صاحب اگر کچھ کرسکتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ وہ ایک بار پھر شہبازشریف سے بات کرکے کھلاڑیوں کو باعزت سرکاری نوکریاں دلوائیں اور ان کی عزت نفس کو بھی بحال کریں اور ایسا سلوک نہ کریں جیسا گزشتہ ماہ کھلاڑیوں کے ساتھ ہوا تھا۔

