Jasoosi Digest Aur Main (1)
جاسوسی ڈئجسٹ اور میں (1)

میں اس دفتر میں جاسوسوں کی طرح گھسا۔ لیکن اندر داخل ہوکر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ وہاں نک ویلوٹ کا سراغ ملا، نہ بھورے ماموں نظر آئے، نہ فرہاد علی تیمور سے ملاقات ہوسکی۔ کہانیوں کے کردار تو کیا ملتے، میں خود ایک کہانی کا کردار بن کر باہر نکلا۔
وہ جاسوسی ڈائجسٹ کا دفتر تھا۔ اس کا راستہ بہت آسان تھا لیکن ڈائجسٹوں پر پتا ایسے لکھا جاتا تھا کہ کوئی نہ پہنچ سکے۔ میں نے چندریگر روڈ پر دس لوگوں سے پوچھا کہ بلموریا اسٹریٹ کہاں ہے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا۔ پھر ایک کھوکھے والے نے ایک جانب اشارہ کیا۔ اس تنگ گلی کے اختتام پر منزل مقصود مل گئی لیکن اس کا نام بدل چکا تھا۔
اس عمارت کا پرانا نام سعید مینشن تھا۔ جن دنوں کی میں بات کررہا ہوں، لوگ اسے رمضان چیمبرز کے نام سے جانتے تھے۔ اب اس کا نام قومی اخبار بلڈنگ ہوچکا ہے۔
اس عمارت کے نام کا ایک دلچسپ لطیفہ بھی ہے جو چند افراد ہی جانتے ہیں۔ پاکیزہ کے منتظم رمضان صاحب تھے جو بہت ہنس مکھ آدمی تھے۔ شاید اب بھی اس ادارے سے منسلک ہوں۔ کسی دن کالج کی لڑکیاں پاکیزہ کا دفتر دیکھنے کی خواہش میں وہاں آئیں۔ ان کی ملاقات رمضان صاحب سے ہوئی تو انھوں نے کہا، اچھا تو آپ ہیں رمضان چیمبرز۔
میں اسکول کے زمانے سے ڈائجسٹ پڑھ رہا تھا۔ بلکہ مجھے یاد ہے کہ جب دیوتا شروع ہوئی تو خانیوال میں ہماری امی سسپنس پڑھتی تھیں۔ میں پرائمری کا طالب علم تھا جب فرہاد علی تیمور سے متاثر ہوکر ٹیلی پیتھی کی کتاب خریدی۔ ایک دن شمع بینی کررہا تھا کہ بڑی کزن نے ڈانٹ کر اس کام سے روکا۔
خانیوال سے کراچی تک، پرائمری سے کالج تک اور پھر ایڈیٹر کو خط لکھنے سے چھوٹی موٹی کہانیاں لکھنے تک بہت سال گزر چکے تھے۔ سسپنس کا دفتر اور فرہاد علی تیمور کو دیکھنے کے شوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ 1994 کی بات ہے جب میں پہلی بار وہاں گیا۔ اس عمارت میں جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے چاروں پرچے جاسوسی، سسپنس، سرگزشت اور پاکیزہ کے دفاتر تھے۔ نیا رخ اور نئے افق کا دفتر بھی وہیں تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ تب قومی اخبار وہیں سے نکلتا تھا یا نہیں۔ کیونکہ بعد میں چوتھی منزل پر جہاں اس کا دفتر بنا، وہاں سے ہمارے منظر بھائی کے کزن ایک میگزین ایپرل کے نام سے نکالتے تھے۔
اس روز میرے ساتھ میرا دوست شباہت حسین بھی تھا۔ ہم چندریگر روڈ، بلموریا اسٹریٹ اور آخرکار رمضان چیمبرز ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔ پہلے تیسری منزل پر پہنچے جہاں معراج رسول صاحب کا دفتر تھا۔ ہمیں دوسری منزل کا راستہ دکھایا گیا کہ کہانیوں، کرداروں اور رائٹرز کے پرستاروں کو وہیں بھیجا جاتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ملتا وہاں کوئی اور تھا۔
وہ اس عمارت کے دوسرے دفاتر کی طرح دو کمروں کا چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ ایک کمرے میں ایک کاتب، پیسٹر اور آفس بوائے بیٹھے تھے۔ دوسرے کمرے میں چار افراد کو الگ الگ میزوں کے پیچھے بیٹھے پایا۔ ان میں سے ایک ایڈیٹر صاحب تھے۔ غالباََ تب ان کے پاس الگ کمرا نہیں تھا، حالانکہ وہ جاسوسی اور سرگزشت دو ڈائجسٹوں کے ایڈیٹر تھے۔
ان کی عمر پینتیس چالیس ہوگی۔ سفید قمیص شلوار پہنے ہوئے تھے۔ پیشانی بڑی تھی جس کے اوپر جمے بہت سے بالوں نے بعد میں ایک ایک کرکے رخصت طلب کرنی تھی۔ چھوٹی مونچھیں اور سامنے والے کا باطن کھنگالنے والی تیز آنکھیں جن پر پڑھتے وقت سیاہ فریم کا چشمہ لگاتے تھے۔ مشفقانہ انداز اور دوستانہ لہجہ۔ میں نے تعارف کروایا تو پہچان گئے کیونکہ میں مستقل خط لکھتا تھا اور وہ ڈائجسٹ ہی میں جواب دیتے تھے۔ پوچھا کہ کتنا پڑھے ہو۔ میں نے بتایا کہ دیوتا، بازی گر، شکاری، موت کے سوداگر، نک ویلوٹ، ملک صفدر حیات، مرزا امجد بیگ اور کالے ماموں بھورے خاں، سب کہانیاں پڑھ چکا ہوں۔ اشتیاق احمد، ابن صفی اور مظہر کلیم کو بھی۔ وہ مسکرائے اور پوچھا کہ تعلیم کتنی ہے۔ تب پہلا سوال میری سمجھ میں آیا۔ میں نے بتایا کہ بی کام کررہا ہوں۔ جنگ میں آٹھ دس کہانیاں چھپ چکی ہیں۔ سلیم رضا نے کہا ہے کہ اب ڈائجسٹوں کے لیے کہانیاں لکھو۔ ایڈیٹر صاحب نے مشورہ دیا کہ ابھی تجربہ بڑھاو۔ بعد میں آنا۔ میں مایوس ہوکر لوٹ آیا۔
میں نے خط لکھنا چھوڑ دیے۔ دوسرے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ بی کام کے بعد ایک کتاب چھاپ لی۔ ایک ہفت روزے میں کام کرنے لگا۔ لیکن ڈائجسٹ پڑھتا تھا۔ ایک ماہ سرگزشت میں کسی کا خط چھپا جس کے جواب میں ایڈیٹر صاحب نے لکھا، اگر آپ مبشر علی زیدی کو جانتے ہیں تو دفتر بھیجیں۔ وہ خود پڑھیں تو آجائیں۔ انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔
اس بار میں دفتر پہنچا تو ایڈیٹر صاحب یعنی سید انور فراز نے ملازمت کی پیشکش کی اور میں نے ہفت روزے کی ملازمت چھوڑے بغیر جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز جوائن کرلیا۔ صبح وہاں جاتا اور دوپہر میں یہاں آکر رات آٹھ بجے تک پروف پڑھتا۔ "عہدہ" سب ایڈیٹری کا تھا لیکن اصل کام پروف پڑھنا تھا۔ رسالوں اور ڈائجسٹوں کے مطالعے نے پروف ریڈنگ میں مدد دی۔ پروف پڑھنے نے کہانیاں گھڑنے کے قابل بنایا۔
ان دنوں جاسوسی میں تین سب ایڈیٹر تھے، حسام بٹ، شبینہ رزاق اور تیسرے صاحب کا نام میں بھول گیا ہوں۔ فراز صاحب نے مجھے حسام بٹ کے حوالے کیا کہ انھیں کام سکھائیں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلا پروف کاغذ پر ملے گا جسے بے شک پورا لال کردیں۔ دوسرا ٹریسنگ پیپر پر فائنل ہوگا۔ اس میں کوئی بہت بڑی غلطی ہو تو پکڑیں، چھوٹی موٹی نظرانداز کردیں۔ میری رفتار بہت تیز تھی۔ اتنی کہ دوسرے پروف ریڈرز کو تشویش لاحق ہوگئی کہ میں ٹھیک سے پڑھتا بھی ہوں یا نہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مجھے مصروف رکھنے کے لیے وہ کہانیاں پڑھنے کو دی گئیں جو چھپنی نہیں تھیں۔ یہ مجھے کافی بعد میں پتا چلا۔
جاسوسی کے دفتر میں مستقل رائٹرز ظاہر ہے کہ ہر ماہ آتے تھے اور بعض اوقات ایک سے زیادہ بار بھی آجاتے۔ اصل مقصد کہانی یا قسط دینا اور چیک لینا ہوتا تھا۔ لیکن وہ فراز صاحب کے پاس آکر بیٹھتے تو کبھی کبھار مجھے گفتگو کا موقع مل جاتا۔ محی الدین نواب، احمد اقبال، محمود احمد مودی، احمد صغیر صدیقی، ایچ اقبال، کیسے کیسے لوگ وہاں دیکھے جنھیں زمانے سے پڑھتا آرہا تھا۔ اقلیم علیم ادارے کے افسر تھے اس لیے روزانہ نظر آتے تھے۔
ڈائجسٹوں کا قاعدہ تھا کہ ایک ماہ میں ایک رائٹر کا نام ایک بار چھپتا تھا۔ کسی کی دو کہانیاں ہوں تو دوسری پر کوئی قلمی نام دے دیا جاتا تھا۔ نجمہ مودی، پاکیزہ خان جیسے نام فرضی تھے۔ ایک دن کامل ظیہر کو دفتر میں دیکھا تو میں نے بہت تعریف کی کہ آپ کی ترجمہ کہانیاں شاندار ہوتی ہیں۔ وہ کھسیانی ہنسی ہنس کر چلے گئے۔ بعد میں حسام بٹ نے بتایا کہ کامل ظہیر جاسوسی کے سرکولیشن افسر ہیں۔ جو کہانیاں ان کے نام سے چھپتی ہیں، وہ محمود احمد مودی کی ہوتی ہیں۔
مودی صاحب جاسوسی ڈائجسٹ کی ترجمہ کہانیوں کے کنٹریکٹر تھے۔ امریکا میں چھپنے والے ڈائجسٹ ان کے پاس آتے تھے اور وہ کچھ کہانیاں خود ترجمہ کرتے اور کچھ دوسرے لکھنے والوں کو دیتے۔ ان کے علم میں لائے بغیر کوئی کہانی ترجمہ نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ وہ پاکستان بھر کے ڈائجسٹوں میں چھپی کہانیوں کا ریکارڈ رکھتے تھے۔ ہر رائٹر کا فی صفحہ الگ معاوضہ ہوا کرتا تھا۔ محی الدین نواب اور احمد اقبال کا معاوضہ سب سے زیادہ تھا۔ مودی صاحب کو غالباََ چار سو روپے فی صفحہ ملتے تھے۔ میں بالکل نیا رائٹر تھا اس لیے مجھے سو روپے فی صفحہ دیا جاتا۔ یہ میں 1996 کا ریٹ بتارہا ہوں۔
اس دفتر میں اور بھی بڑے بڑے ناموں کو دیکھا۔ فراز صاحب کا حلقہ احباب وسیع تھا اور ادیب شاعر سب ملنے آتے تھے۔ ایک دن فراز صاحب نہیں تھے۔ محسن بھوپالی آئے اور ایک کاغذ پر صرف تین الفاظ کا پیغام لکھ گئے، میں آیا تھا۔ ایک دن جام ساقی آئے تو فراز صاحب نے مجھے بلاکر ملوایا۔ وہ اتنے جوش میں اٹھ کر ملے کہ چائے گرادی۔ لیکن مجھے ایسے گلے لگایا کہ آج بھی یاد ہے۔ ایک دن فراست رضوی آئے۔ وہ بہت جملے باز ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے میرا نام سن کر کہا تھا، زیدی میں سارے حرف چھپے ہیں یزید کے، میں نے شعر مکمل کیا، ہاشم رضا میں شمر ہے پورا چھپا ہوا۔ انھوں نے تصحیح کی، پورا گھسا ہوا۔ پھر کہا کہ شاعر کے سامنے شعر غلط نہیں پڑھنا چاہیے۔ میں نے پوچھا، کیا یہ جوش صاحب کا شعر ہے۔ انھوں نے کہا، آوارہ شعر ہے۔
میں نے جاسوسی میں دو بار ملازمت کی۔ پہلی بار چند ماہ کام کیا تو ہفت روزے کے کام کا حرج ہونے لگا۔ چنانچہ استعفا دے دیا۔ جب ہفت روزے کی ملازمت چھوٹی تو دوبارہ فراز صاحب سے درخواست کی اور کام مل گیا۔ اتفاق یہ ہوا کہ وہاں پہلے دور میں فراز صاحب کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا۔ دوسرے دور سے کچھ پہلے یا بعد ان کی شبینہ رزاق سے شادی ہوگئی اور وہ شبینہ فراز ہوگئیں۔ اب وہ اسی نام سے مشہور صحافی ہیں اور خاص طور پر ماحولیات سے متعلق ان کا بڑا کام ہے۔ وہ ٹی وی ڈرامے بھی لکھ چکی ہیں۔
فراز صاحب اور شبینہ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور وہ دفتر نہیں آرہے تھے۔ ان دنوں رمضان آیا تو ایک دن محمود احمد مودی دفتر آئے۔ انھوں نے پوچھا، فراز صاحب کدھر ہیں؟ میرے منہ سے نکلا، شبینہ پڑھ رہے ہیں۔ سب خوب ہنسے۔ یہ لطیفہ بعد میں جاسوسی ڈائجسٹ میں بطور کٹ پیس شائع ہوا۔
میری کبھی عبدالقیوم شاد سے ملاقات نہیں ہوسکی لیکن جاسوسی ڈائجسٹ کے پچیس سال مکمل ہونے پر جو سلور جوبلی نمبر چھپا، اس کی خاص کہانی میں انھوں نے مجھے ایک کردار بنایا۔ دراصل انھوں نے ڈائجسٹ کے مستقل خط لکھنے والوں کو ایک کہانی میں یکجا کردیا تھا۔ اس ادارے میں کام کرنا ہی خواب جیسا تھا لیکن ایک بڑے رائٹر کی کہانی میں کردار بن جانا مجھ جیسے معمولی قاری کے لیے غیر معمولی بات تھی۔
جاری ہے۔۔

