Council Of Research And Literature
کونسل آف ریسرچ اینڈ لٹریچر

دنیا بھر کی مہذب اور امن پسند اقوام شدت پسندی اور عدم برداشت جیسے منفی رجحانات کو انسانی معاشروں کے لیے زہرِ قاتل سمجھتی ہیں۔ ایسے ناسازگار رویّوں کا مقابلہ محض قانون یا طاقت سے نہیں، بلکہ شعور، فکر اور تہذیبی ارتقاء سے کیا جاتا ہے۔ ادب، ثقافت، فنونِ لطیفہ اور انہی میدانوں میں سنجیدہ تحقیق دراصل وہ مؤثر حکمتِ عملی ہیں جو معاشرے میں برداشت، مکالمہ اور فکری ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔
ارضِ وطن پاکستان بھی اُن خوش نصیب ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں ادب و ثقافت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ و تابندہ ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں بے شمار ادبی تنظیمات سرگرمِ عمل ہیں جو نئی نسل کو علم و ادب کی طرف راغب کرنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہی تنظیمات میں ایک نمایاں نام کونسل آف ریسرچ اینڈ لٹریچر (کورل) پاکستان کا ہے، جو اپنے قیام کے مختصر عرصے میں علمی و ادبی حلقوں میں اپنی جداگانہ شناخت قائم کر چکی ہے۔
29 جون 2023، بروز جمعرات، بعد از نمازِ عشاء، جامع مسجد شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور میں اس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ اس بابرکت موقع پر ڈاکٹر حافظ عثمان احمد نے اسی مسجد میں تنظیم کی کامیابی اور دوام کے لیے خصوصی دعا کی۔ ابتدائی مرحلے میں محض دو باہمت اور صاحبِ فکر شخصیات نے اس کارِ خیر کا آغاز کیا، مگر خلوصِ نیت اور علمی جذبے نے دیکھتے ہی دیکھتے اس بیج کو ایک تناور شجر کی صورت دے دی۔
تنظیم کے بانیان میں ڈاکٹر حافظ عثمان احمد (چیئرمین کورل) اور غلام مصطفیٰ (ایگزیکٹو ڈائریکٹر کورل) شامل ہیں۔ بعد ازاں جن احباب نے اس قافلے میں شمولیت اختیار کی، ان میں ڈاکٹر سید ابن الحسن شاہ بخاری، میاں امداد حسین سرائی اور میاں شمشاد حسین سرائی کے نام بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ ان شخصیات کی شمولیت نے تنظیم کے فکری اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید استحکام عطا کیا۔
کورل پاکستان نے اپنے قیام کے بعد قلیل مدت میں متعدد مؤثر اور باوقار تقریبات کا انعقاد کیا۔ 29 اپریل 2024 کو گورنمنٹ ڈگری کالج، ضلع لیہ میں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر خالد پرویز نے کی۔ اس موقع پر چالیس سے زائد مصنفین کو "جان محمد ایوارڈ" سے نوازا گیا۔
15 فروری 2026 کو سپیریئر یونیورسٹی لیہ میں دوسرا سالانہ جان محمد ایوارڈ اور پہلا ڈویژنل کتب مقابلہ (ڈی جی خان ڈویژن) منعقد کیا گیا، جس نے علاقائی سطح پر ادبی سرگرمیوں کو نئی جہت عطا کی۔ اسی تسلسل میں 16 نومبر 2025 کو سپیریئر یونیورسٹی لیہ کیمپس میں کتاب "متاعِ فقیر" کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جو علمی و ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ سال 2025 میں کورل کا پہلا ششماہی میگزین بھی شائع ہوا جو کہ ڈاکٹر حافظ محمد عثمان ایڈیشن تھا، اس میں ملک بھر سے کورل ممبران کی نگارشات کا شائع کیا گیا اور بعد ازاں تمام ممبران کو بطور ہدیہ پیش کیا گیا، اس میگزین نے تنظیم کی تحقیقی و ادبی کاوشوں کو باضابطہ تحریری قالب فراہم کیا۔
کورل کے زیر اہتمام پورے ملک میں کتاب دوستی مہم کا آغاز کیا گیا، جس کا دائرہ کار ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر تک پھیل چکا ہے، اس مہم کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔
اس وقت کورل پاکستان کی تنظیم سازی تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ ملک بھر سے معروف ادبی شخصیات اس پلیٹ فارم کا حصہ بن رہی ہیں، جس سے اس کی علمی ساکھ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تنظیم اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس لیے منفرد ہے کہ یہ محض ادبی نشستوں تک محدود نہیں، بلکہ تحقیق، تصنیف، اشاعت اور کتاب کے فروغ کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ کورل دراصل کتاب کو نئی زندگی دینے اور اہلِ قلم کو ایک منظم، باوقار اور بامقصد پلیٹ فارم فراہم کرنے کی سنجیدہ کاوش ہے۔
ادب محض لفظوں کی ترتیب نہیں، بلکہ قوموں کی فکری اساس اور تہذیبی شناخت کا امین ہوتا ہے۔ جب معاشرے فکری پراگندگی اور اخلاقی انحطاط کے دباؤ میں ہوں تو ایسے میں ادبی و تحقیقی ادارے چراغِ راہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ کونسل آف ریسرچ اینڈ لٹریچر کا قیام اسی شعوری ضرورت کا مظہر ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم جو قلم کو وقار، فکر کو سمت اور کتاب کو نئی زندگی عطا کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
اگر یہی سنجیدگی، دیانت اور علمی معیار برقرار رہا تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب کورل پاکستان قومی سطح پر ایک معتبر اور باوقار علمی تحریک کی صورت اختیار کر لے گا۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اہلِ قلم، اہلِ دانش اور نوجوان نسل اس قافلے کا حصہ بنیں، تاکہ تحقیق اور ادب کا یہ چراغ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی فراہم کرتا رہے۔ کیونکہ قومیں ہتھیاروں سے نہیں، افکار سے زندہ رہتی ہیں اور افکار کی آبیاری ہمیشہ قلم ہی کیا کرتا ہے۔

