Haqiqi Taraqi Wohi Hai Jo Sab Ke Liye Ho
حقیقی ترقی وہی ہے جو سب کے لیے ہو

کہتے ہیں ایک گاؤں میں دو کنویں تھے۔ ایک کنواں گہرے پانی سے بھرا ہوا تھا مگر اس پر ایک بااثر خاندان کا پہرہ تھا، دوسرا کنواں نسبتاً کم گہرا تھا مگر اس کا پانی سب کے لیے کھلا تھا۔ گرمیوں کے ایک سخت موسم میں پہلا کنواں تو پانی سے لبریز رہا مگر پیاسے ہونٹ تر نہ ہو سکے، جبکہ دوسرا کنواں جلد خالی ہوگیا مگر گاؤں کے ہر فرد نے اس سے اپنی بقا کی رمق حاصل کر لی۔ وقت گزرا تو لوگوں نے مل کر تیسرے کنویں کی بنیاد رکھی، ایسا کنواں جس پر نہ پہرہ تھا نہ امتیاز۔ اس حکایت میں ترقی کا راز پوشیدہ ہے: دولت کا انبار نہیں، بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اصل خوش حالی کی ضامن ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو اجتماعی نظامِ فکر کو جنم دیتا ہے اور یہی وہ سوال ہے جو آج کی بدلتی ہوئی دنیا میں پھر شدت سے ابھرتا ہے کہ حقیقی کامیابی کس کے نصیب میں جاتی ہے، چند ہاتھوں کے ارتکاز میں یا سب کے حصے کی روشنی میں؟
دنیا کی سیاسی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو بیسویں صدی کی نظریاتی کشمکش میں سرمایہ داری اور سوشلزم دو متقابل دھاروں کی صورت سامنے آئے۔ ایک طرف فرد کی آزادی، منڈی کی قوت اور نجی ملکیت کا بیانیہ تھا، دوسری طرف اجتماعیت، مساوات اور ریاستی منصوبہ بندی کا تصور۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ محض نظریاتی نعروں سے قومیں نہیں بنتیں، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرے۔ سوشلسٹ فکر کی پہلی قوت یہی اجتماعی شعور ہے۔ اس میں فرد کی نفی نہیں بلکہ فرد کو معاشرے کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جب تعلیم، صحت اور روزگار کو منڈی کی پیداوار نہیں بلکہ انسانی حق سمجھا جائے تو معاشرتی ڈھانچے میں ایک نئی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ غربت محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اجتماعی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اسی سوچ نے کئی معاشروں میں طبقاتی خلیج کو کم کیا، متوسط طبقے کو وسعت دی اور بنیادی سہولیات کو شہری وقار کا حصہ بنایا۔
سوشلسٹ نظام کی دوسری نمایاں خصوصیت طویل المدتی منصوبہ بندی ہے۔ جہاں منڈی کی معیشت میں اتار چڑھاؤ اکثر پالیسی کو بے سمت کر دیتے ہیں، وہاں منظم منصوبہ بندی تسلسل کو جنم دیتی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چین ہے، جس نے نظریاتی سختی سے عملی حکمتِ عملی تک کا سفر طے کرتے ہوئے ریاستی نگرانی اور منڈی کی حرکیات کو ایک خاص توازن میں ڈھالا۔ دہائیوں پر محیط منصوبوں نے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صنعت کو ایک مربوط سمت دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے اوپر آئے اور قومی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ یہ کامیابی محض اعداد و شمار کی نہیں بلکہ اس سوچ کی ہے جو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر قومی اہداف کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھاتی ہے۔ جب پالیسی کا افق پانچ سالہ انتخابی دور سے نکل کر پچیس سالہ وژن تک پھیل جائے تو ترقی حادثہ نہیں رہتی، منصوبہ بن جاتی ہے۔
قیادت کے باب میں بھی اجتماعی نظام ایک مختلف زاویہ پیش کرتا ہے۔ اس میں قیادت کو نظریاتی تربیت اور تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ فیصلے فردِ واحد کی خواہش پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی مشاورت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس ماڈل میں استحکام اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی پالیسی طبقاتی مفادات کے گرد نہیں گھومتی بلکہ اجتماعی مفاد کے محور پر استوار ہوتی ہے۔ اسی تصور نے کئی معاشروں میں سیاسی تسلسل کو ممکن بنایا۔ شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ ریاست ان کی بنیادی ضروریات کی ضامن ہے، اس لیے عدم تحفظ کی فضا کم ہوتی ہے۔ سماجی تحفظ کے مضبوط نظام، بے روزگاری الاؤنس، پنشن، سرکاری صحت کی سہولیات اور مفت یا کم لاگت تعلیم، ایک عام فرد کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ معاشی طوفانوں میں تنہا نہیں۔ جب خوف کم ہو تو تخلیق بڑھتی ہے، جب بنیادی ضرورتیں یقینی ہوں تو ذہن بلند خواب دیکھنے لگتا ہے۔
تاہم یہ تصویر یک رخی نہیں ہونی چاہیے۔ ہر نظام کی طرح سوشلسٹ ماڈل کو بھی چیلنجز درپیش رہے ہیں، بیوروکریسی کی سختی، انفرادی آزادیوں پر بحث اور کارکردگی کے مسائل۔ مگر اس کے باوجود اس کی بنیادی روح، مساوات، سماجی انصاف اور اجتماعی ذمہ داری، آج بھی عالمی مباحث میں زندہ ہے۔ بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، دولت کے ارتکاز اور سماجی بے چینی نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا ترقی صرف شرحِ نمو کا نام ہے یا انسانی وقار کا بھی؟ شاید اصل جواب اسی حکایت کے تیسرے کنویں میں پوشیدہ ہے جہاں وسائل سب کے لیے تھے۔ حقیقی ترقی وہی ہے جو سب کے لیے ہو، جو کمزور کو سہارا دے، متوسط طبقے کو استحکام دے اور طاقتور کو جواب دہ بنائے۔ اگر دنیا کو پائیدار امن اور متوازن خوش حالی درکار ہے تو اسے ایسے نظام کی ضرورت ہے جو انسان کو منڈی کا پرزہ نہیں بلکہ معاشرے کا مرکز سمجھے۔
ترقی کی بحث دراصل انسان کی حرمت کی بحث ہے۔ جب تک معاشرہ یہ طے نہیں کرتا کہ اس کی ترجیح منافع ہے یا انسان، تب تک ترقی کا مفہوم ادھورا رہے گا۔ سوشلسٹ فکر ہمیں کم از کم یہ سبق ضرور دیتی ہے کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے شہریوں کی فلاح میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ محض سرمایہ کے انبار میں۔
یہ کیسی روشنی ہے جو سب میں بٹ گئی
نہ کوئی کم رہا ہے، نہ دولت سمٹ گئی
جو ہاتھ خالی تھے وہی پرچم اٹھا گئے
جو آنکھ نم تھی وہی تقدیر پلٹ گئی
ترقی اُس گھڑی ہوئی جب یہ طے ہوگیا
ہر ایک کے حصے کی شمع بھی جل گئی
آخر میں اربابِ اختیار سے فقط اتنی گزارش ہے کہ لمحہ بھر ٹھہر کر سوچیے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، روزگار کے در بند ہیں، کاروبار سانس لینے کو ترس رہے ہیں اور نوجوان دل گرفتہ کھڑے ہیں۔ یہی نوجوان اس قوم کا مستقبل اور اصل سرمایہ ہیں، انہیں مایوسی کے اندھیروں میں نہ دھکیلیے۔ کاروبار میں آسانیاں، ٹیکس اور ضابطوں میں سادگی، ہنر اور صنعت کے لیے عملی سہولتیں اور شفاف مواقع فراہم کیجیے تاکہ امید کی شمع پھر روشن ہو۔
دشمن یہ خواب دیکھتا ہے کہ پاکستان کو بھی خدانخواستہ ایران، عراق یا افغانستان جیسی بدامنی کی تصویر بنا دے، مگر انشاء اللہ اس دھرتی کے جوان اس کے منفی عزائم کو خاک میں ملا دیں گے، جیسے ماضی میں کئی بار اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملا چکے ہیں۔ شرط فقط یہ ہے کہ آپ ان کے راستے ہموار کریں، ان کے خوابوں کو سہارا دیں، تاکہ دشمن کے خواب ان کی بیداری سے پہلے ہی چکنا چور ہو جائیں اور ملک ترقی کی شاہراہ پر استقامت سے آگے بڑھتا رہے۔

