Baba Aur Beti Ka Rishta
بابا اور بیٹی کا رشتہ

صبح کی ہلکی سی روشنی کھڑکی کے پردوں سے اندر اتر رہی تھی۔ کمرے میں ابھی نیند کی خاموشی موجود تھی کہ اچانک ایک نرم سی آواز نے وقت کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیا۔ "بابا"۔
یہ محض ایک لفظ نہیں تھا، یہ وہ لمحہ تھا جب میں پہلی بار سمجھ پایا کہ باپ ہونا کسی ذمہ داری کا نام نہیں بلکہ ایک پوری کائنات کو دل میں اتار لینے کا ہنر ہے۔ بیٹی کے ایک بار "بابا" پکارنے میں میں حفاظت بھی ہوتی ہے، یقین بھی اور وہ اعتماد بھی جو دنیا کی کسی عدالت، کسی کامیابی اور کسی خطاب سے نہیں ملتا۔
باپ اور بیٹی کا رشتہ اُن چند رشتوں میں سے ہے جو اپنے اندر ایک الگ دنیا سمیٹے ہوتے ہیں۔ یہ رشتہ زیادہ تر آنکھوں سے بات کرتا ہے، سر پر رکھے ہاتھ سے تسلی دیتا ہے اور پیٹھ پر پڑی ہلکی سی تھپکی سے حوصلہ بن جاتا ہے۔ باپ بیٹی سے کم بات کرتا ہے مگر اس کی ہر خاموشی میں ایک پوری دعا چھپی ہوتی ہے۔
بیٹیاں باپ کی زندگی میں ایسے داخل ہوتی ہیں جیسے صبح کی پہلی روشنی۔۔ نہ پوچھ کر آتی ہیں، نہ اجازت لیتی ہیں مگر آتے ہی اندھیروں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔ باپ جو دنیا کے سامنے مضبوط اور کم گو ہوتا ہے، بیٹی کے سامنے آ کر غیر محسوس طور پر نرم پڑ جاتا ہے۔ اس کی آواز میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے، اس کے فیصلوں میں احتیاط بڑھ جاتی ہے اور اس کی دعاؤں میں ایک نام مستقل شامل ہو جاتا ہے۔
باپ کے لیے بیٹی محض اولاد نہیں ہوتی، وہ اس کے اندر چھپی انسانیت کا سب سے محفوظ گوشہ ہوتی ہے۔ وہ اپنی تھکن بیٹی کی مسکراہٹ میں رکھ کر بھول جاتا ہے، اپنی ناکامیوں پر اس وقت مسکرا دیتا ہے جب بیٹی کی آنکھوں میں اعتماد دیکھتا ہے۔ باپ اکثر دنیا سے جیتنے کی جنگ ہارتا ہے مگر بیٹی کے سامنے کبھی کمزور نہیں پڑتا۔۔ اس لیے نہیں کہ وہ مضبوط ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اسے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
بیٹی بھی باپ کو کسی ہیرو کی طرح دیکھتی ہے۔ ہر باپ اپنی بیٹی کیلئے سپرمین ہوتا ہے۔ بیٹی اپنے باپ کو ایک چھتری کی طرح جانتی ہے۔۔ جو خود بھیگتی ہے مگر دھوپ اور بارش دونوں سے بچاتی ہے۔ باپ کے چہرے کی جھریاں بیٹی کو بڑھاپا نہیں لگتیں، وہ اسے وقت کی وہ تحریریں محسوس ہوتی ہیں جن میں قربانی کے کئی باب رقم ہوتے ہیں۔ بیٹی جانتی ہے کہ باپ کی محبت اظہار نہیں مانگتی، بس احساس چاہتی ہے۔
وقت کے ساتھ بیٹیاں بڑی ہو جاتی ہیں، سوال کرنے لگتی ہیں، اپنی دنیا خود ترتیب دینے لگتی ہیں، مگر باپ کا دل ہمیشہ اسی لمحے میں اٹکا رہتا ہے جب اس نے پہلی بار بیٹی کی انگلی تھامی تھی۔ یہ وہ یاد ہوتی ہے جو باپ کو عمر بھر جوان رکھتی ہے، چاہے جسم تھک جائے، ذمہ داریاں بڑھ جائیں یا وقت بےرحم ہو جائے۔
جنم دن بہت بہت مبارک ہو میری جان میری بیٹی حریم فاطمہ آج ماشاء اللہ سے تیرہ برس کی ہو چکی ہے اور یہ عمر محض ایک گنتی نہیں۔۔ یہ اس سفر کا پڑاؤ ہے جہاں بیٹی بچپن سے نکل کر سمجھ داری کی طرف قدم رکھتی ہے اور باپ خاموشی سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر اسے خود پر یقین کرنا سکھاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں باپ کی محبت نگرانی سے دعا میں بدلنے لگتی ہے۔
باپ اور بیٹی کا رشتہ دراصل زندگی کے حسن پر ایک خاموش دلیل ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ محبت ہمیشہ بلند آواز نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ بس ساتھ چلنے کا نام ہوتی ہے۔۔ بغیر شرط، بغیر سوال، بغیر تھکن۔
اور شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ بیٹیاں باپ کی زندگی میں چراغ نہیں ہوتیں، وہ روشنی ہوتی ہیں جو چراغ جلانے کی وجہ بن جاتی ہیں۔

