Wednesday, 18 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab: Naare Se Nijat Ka Rasta

Kitab: Naare Se Nijat Ka Rasta

کتاب: نعرے سے نجات کا راستہ

ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں انسان کی آواز اس کی اپنی نہیں رہی، وہ کسی اور کے ہونٹوں سے ادا ہوتی ہے، کسی اور کے مفاد کے لیے بلند ہوتی ہے اور کسی اور کی حکمتِ عملی کے تحت خاموش بھی کرا دی جاتی ہے۔ ہمیں زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں میں اس طرح الجھا دیا گیا ہے کہ ہم نے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے سوچنے کی زحمت ترک کر دی ہے۔ ہم نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جس ہجوم کا حصہ بن کر ہم گلا پھاڑ رہے ہیں، اس کی سمت کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہ ہجوم کبھی مذہب کے نام پر، کبھی سیاست کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر اور کبھی کسی مصنوعی بحران کے نام پر ہمارے جذبات کو مہمیز دیتا ہے اور پھر ہمیں استعمال شدہ رومال کی طرح ایک طرف پھینک دیتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی واحد شے ہے جو انسان کو ہجوم سے فرد بناتی ہے، نعرے سے فکر تک لے جاتی ہے اور جذباتی غلامی سے شعوری آزادی تک پہنچاتی ہے، تو وہ کتاب ہے۔

کتاب محض کاغذ پر چھپے ہوئے الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ انسان کی صدیوں پر محیط فکری جدوجہد کا نچوڑ ہے۔ جب کوئی فرد کتاب کھولتا ہے تو دراصل وہ اپنے زمانے کی قید سے باہر نکل کر صدیوں کے تجربے سے مکالمہ کرتا ہے۔ وہ اپنی محدود بصارت سے نکل کر ایک وسیع افق پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہجوم انسان کو ایک ہی زاویہ دکھاتا ہے، کتاب اسے زاویوں کی کثرت سے روشناس کراتی ہے۔ نعرہ آپ کو صرف جوش دیتا ہے، کتاب آپ کو ہوش عطا کرتی ہے۔ نعرہ وقتی ہے، کتاب دائمی ہے۔ نعرہ آپ کو کسی کے پیچھے چلنے پر آمادہ کرتا ہے، کتاب آپ کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وہ قوت جو عوام کو محض ہجوم بنائے رکھنا چاہتی ہے، سب سے پہلے کتاب سے دوری پیدا کرتی ہے، مطالعے کو غیر ضروری قرار دیتی ہے اور فکر کی جگہ تفریحی شور کو فروغ دیتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی چابک دستی بھی اسی نفسیات پر قائم ہے۔ وہ آپ کو صارف بناتا ہے، شہری نہیں، وہ آپ کو خریدار بناتا ہے، قاری نہیں۔ آپ کی توجہ اشتہارات، رجحانات اور وقتی مباحث کی طرف موڑ دی جاتی ہے تاکہ آپ بنیادی سوال نہ اٹھا سکیں: میں کس نظام کا حصہ ہوں؟ میری محنت کا حاصل کہاں جا رہا ہے؟ میری رائے کس حد تک میری اپنی ہے؟ کتاب ان سوالوں کو زندہ رکھتی ہے۔ کتاب انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ وہ محض ایک عدد نہیں، ایک باشعور وجود ہے۔ جب معاشرے میں کتاب کلچر پروان چڑھتا ہے تو مکالمہ سنجیدہ ہوتا ہے، اختلاف مہذب ہوتا ہے اور قیادت کا معیار بلند ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں لوگ نعروں سے زیادہ دلائل سنتے ہیں، شخصیات سے زیادہ اصولوں کو اہمیت دیتے ہیں اور جذباتی وابستگی سے زیادہ فکری دیانت کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کتاب کلچر خود بخود پیدا نہیں ہوتا، اسے شعوری کوشش سے پروان چڑھانا پڑتا ہے۔ گھر میں کتاب کی موجودگی، بچوں کے ہاتھ میں موبائل کی جگہ کتاب کا ہونا، اسکول اور کالج میں محض امتحانی تیاری کے بجائے آزاد مطالعے کی حوصلہ افزائی، مساجد اور کمیونٹی سینٹرز میں فکری نشستیں، یہ سب اس سمت میں عملی اقدامات ہیں۔ جب باپ اپنے بچے کو سونے سے پہلے کہانی سنانے کے بجائے کتاب تھماتا ہے، جب استاد نصاب سے ہٹ کر سوال اٹھانے کی جرأت پیدا کرتا ہے، جب نوجوان کیفے کی میز پر محض سیاسی بحث کے بجائے کسی کتاب پر گفتگو کرتے ہیں، تو معاشرے کی فضا بدلنے لگتی ہے۔ کتاب انسان کے اندر تنقیدی شعور پیدا کرتی ہے اور تنقیدی شعور وہ چراغ ہے جو استحصال کے اندھیروں کو چیر دیتا ہے۔ جس قوم کے ہاتھ میں کتاب ہوتی ہے، اس کے ہاتھ میں اپنی تقدیر کی باگ دوڑ بھی آ جاتی ہے۔

آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ہجوم رہیں گے یا فرد بنیں گے۔ ہم نعرے لگاتے رہیں گے یا سوال اٹھائیں گے۔ ہم وقتی جوش کے اسیر رہیں گے یا دیرپا شعور کے امین بنیں گے۔ کتاب ہمیں یہ انتخاب کرنے کی قوت دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اختلاف دشمنی نہیں، مکالمے کا دروازہ ہے، کہ تنقید بغاوت نہیں، اصلاح کا پیش خیمہ ہے، کہ آزادی شور سے نہیں، شعور سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم واقعی سرمایہ دار طبقے کی فکری غلامی سے نجات چاہتے ہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے فیصلے ہماری سوچ کے تابع ہوں نہ کہ کسی اور کے مفاد کے، تو ہمیں کتاب کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں، اداروں اور گلی کوچوں میں کتاب کو عزت دینی ہوگی۔ کیونکہ جب کتاب ہاتھ میں آتی ہے تو ذہن آزاد ہوتا ہے اور جب ذہن آزاد ہوتا ہے تو کوئی طاقت انسان کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک نہیں سکتی۔

یہ تحریر اس یقین کا اظہار ہے کہ قوموں کی آزادی کا پہلا زینہ فکری آزادی ہے اور فکری آزادی کی کنجی کتاب ہے۔ نعرے وقتی ابال پیدا کرتے ہیں، مگر کتاب دیرپا بیداری عطا کرتی ہے۔

نعرہ تھا بہت شور، مگر بات نہ تھی
ہر سمت صدا تھی، مگر آواز نہ تھی

جب ہاتھ میں آئی تو بدلنے لگا منظر
وہ شے کوئی تلوار نہ تھی، کتاب تھی

ہم لوگ جو ہجوم میں کھو جاتے تھے اکثر
اب سوچ ہماری بھی کسی خواب نہ تھی

زنجیرِ غلامی بھی پگھلنے لگی آخر
یہ آگ کوئی آگ نہ تھی، کتاب تھی

Check Also

Waldain, Bache Aur Numbers Ka Taluq

By Ayesha Batool