Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Parliament Ke Mushtarka Ijlas Mein Sadar e Mumlikat Ka Khitab Aur Hamari Rivayati Siasat

Parliament Ke Mushtarka Ijlas Mein Sadar e Mumlikat Ka Khitab Aur Hamari Rivayati Siasat

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کا خطاب اور ہماری روایتی سیاست

1985ء سے تقریباََ دو دہائیوں تک میں پارلیمانی کارروائی کے علاوہ کسی اور موضوع پر لکھنے کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ وقت مگر بدل جاتا ہے اور 2008ء سے اصلی تے وڈی جمہوریت کی بحالی کے نام پر ہمارا پارلیمانی نظام جس بھونڈے انداز میں "ہائی برڈ" ہوا اس نے منتخب اداروں کو بے وقعت بنادیا ہے۔

"ہمارے نمائندے" میرے اور آپ کے مسائل کو سنجیدہ اور پرخلوص مباحث سے اجاگر کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو "چور اور لٹیرے" ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ قانون سازی بند کمروں میں ہوتی ہے۔ حکمرانوں کی سہولت کے لئے بنائے قوانین تیار ہوجائیں تو انہیں قانون ساز اداروں کے تفصیلی جائزے کے بغیر فدویانہ آوازوں سے منظور کروالیا جاتاہے۔ فیصلہ سازی کے محدود تر ہوئے دائرے سے نکالے جانے کے بعد اراکینِ سینٹ اور قومی اسمبلی کی اکثریت "خبر" کے بارے میں میری اور آپ ہی کی طرح لاعلم ہوچکی ہے۔ اپنی لاعلمی کے اعتراف کے بجائے انہوں نے مگر "دو ٹکے کے رپورٹروں " سے دوری اختیار کرلی۔ اسمبلی یا سینٹ کا اجلاس ہو تو ایوان میں داخلے کے لئے وہ راستے اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو "عامیوں " کی دسترس میں نہیں۔ سرِ راہ پارلیمان کے دوسرے فلور پر اتفاقاََ کسی صحافی سے ٹاکرا ہوجائے تو بددلی سے سلام دعا کے بعد کھسک جانے کے جواز ڈھونڈ لیتے ہیں۔

"ہائی برڈ" سیاست رائج ہوجانے کے بعد لہٰذا "خبر" کی تلاش میں پارلیمان جانا کار بے سود ہے۔ پیر کی دوپہر مگر بستر پر تھوڑی دیر کو لیٹنے کے بجائے میں نہادھوکر پارلیمان چلا گیا۔ وہاں دوپہر کے تین بجے صدر مملکت کا سینٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ہونا تھا۔ پارلیمان سے صدر کا سالانہ خطاب عموماََ روایتی ہوتا ہے۔ اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم کے باعث پریس گیلری میں بیٹھے ہوئے آپ اس کا ایک لفظ بھی سن نہیں سکتے۔ حکومت کے مخالفین صدر غلام اسحاق خان کے زمانے سے پھیپھڑوں کے بھرپور استعمال سے بلند کی آوازوں اور نعروں سے اس کی جانب توجہ ہی مبذول ہونے نہیں دیتے۔

اپنی پارلیمان کی بے وقعتی سے کامل آگہی کے باوجود نہ جانے کیوں میرے دل خوش وفہم میں یہ امیداٹھی کہ پیر کے روز ہونے والا خطاب تاریخ ساز نئی روایات قائم کرنے کا باعث ہوسکتا ہے۔ یہ خطاب ہماری تاریخ کے ایک سنگین ترین موقع پر ہونا تھا۔ اس کڑے وقت جب پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کے ٹھکانے ختم کرنے کی مہم میں ڈٹا ہوا ہے۔ افغانستان کے علاوہ ہمارے ہمسائے میں ایران پر امریکہ واسرائیل نے ہولناک جنگ بھی مسلط کردی ہے جس کے نتائج ہمارے لئے ناقابل برداشت ہوسکتے ہیں۔ تاریخ کا یہ کڑا مقام سنجیدگی کا متقاضی تھا۔

صدر مملکت کا خطاب 3 بجے تھا۔ اس سے دس منٹ قبل میں پریس گیلری میں بیٹھ گیا۔ تحریک انصاف کے علاوہ دیگر جماعتوں کے اراکینِ سینٹ وقومی اسمبلی ہال میں داخل ہونا شروع ہوچکے تھے۔ ان میں سے کسی ایک کے چہرے پر بھی موجودہ حالات کے بارے میں رتی بھر فکر مندی نظر نہیں آئی۔ ہال میں داخلے اور اپنے ساتھیوں سے جپھیاں ڈالنے کے بعد وہ اپنی جماعت کے قائدین کو ڈھونڈنا شروع ہوجاتے۔ مسلم لیگ (نون) کے ارا کین کی تمام تر توجہ مہمانوں کی گیلری میں بیٹھی محترمہ مریم نواز شریف پر مبذول رہی۔ وہ ان سے ملنے کو بے تاب تھے۔ ہر ایک کے لئے مگر جی حضوری کا وقت میسر نہیں تھا۔

پیپلزپارٹی کے اراکین بلاول بھٹو زرداری کی شفقت کے طلب گار نظر آئے۔ دو بڑی جماعتوں کے سینئر ترین اراکینِ سینٹ اور قومی اسمبلی کی جواں سال قیادت سے تھپکی آمیز گفتگو کی جستجو نے مجھے حیران کرد یا۔ ان کی بے چینی نے پریشان کن پیغام یہ بھی دیا کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں قیادت اور دیگر رہ نمائوں کے مابین رابطے اور مشاورت کا باقاعدہ نظام موجود نہیں رہا۔ اگریہ نظام قائم ہوتا تو اراکین سینٹ اور قومی اسمبلی کو مشترکہ اجلاس کے دوران اپنے قائدین کی توجہ کے حصول کے لئے شرمناک تگ ودو کی ضرورت نہیں تھی۔

پیر کے روز ایران کے علاوہ برادر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی سفارت کارانہ مہارت سے ہمدردی اوریکجہتی کا اظہار در کار تھا۔ بہتر یہی تھا کہ اجلاس شروع ہونے سے قبل وزیر اعظم قائد حزب اختلاف سے رابطہ کرتے۔ ان سے درخواست ہوتی کہ برادر ممالک سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لئے پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن یکسوویکجا نظر آئیں۔ روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سپیکر کا صدر کے خطاب سے قبل ایوان سے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خمینائی کی شہادت کے بعد ان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ کا فیصلہ ہر حوالے سے قابل ستائش تھا۔

اپوزیشن کو اگر اس کے بارے میں پہلے سے اعتماد میں لیا جاتا تو یہ فریضہ انتہائی پروقار انداز میں ادا کیا جاسکتا تھا۔ محمود خان اچکزئی نے بطور اپوزیشن لیڈر اپنے ساتھیوں کو اس کے باوجود نہایت برد باری سے شوروغوغا سے فاتحہ کی خاطر روک دیا۔ فاتحہ ہوجانے کے بعد مگر صدرِ مملکت کی تقریر کا ایک لفظ بھی آپ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سن نہیں سکتے تھے۔ اس ماحول میں مہمانوں کی گیلری میں موجود سفارت کاروں کی حالت دیدنی تھی۔ ان کی اکثریت کو وہ ہیڈ فون میسر نہیں تھے جنہیں کانوں سے لگاکر وہ صدر کے خطاب کو غور سے سن سکتے تھے۔ "کاغذ بچانے" کے نام پر اب صدر کا خطاب کتابچے کی صورت شائع بھی نہیں ہوتا۔ اس کی "ڈیجیٹل کاپی" ہی ڈائون لوڈ ہوسکتی ہے۔ گیلری میں بیٹھے سفارت کار لہٰذا صدر کے خطاب کے دوران یہ جاننے سے قطعاََ قاصر رہے کہ حکومتِ پاکستان ایران پر مسلط کردہ جنگ اور افغانستان کے بارے میں کیا پالیسیاں اپنائے گی۔

سفارت کاری کے تناظر میں پاکستان اس وقت مشکل ترین لمحات کا سامنا کررہا ہے۔ جذباتی اعتبار سے ہمارے عوام کی اکثریت مسلکی تقسیم سے بالاتر رہتے ہوئے ایران کے رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بارے میں نہایت مضطرب و اداس ہے۔ اس کے ساتھ ہی مگر لاکھوں پاکستانی برادر خلیجی ممالک میں خون پسینہ ایک کرتے ہوئے وطن عزیز کو زرمبادلہ فراہم کرنے کے علاوہ اپنے گھرانوں کے کفیل بھی ہیں۔ ریاستِ پاکستان کوبھی دیوالیہ سے بچنے کے لئے برادر خلیجی ممالک سے ٹھوس مدددرکار ہوتی ہے۔

ہمارے لئے ایران یا خلیجی ممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب لہٰذا ناممکن ہے۔ ان دونوں کے مابین صلح صفائی اور امن وآشتی کی کاوش وخواہش ہی ہمارا قومی مفاد ہے۔ اپنے جذبات کے مؤثر اور بھرپور اظہار کے لئے الفاظ کے چنائو میں بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ صدرِ مملکت کے خطاب میں وہ احتیاط نہایت سوچ بچار کے بعد استعمال ہوئی نظر آئی۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ذ ریعے مگر ہم اسے موثر انداز میں دنیا کے روبرو اجاگر نہیں کر پائے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Parliament Ke Mushtarka Ijlas Mein Sadar e Mumlikat Ka Khitab Aur Hamari Rivayati Siasat

By Nusrat Javed