Mera Sab Kuch Iss Mulk Se Hai
میرا سب کچھ اس ملک سے ہے

میرا لکھنا، میرا بولنا اور روزمرہ سیاسی و سماجی معاملات پر اظہارِ خیال کسی ذاتی عناد، کسی جماعتی وفاداری یا وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں۔ اس کی بنیاد ایک ہی ہے اور وہ ہے وطن سے عشق۔ یہ وہ رشتہ ہے جو دلیل سے پہلے احساس میں جڑ پکڑتا ہے اور تنقید سے پہلے ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔
جہاں نظام غلط ہے، وہاں میں نے اس کی خرابیوں پر نوحے بھی لکھے ہیں۔ جہاں معاملات گھمبیر ہیں، وہاں ان کی نشاندہی بھی کی ہے۔ الیکٹورل پراسس کے ساتھ کھلواڑ ہو، آئین و قانون کو مذاق بنایا جائے، جبری گمشدگیاں ہوں، ڈالہ کلچر ہو یا ریاستی غنڈہ گردی۔ وہاں خاموشی کو میں نے کبھی طاری نہیں کیا۔ میں نے لکھا ہے، بولاہے اور اس کی قیمت بھی ادا کی ہے۔ کیونکہ اس معاشرے میں لکھنے والے کو لکھے کی قیمت ادا کرنا ہی پڑتی ہے۔ ادارہ جاتی دھمکیاں بھی موصول پائی ہیں اور مذہبی و سیاسی جتھوں یا کلٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پر منظم مہم، گالیوں اور دھمکیوں کا بھی سامنا کیا ہے۔
میں عسکری مداخلت اور اجارہ داری پر بھی بات کرتا ہوں، سیاستدانوں کی نااہلی، کمزوریوں اور سیاسی جماعتوں کی غلط ترجیحات پر بھی انگلی رکھتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ کسی ایک فریق کو خوش کیا جائے، بلکہ اس لیے کہ جس کے ہاتھ میں اصل طاقت ہے مسائل کا ذکر وہاں سے شروع کیے بغیر بات مکمل ہی نہیں ہوتی اور بات مکمل کر لوں تو طاقتوروں کو ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سماج کا یہ پہلو ہم سب جانتے ہیں۔ یہ ایک ڈیپ سٹیٹ ہے اور اپنے قیام کے اول روز سے ہی ہے۔ یہ ایک مذہبی جنونی معاشرہ بھی ہے اور آج سے نہیں ہے۔
حب الوطنی کا مطلب صرف نوحہ گری نہیں۔ اگر کہیں پاکستان نے اچھا پرفارم کیا ہے، اگر کہیں عالمی اسٹیج پر ملک توجہ کا مرکز بنا ہے، اگر کسی سفارتی محاذ پر کامیابی ملی ہے، تو اس پر خوش ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی ناانصافی پر آواز اٹھانا۔ یہ بھی وطن سے عشق ہی کی ایک صورت ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو چکا ہے جسے خوشی سے الرجی ہے۔ جو ہر کامیابی میں بھی میم میخ نکالتا ہے۔ جو ہر مثبت خبر کو بھی سازش، ڈراما یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے چشمے سے دیکھتا ہے۔ گویا کچھ لوگ اس عہد پر قائم ہیں کہ جب تک ان کی من چاہی سیاسی خواہش پوری نہیں ہو جاتی، تب تک نہ ملک کی کوئی خوشی انہیں قبول ہے اور نہ کسی کامیابی پر وہ مسکرانے کو تیار ہیں۔
یہ رویہ صرف سیاسی نہیں، نفسیاتی بھی ہے۔ مستقل منفی سوچ انسان کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ خوشی کو بھی شک کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے اور کامیابی کو بھی جرم سمجھ بیٹھتا ہے۔ ایسے میں معاشرہ آگے نہیں بڑھتا، صرف شکایتوں کے دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔
میرا اصول سادہ ہے کہ جہاں مسئلہ ہوگا، وہاں نشاندہی ہوگی۔ جہاں زیادتی ہوگی، وہاں آواز اٹھے گی اور جہاں ملک کامیاب ہوگا، وہاں خوشی منائی جائے گی۔ میں ان رویوں کو ناپسند کرتا ہوں جہاں محض سیاسی بنیاد پر "میں نہ مانوں" کی گردان شروع ہو جائے۔ اختلاف دلیل سے ہو تو سر آنکھوں پر، مگر نری ہوا بازی، بدتمیزی اور اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنے کی روش نہ تو جمہوری ہے اور نہ ہی مہذب۔ اس لیے میں صاف کہتا ہوں جسے میرے لکھے سے، میری شکل سے یا میری رائے سے کوفت ہوتی ہے، وہ مجھے بلاک کرے، انفالو کرے اور سکون سے رہے۔ میں کوئی مہاتما بدھ نہیں کہ ہر نان سینس کو برداشت کرتا رہوں اور نہ ہی کسی کا قرض دار ہوں کہ اپنی وال پر بے دلیل شور شرابا سہتا رہوں۔
اختلاف ہو تو بھی اس ملک کی بنیاد پر ہو۔ محبت ہو تو بھی اسی ملک کی بنیاد پر ہو۔ کیونکہ آخرکار، میرا نوحہ بھی پاکستان کے لیے ہے اور میری خوشی بھی پاکستان ہی کے لیے۔ میں نے ساری زندگی اس ملک کے سافٹ امیج کو عالمی سطح پر پروموٹ کرنے میں گزاری ہے، سیاحت اور سفرنامہ نگاری سے دنیا کو پاکستان کا وہ روپ دکھایا ہے جس سے بیرونی دنیا ناآشنا تھی۔ سفروں میں غیر ملکی میڈیا کو انٹرویوز دئے ہیں۔ پاکستان کے متعدد سفارتخانوں سمیت چائنہ کا اسلام آباد سفارتخانہ بھی میرے کام سے سجا ہوا ہے۔ اپنے تن، من اور دھن سے پاکستان کا نام روشن کرنی کی کوشش کی ہے جتنی میری حیثیت یا کپیسٹی تھی اس سے بڑھ کر کرنے کی کوشش رہی ہے۔ میں ڈرائینگ روم میں بیٹھا ہوا "کی بورڈ وارئیر" ہوں نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا حصہ یا سپورٹر ہوں۔ نہ ہی کسی کا "بیانئیہ" پھیلایا ہے نہ کسی کے لیے رائے عامہ ہموار کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ مجھ سے نالاں، سیاسی جماعتوں کے کارکنان مجھ سے برہم اور کچھ مذہبی جماعتوں یا جتھوں کے لوگ میری تاک میں۔ لیکن لکھوں گا وہی جو سوچتا ہوں اور لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔

