Shohar Meri Qadar Nahi Karta
شوہر میری قدر نہیں کرتا

شادی اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک مقدس رشتہ ہے، جو صرف جسمانی تعلق یا سہولت کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے سکون، محبت اور ساتھ کے لیے ہے۔ کبھی کبھی ہم محسوس کرتے ہیں: "شوہر میری قدر نہیں کرتا" یا "بیوی میری قدر نہیں کرتی"۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت اور احترام دونوں طرف سے آتا ہے۔
اکثر چھوٹی چھوٹی باتیں تعلق کو کمزور کر دیتی ہیں۔ جیسے: شوہر کے مشکل وقت میں ساتھ نہ دینا، صبح اس کے کام کے وقت پر اسے ناشتہ دینے کی بجائے اسے خدا حافظ کہنے کی بجائے مائکے والوں سے گھنٹوں گھنٹوں فون پہ باتیں کرنا۔ جب شوہر گھر واپس ائے۔ اس کو پانی دینے کی بجائے یہ کہنا کہ موبائل دیں مجھے میرے مائی کے والوں سے بات کرنی ہے۔
زندگی کی پلاننگ میں دلچسپی نہ لینا، مائکے جانا، وجہ بتائے بغیر منہ بنا کر رکھنا، یا چھوٹی چھوٹی جذباتی ضروریات کو نظر انداز کرنا۔ یہی چھوٹی غلطیاں بیوی اور شوہر دونوں کرتے ہیں، جس سے تعلق میں خلا آجاتا ہے اور قدر کا احساس کم ہو جاتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہارے جوڑیاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون پاؤ اور اس نے محبت اور رحمت کے بیج ڈالے ہیں"۔ (سورہ الروم: 21)
حدیث میں بھی آیا ہے: "تمہارے درمیان سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے نرمی اور شفقت رکھتا ہے"۔ (صحیح بخاری و مسلم)
یہ آیات اور احادیث ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ شادی صرف حقوق اور فرائض کا تعلق نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دکھ، پریشانی اور خوشیوں میں شریک ہونے والا رشتہ ہے۔ بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کے جذبات کو سمجھے اور اس کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے اور شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کے احساسات کو سمجھے، وقت دے اور اس کی قدر کرے۔
ایک مضبوط رشتہ تب بنتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کی قدر کرتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں میں خیال رکھتے ہیں اور زندگی کے ہر لمحے میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور دوسروں سے زیادہ ایک دوسرے پر اعتبار کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات کو سمجھتے ہیں۔ دوسرے کی نظر میں آپ کی عزت کیا ہے اس سے زیادہ میٹر کرتا ہے آپ کی نظر میں آپ کے شوہر کی اور آپ کی بیوی کی اہمیت کیا ہے باقی کسی کو کچھ بھی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس اپنے آپ کو درست رکھیں۔ میں ہی ہوں نہیں میں بھی ہوں والے سفر پہ ائی اور یہ سفر آپ کا اکیلے کا یا آپ کا اکیلی کا نہیں آپ دونوں کا ہے میں میں کرنا چھوڑے ہم پہ ائیں آپ میں میں نہیں آپ ہم ہیں۔ اپنی محبت کا ایک دوسرے سے اظہار کریں۔
محبت صرف الفاظ یا جسمانی تعلق نہیں، بلکہ سمجھ، تعاون اور ساتھ ہے۔
آئیے آج سے خود سے یہ وعدہ کریں: اپنی چھوٹی غلطیوں کو دور کریں گے۔
ایک دوسرے کی قدر کریں گے اور اپنے رشتے کو اللہ کی رضا کے لیے مضبوط بنائیں۔ کیونکہ ایک مضبوط اور محبت بھرا رشتہ زندگی کے ہر طوفان میں سکون اور خوشی لاتا ہے۔ اپنے شوہر کے لیے دعا کیا کریں کہ اے اللہ مجھے میرے شوہر کے لیے وہ سکون بننے کی توفیق عطا فرما۔ جس کا ذکر آپ نے قران پاک میں کیا ہے۔ یاد رکھیں بہن بھائی والدین دوست احباب بھی آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے مگر ایک شوہر جس کا آپ ساتھ دیں گی۔ جس کو آپ سمجھیں گی۔ جس کی آپ عزت کریں گی۔ وہ آخری سانس تک آپ کا ساتھ دے گا۔ مگر اس کے لیے آپ کو تھوڑی محنت کرنی پڑے گی۔ آپ کو بڑے ہونا پڑے گا۔
اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا پڑے گا اور سمجھداری سے کام لینا پڑے گا۔ اللہ تعالی ہم بیٹیوں بہنوں ماؤں اور بیویوں کو اپنے محافظوں کے لیے وہ سکون بننے کی توفیق عطا کرے جس کا ذکر اللہ تعالی نے قران میں فرمایا ہے۔ آپ کا صبر آپ کا توکل آپ کی شکر گزاری اور آپ کی سمجھداری ہی آپ کی زندگی کو اسان کرتی ہے۔ اللہ تعالی ہمیں ہمارے حقوق و فرائض کو ایمانداری سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ شوہر کو مائیکے میں عزت دلانا بیوی کا کام ہے اور بیوی کو سسرال میں عزت دلانا شوہر کا کام ہے۔ ایک دوسرے کے حقوق و فرائض پڑھیں اور انہیں اپنی عملی زندگی میں شامل کریں۔
مجھے ایک بات کا جواب دیں کیا کبھی کسی نے آپ کے شوہر کا نام لے کے کہا ہے کہ وہ اچھا انسان نہیں ہے؟ نہیں نا اگر وہ اچھا انسان نہیں ہے نا تو بھی سب سے پہلے آپ کا نام آئے گا۔ یہی سوال میرا ایک عورت کے محافظ سے ہے کیا کسی نے آپ کی بیوی کا نام لے کے کہا ہے کہ وہ بری ہے؟ نہیں نا انہوں نے سب سے پہلے آپ کا نام لیا ہے کہ اس کی بیوی بری ہے۔ اس کا شوہر برا ہے۔ پھر بھی سب سے پہلے نام آپ کا اتا ہے۔ اگر آپ کے شوہر میں کچھ خامیاں ہیں تو وہ آپ کسی تیسرے بندے کو بتاتے ہو تو کیا آپ کا شوہر اسے درست کر لے گا؟ اس کا سمپل سا جواب ہے نہیں کیونکہ آپ نے اس کو بتایا ہی نہیں کہ اس میں یہ کمی ہے اس کو اس پہ کام کرنا چاہیے۔
اس کو سمجھنا چاہیے ہے کبھی کیا؟ اور یہی کام شوہر کو بھی کرنا چاہیے کہ اگر اس کو بیوی کی کوئی عادت پسند نہیں ہے یا بیوی کی کسی بات سے وہ ناراض ہوگیا ہے تو وہ کسی تیسرے بندے کو بتانے کی بجائے اپنی بیوی سے بات کرے اور آگے سے بیوی بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے بات کو سنیں سمجھے اور جواب دے نہ کہ رونا پیٹنا شروع کر دے۔ اگر کوئی آپ کو کہتا ہے کہ آپ کا شوہر آپ کی قدر نہیں کرتا۔ آپ کے گھر میں آپ کی ویلیو نہیں ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے اس کا شوہر اس کی قدر نہیں کر رہا اس کی اس کے گھر میں ویلیو نہیں ہے۔ آپ کی ویلیو آپ کے گھر میں کتنی ہے یہ آپ بہت اچھے سے جانتی ہیں یا جانتے ہیں۔
مرد بھی انسان ہے عورت بھی انسان ہے ایک دوسرے کو انسان سمجھے انسانوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ ان غلطیوں کو درست کریں اور اتنے خوبصورت رشتے کو لوگوں کی وجہ سے خراب نہ کریں۔ میری ہاتھ جوڑ کے آپ سے گزارش ہے۔ آپ صرف اپنا رشتہ ہی خراب نہیں کرتے بلکہ بہت سی لڑکیوں کے دل میں خوف پیدا کرتے ہیں اور بہت سے لڑکوں کی نظر میں اس خوبصورت رشتے کو ایک عذاب ثابت کر دیتے ہیں۔
جو ہمارا ایمان مکمل کر رہا ہے وہ کتنا خوبصورت رشتہ ہے۔ اپنے رشتے کو مضبوط کریں۔ ایک دوسرے سے بات کیا کریں۔ یاد رکھیں جس کو آپ سمجھانا چاہتے ہیں۔ آپ کو بات بھی اسی سے کرنی پڑے گی۔ اس کو بھی سنیں اور جو آپ سمجھانا چاہتے ہیں۔ وہ اس کو بھی سمجھائیں اور کوشش کریں صبر و تحمل کے ساتھ ہر طرح کی بات کریں لیکن ادب کے دائرے میں رہ کے۔ اللہ تعالی تمام جوڑیوں کو ایک دوسرے کے لیے باعث رحمت فرمائے۔

