Abraha Sani
ابرہہِ ثانی

تاریخِ عالم میں ابرہہ کے بعد اگر کوئی دوسرا ایسا ملعون گزرا ہے جس نے خانہ کعبہ کو ڈھانے، مدینہ منورہ سے (نعوذ باللہ) آقاﷺ کا جسدِ مبارک چوری کرنے اور دریائے نیل کا رخ موڑ کر پورے عالمِ اسلام کو قحط سے مارنے کا شیطانی منصوبہ بنایا، تو وہ پرتگالی سپہ سالار افونسو ڈی البوکرک تھا۔ یہ وہ درندہ صفت انسان تھا جس نے پندرہویں صدی کے آخر میں اپنی پوری زندگی مکہ اور مدینہ کی مرکزیت کو مٹانے کے لیے وقف کر دی تھی۔
افونسو ڈی البوکرک پرتگال کے ایک کٹر مذہبی اور جنگجو خاندان میں پیدا ہوا۔ اسے مسلم دشمنی گھٹی میں پلائی گئی تھی۔ اس کا باپ گونسالو ڈی البوکرک اور دادا گونسالو ثانی پرتگال کے وہ کٹر جنگجو تھے جنہوں نے مراکش کی گلیوں میں مسلمانوں کا خون بہا کر "صلیبی تمغے" جیتے تھے۔ البوکرک نے لوریوں میں مسلمانوں سے نفرت اور انتقام کے قصے سنے تھے۔ وہ ہوش سنبھالتے ہی یہ طے کر چکا تھا کہ وہ محض ایک سپہ سالار نہیں بنے گا، بلکہ وہ اس مرکز پر وار کرے گا جہاں سے اسلام کا نور پھوٹتا ہے۔
البوکرک کی درندگی کا پہلا بڑا مظاہرہ ہندوستان کے ساحلی شہر گوا میں ہوا۔ 1510 میں جب اس نے گوا پر قبضہ کیا، تو انسانیت کانپ اٹھی۔ اس نے حکم دیا کہ شہر کے ہر مسلمان مرد، عورت اور بچے کو تہہ تیغ کر دیا جائے۔ اس نے نہ صرف قتلِ عام کیا بلکہ مسلمانوں سے کسی بھی قسم کے جنگی معاہدے یا ڈیل کو عیسائیت سے غداری قرار دیا۔ گوا کی گلیوں میں بہنے والے مسلم خون نے اسے وہ فرعونی گھمنڈ دیا کہ اس نے مکہ کی طرف آنکھ اٹھانے کی جسارت کر ڈالی۔
اس نے طے کیا تھا کہ وہ حج کے مقدس ایام میں مکہ پر حملہ کرے گا، تاکہ جب لاکھوں مسلمان عبادت میں مصروف ہوں، وہ ان کا قتلِ عام کرکے کعبہ کو (نعوذ باللہ) مسمار کر سکے۔ اس کے بعد اس کا سب سے بھیانک پلان روضہِ اقدس سے جسدِ مبارک کو نکال کر حبشہ لے جانا تھا تاکہ پوری امتِ مسلمہ کو بلیک میل کیا جا سکے اور نیل کا رخ موڑ کر عالمِ اسلام کو قحط سے مٹایا جاسکے۔
1513 کی ایک تپتی صبح، البوکرک اپنے 20 بھاری بیڑوں اور 1,700 ماہر سپاہیوں کے ساتھ عدن کے ساحل پر نمودار ہوا، جہاں صرف 600 جذبہ ایمانی سے لبریز مجاہدین اس کی راہ میں حائل تھے۔ یہاں اس کا سامنا عثمانی سلطان سلیم اول کی "بحری جینیئس" حکمتِ عملی اور سپہ سالار امیر حسین الکردی کی عسکری مہارت سے ہوا۔ عدن کی فصیلوں پر ایک ہولناک جنگ چھڑ گئی، پرتگالیوں نے اپنی وزنی سیڑھیاں دیواروں سے لگائیں، لیکن لوہے کے بھاری لباسوں میں لدے سپاہی تپتی دھوپ میں ہانپنے لگے۔
دوسری طرف امیر حسین الکردی کے 600 جانثار عقابوں کی طرح چٹانوں پر جھپٹ رہے تھے۔ جیسے ہی کوئی پرتگالی دیوار پر سر اٹھاتا، مسلمانوں کی تلواریں اور آگ اگلتے برتن انہیں جہنم واصل کر دیتے۔ پہاڑوں کی اوٹ سے مسلمان مجاہدین نے وہ گوریلا حملہ کیا کہ پرتگالیوں کی صفیں الٹ گئیں، ان کے بھاری آہنی لباس جو میدانوں میں ڈھال تھے، ان تنگ پہاڑی دروں میں ان کی قبر بن گئے۔ البوکرک نے اپنی آنکھوں سے اپنے غرور کو خاک میں ملتے دیکھا اور وہ حج کے دنوں میں قتلِ عام کا خواب سینے میں لیے پیاسے کتے کی طرح ساحل کو دیکھتا ہوا ذلیل ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا۔
جس شخص نے اللہ کے گھر کو گرانے کا خواب دیکھا تھا، قدرت نے اسے کتے کی موت عطا کی۔ 1515 میں وہ گوا کے ساحل پر ایک ناکام، رسوا اور ٹوٹے ہوئے انسان کی طرح مرا۔ آج المیہ یہ ہے کہ پرتگال اور گوا میں اس ملعون کے بت نصب ہیں، لیکن ہم ان 600 ابابیلوں کے ناموں تک سے ناواقف ہیں۔
اگر آپ کو اپنے ان گمنام مجاہدین پر فخر ہے اور اگر آج آپ مکہ اور مدینہ، روضہِ رسول پر بے دھڑک آ جا رہے ہیں اور کوئی دشمن میلی آنکھ اس طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تو ان 600 جانثاروں، ان کے سپہ سالار امیر حسین الکردی اور سلطان سلیم اول کے لیے ضرور درود پاک پڑھ کر ایصالِ ثواب کریں، یہ شاید ہمارا سب سے بہترین خراجِ تحسین اور عقیدت ہوگا ان مجاہدوں کے لیے جنہیں نبی کریمﷺ نے چنا تھا اللہ کے گھر اور اپنے روضہ کی حفاظت کے لیے۔

