Do Phal Farosh, Aik Aalmi Sabaq
دو پھل فروش، ایک عالمی سبق

یہ کہانی دو پھل فروشوں کی ہے جنہوں نے معمولی زندگی کے باوجود تاریخ کے دھارے کو بدل دیا۔ بظاہر یہ الگ الگ واقعات ہیں، لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے جو اکثر مغربی میڈیا کی بیانیہ سازی کے تناظر میں نظر انداز کی جاتی ہے۔ وہ مشترکہ بات یہ ہے کہ دونوں مسلمان تھے۔
مغربی میڈیا نے ہمیشہ عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دینے والوں کی فہرست میں ایسے چہرے شامل کیے جو اکثر اسلامی فوبیا یا دیگر تعصبات کی بنیاد پر نشانہ بنتے ہیں۔ لیکن ان دونوں پھل فروشوں کے واقعات نے مغرب کے منافقانہ نظریات کو یکلخت الٹ کردیا۔
تو آئیں آگے کے منظر کو دیکھیں۔
محمد ال بو عزیزی 1984 میں تیونس کے ایک عام قصبے سدی بوزید کے ایک معمولی سے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کالج میں داخلہ لیا کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر لیا۔ بے روزگاری کی وجہ سے اور خاندان کے آٹھ افراد بشمول والدین کا بوجھ اٹھانے کے لئے عزیزی نے سدی بوزید کے بازار میں پھل اور سبزی کا ٹھیلہ لگا لیا۔ ایک دن سرکاری کارندے پہنچ گئے اور عزیزی سے ٹھیلے کا بلدیاتی پرمٹ طلب کیا۔ پرمٹ نہیں تھا۔ تو انہوں نے بدتمیزی شروع کردی اور ان سرکاری کارندوں کے ساتھ ایک خاتون نے ان کے چہرے پر تھپڑ مار دیا اور اپنے ساتھ ان کا ٹھیلہ بھی لے گئے، کافی چکر لگائے لیکن انہوں نے ٹھیلہ واپس کرنے سے انکار کردیا۔
اس نے فیس بک پر اپنی ماں کے لیے الوداعی پیغام چھوڑا اور سترہ دسمبر 2010 کو بلدیہ کے دفتر کے سامنے تیل چھڑک کر آگ لگا لی۔
بو عزیزی 18 دن تک اسپتال میں رہا، 4 جنوری 2011 کو اس کی موت ہوگئی، مگر تب شعلے عزیزی کے جسم تک نہیں رکے۔ پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔ ہر عمر اور جنس کے لاکھوں عزیزی سینوں میں دفن برسوں کی آگ اٹھائے سڑکوں پر آ گئے۔ تیونس کو اپنا سالوں پرانا اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب فرار ہونا پڑا۔
آمر زین العابدین بن علی ملک چھوڑ کر بھاگ گیا اور عرب اسپرنگ کے انقلاب کی چنگاری پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گئی۔ مصر، یمن، اردن، الجزائر ہر جگہ پر آمریتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ 14 دسمبر 2011 کو یورپی پارلیمنٹ نے محمد بوعزیزی کو مرنے کے بعد سخاروف انعام 2011 دینے کا اعلان کیا۔
اب تصویر بدلیں۔
دسمبر 2025 کی ایک سرد شام آسٹریلیا۔ ایک خوشحال ملک۔ ایک یہودی تقریب۔ روشنی، قہقہے، دعائیں اور پھر اچانک گولیاں۔ چیخیں۔ بھگدڑ۔
ایسے لمحوں میں انسان صرف اپنی جان بچانے کے بارے میں سوچتا ہے۔ مگر اسی ہجوم میں ایک شامی 43 سالہ مسلمان، دو بچوں کے باپ پھل فروش، احمد ال احمد، کھڑا تھا۔ اس کے پاس نہ بندوق تھی، نہ وردی، نہ اختیار۔ اس کے پاس صرف ایک دل تھا جو خوف سے بڑا نکلا۔
جب لوگ زمین پر لیٹ گئے، وہ آگے بڑھا۔ جب موت سامنے تھی، وہ لپکا۔
جب مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلائی جا رہی تھی، اس نے انسانیت کو ڈھال بنا لیا۔
اس نے یہ نہیں سوچا کہ مرنے والے کون ہیں، یا بچانے والے کون ہیں اس نے صرف یہ سوچا کہ کوئی مرنا نہیں چاہیے۔ وہ جلتی ہوئی دنیا میں کود گیا دوسروں کو بچانے کے لیے۔
یہ دونوں پھل فروش ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔
بوعزیزی ہمیں بتاتا ہے کہ جب ریاست انسان کو ذلیل کرے تو وہ خودسوزی تک پہنچ جاتا ہے۔
احمد ال احمد ہمیں بتاتا ہے کہ جب معاشرہ انسان کو عزت دے تو وہ ہیرو بن جاتا ہے۔
یہ فرق غربت کا نہیں۔ دونوں عام آدمی تھے۔
یہ فرق انصاف کا ہے۔
تیونس میں قانون لاٹھی بن گیا، نتیجہ آگ بنا۔
آسٹریلیا میں قانون ڈھال بنا، نتیجہ زندگی بنا۔
یہ سوچنا غلط ہے کہ انقلاب صرف نعرے سے آتا ہے اور امن صرف قانون سے۔ دراصل انقلاب بھی اور امن بھی انسان کے وقار سے جنم لیتے ہیں۔ جب وقار چھینا جائے تو بو عزیزی پیدا ہوتے ہیں۔ جب وقار محفوظ ہو تو احمد ال احمد سامنے آتے ہیں۔
وزیراعظم آسٹریلیا نے واقعے کے فوراً بعد ہسپتال میں خود احمد ال احمد سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات ہوئی، جب احمد الزامی فائرنگ کے واقعے کے بعد سڈنی کے St George Hospital میں زیرِ علاج تھے۔
ان کے ساتھ والدین اور قریبی اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔ ملاقات تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی۔ انہوں نے احمد ال احمد کو "ایک حقیقی آسٹریلوی ہیرو" قرار دیا اور کہا کہ ان کی بہادری "آسٹریلیا کی بہترین خوبیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ "
وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو میں بھی ان کی تعریف کی، کہا کہ احمد نے خطرے کے وقت حق و انسانیت کے لیے قدم بڑھایا اور اس سے بہت زندگیاں بچیں۔
یہ دونوں کہانیاں ایک دوسرے کی عکاسی کرتی ہیں، مگر ان کے نتائج مختلف سمت میں گئے۔ تیونس میں ریاست نے شہری کی عزت چھین کر آگ پیدا کی، نتیجہ انقلاب کی صورت میں نکلا۔ آسٹریلیا میں معاشرتی اور قانونی شعور نے ایک شہری کو ہیرو بنایا، نتیجہ زندگی اور امید کی صورت میں سامنے آیا۔
یہ فرق صرف جغرافیہ یا ثقافت کا نہیں۔ یہ فرق انصاف، احترام اور معاشرتی شعور کا ہے۔ جب ریاست شہری کی عزت اور وقار کو نظر انداز کرے تو بوعزیزی جیسے مظلوم پیدا ہوتے ہیں۔ جب معاشرہ شہری کو تحفظ اور احترام دے تو احمد ال احمد جیسے ہیرو جنم لیتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ بہادری یا قربانی کی طاقت مذہب، نسل یا ملک سے نہیں آتی۔ یہ انسانی ضمیر اور شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ بوعزیزی نے خود کو آگ لگا کر انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی اور احمد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر انسانی جانیں بچائیں۔ دونوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ عام انسان کے ہاتھ میں بھی غیر معمولی طاقت ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ یہ دونوں کردار ہمیں یہ بھی دکھاتے ہیں کہ مغربی میڈیا اکثر ایسے چہروں کو خطرہ قرار دیتا ہے جو مسلمانوں کی شناخت رکھتے ہیں اور ان کے کردار کو تعصب یا خوف کے زاویے سے پیش کرتا ہے۔ مگر یہ دونوں پھل فروش اس روایت کو یکسر بدل دیتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل بہادری، انسانیت اور عالمی امن میں کردار محض شناخت یا مذہب سے نہیں، بلکہ دل اور ضمیر سے پیدا ہوتا ہے۔
آخر میں سوال ہم سب کے لیے یہ ہے: ہم بو عزیزی پیدا کر رہے ہیں یا احمد ال احمد؟
کیا ہم ایسے معاشرے کی تعمیر کر رہے ہیں جہاں انسان بس اپنی حفاظت کے لیے خوفزدہ ہو، یا ایسا جہاں وہ دوسروں کی حفاظت کے لیے خطرہ مول لے سکتا ہے؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، کیونکہ ریاست، معاشرہ اور قوانین انسانیت کی بنیاد پر قائم ہوں یا نہ ہوں، یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم انسانیت کے حق میں قدم بڑھائیں یا نہ بڑھائیں۔
آخر میں عرض کرتا چلوں کہ جب تک میرے قلم میں جان ہے میں اپنے ھر کالم میں آپ کو مغرب اور مغربی میڈیا کا سیاہ اور بھیانک منافقانہ چہرہ دکھاتا رہوں گا۔

