Sach Ka Pehra Aur Jhoot Ka Muhafiz
سچ کا پہرہ اور جھوٹ کا محافظ

پچھلے چوبیس گھنٹوں سے سماجی رابطوں کی دنیا میں ایک ایسا طوفان برپا ہے جس نے عقل اور ہوش کے تمام در بند کر دیے ہیں۔ برقی آلات کی سکرینوں پر ایسی ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اگر ان کا دس فیصد بھی سچ ہو تو دنیا کا نقشہ بدل جائے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سرحد پار کی آگ اب گھر کے آنگن تک پہنچ چکی ہے اور فیصلہ سازوں کے ایوانوں میں ایک بڑی دراڑ پڑ گئی ہے۔ لیکن رک جائیے! کیا آپ نے کبھی سوچا کہ سچ اتنی آسانی سے ہر کسی کے ہاتھ کیوں نہیں لگتا؟
ونسٹن چرچل نے دوسری عالمی جنگ کے ہنگام کہا تھا کہ "جنگ کے زمانے میں سچ اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ اسے جھوٹ کے محافظوں کے پہرے میں رکھنا پڑتا ہے"۔ آج پاکستان کی گلیوں اور برقی شاہراہوں پر جھوٹ کے پہرے دار اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ سچ سانس لینے سے بھی ڈر رہا ہے۔
تاریخ کا سبق بہت سادہ مگر تلخ ہے۔ جب بھی ریاستیں بڑے فیصلوں کی دہلیز پر کھڑی ہوتی ہیں، گولی سے پہلے افواہ چلائی جاتی ہے۔ انیس سو اکہتر کے بحران میں بھی یہی ہوا تھا، ہم سرکاری ذرائع سے فتوحات کے ترانے سنتے رہے اور ادھر ملک کا آدھا حصہ ہاتھ سے نکل گیا۔ آج پھر وہی ماحول بنایا جا رہا ہے۔ سرحد پار کسی نئی مہم جوئی کی بازگشت ہے اور ساتھ ہی یہ بیانیہ کہ "اندر" سب ٹھیک نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ماضی کے ان زخموں سے کچھ سیکھا؟ ہم نے غیروں کی جنگیں لڑ کر اپنی نسلوں کو بارود اور کلاشنکوف کے سوا کیا دیا؟ آج جب ایک عام شہری یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہمیں کسی اور کے اشارے پر اپنے ہمسائے سے نہیں لڑنا چاہیے، تو یہ اس کا فطری اور حب الوطنی پر مبنی حق ہے۔ لیکن اس جائز مطالبے کی آڑ میں جب اداروں کے اندر "بغاوتوں" اور "انکار" کی کہانیاں تراشی جاتی ہیں، تو سمجھ جائیے کہ یہ کسی کی ہمدردی نہیں بلکہ ایک گہرا کھیل ہے۔
عسکری نظم و ضبط کوئی بچوں کا کھیل نہیں کہ چند پیغامات اور کچھ جذباتی نعروں سے ہلا دیا جائے۔ وہاں اختلافِ رائے کا اپنا ایک مخصوص طریقہ کار ہوتا ہے، جو سرِ عام تماشہ نہیں بنتا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے تحقیق کا مادہ کھو دیا ہے۔ ہم اس جھوٹ کو سچ ماننے کے لیے بے تاب بیٹھے ہیں جو ہمارے سیاسی جذبات کو تسکین دے۔ جب جذبات عقل کا گلا گھونٹ دیں، تو دشمن کو سرحد عبور کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، وہ صرف ایک جھوٹی خبر کے ذریعے بھائی کو بھائی سے لڑا دیتا ہے۔
افغانستان ہمارا پڑوسی ہے، اس کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تہذیبی اور مذہبی تعلق ہے۔ وہاں سے پیدا ہونے والے خطرات اپنی جگہ حقیقت سہی، لیکن ان کا حل محض جنگی جنون میں تلاش کرنا خودکشی کے مترادف ہے۔ ریاستوں کو سرحدیں محفوظ بنانے کے لیے صرف ٹینکوں کی نہیں، بلکہ اس عوامی اعتماد اور سفارتی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جو آج مفقود نظر آتی ہے۔
پاکستان اس وقت جس معاشی گرداب میں ہے، وہاں ہم کسی نئی کشیدگی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ مگر ابلاغ کا خلا جتنا بڑھے گا، افواہوں کی فصل اتنی ہی ہری ہوگی۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے، ورنہ خاموشی ہمیشہ شکوک کو جنم دیتی ہے۔
بطور ایک لکھاری، میرا ضمیر مجھے اس ہیجان کا حصہ بننے سے روکتا ہے۔ ہمیں سچ کے لیے تھوڑا انتظار کرنا چاہیے، کیونکہ وقت کی گرد جب بیٹھتی ہے تو اصل چہرے خود بخود واضح ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیے، حقائق چاہے کتنے ہی کڑوے کیوں نہ ہوں، وہ ان "من گھڑت خوشخبریوں" سے ہزار درجہ بہتر ہیں جو ہماری سوچنے کی صلاحیت چھین لیں۔
سچ وہی ہے جو وقت ثابت کرے گا، باقی سب "خبریاتی جنگ" کا دھواں ہے۔

