Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saqib Ali
  4. Channels Kese Hack Hue?

Channels Kese Hack Hue?

چینلز کیسے ہیک ہوئے؟

دو دن پہلے آپ نے دیکھا ہوگا کہ جیو نیو سمیت بہت سارے نجی ٹی وی کی نشریات کو ہیکرز نے معطل کرکے اس کے اوپر بہت سارے میسجز چلا دیے جو ظاہری طور پر معلوم ہوتا تھا کہ اینٹی سٹیٹ ہیں۔ تو ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

زیادہ تر ٹی وی چینلز کی نشریات آج کل ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرتی ہیں اور اس میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن بھی شامل ہوتی ہے سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے اندر Uplink اس کمیونیکیشن کو کہتے ہیں جو کسی بھی ٹی وی چینلز کے گراؤنڈ اسٹیشن سے سیٹلائٹ کی طرف کمیونیکیشن جاتی ہے اور اس کے بعد سیٹلائٹ اس کو ایمپلیفائی کرکے نیچے گراؤنڈ سٹیشنز کی طرف بھیجتا ہے جہاں جہاں پر اس نے براڈکاسٹ کرنا ہوتا ہے جس کو ہم ڈاؤن لنک کہتے ہیں۔

تو مسئلہ کہاں ہوا ہے؟ یا مسئلہ کہاں ہو سکتا ہے۔ اگر اس کو تکنیکی طور پر دیکھیں تو زیادہ تر سیٹلائٹس دنیا میں اپلنک کمیونیکیشن کو محفوظ کیے بغیر ہی چلا رہے ہوتے ہیں پاکستان کے اندر جو زیادہ تر ٹی وی چینلز ہیں وہ پاکستان کے سیٹلائٹس ہیں جیسے PakSat R1 استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور اس سیٹلائٹ کی کمیونیکیشن عین ممکن ہے کہ Encrypted نہ ہو اور اس کو مزید محفوظ بنانے کے لیے کسی قسم کی کوئی Authentication بھی استعمال نہیں کی گئی ہوگی اگر اس میں کسی قسم کی اتھانٹیکیشن یا انکرپشن استعمال کی گئی ہوتی تو یہ ہیکرز کے لیے بہت ہی مشکل ہوتا کہ وہ اس کی کمیونیکیشن کو ہیک کر سکیں یا سٹیٹ سپانسرڈ ہیکرز ہوتے ہیں وہ ایسا کر سکتے ہیں۔

اگر اپلنک کمیونیکیشن انکرپشن کے بغیر استعمال کی گئی ہو تو آپ اپلنک کے اوپر اسی ریڈیو فریکونسی پر جو ٹی وی چینل استعمال کر رہا ہے، زیادہ پاور کا سگنل بھیجیں گے تو وہ اس کو override کر دے گا مطلب کہ ٹی وی چینل کی طرف سے جانے والے سگنلز کی بجائے وہ ہیکرز کی طرف سے جانے والے سگنلز سیٹلائٹ کے پاس پہنچیں گے اور وہی سگنل تمام نیچے ڈاؤن لنک کے اوپر ریسیورز کی طرف براڈکاسٹ ہو جائے گی۔

جدید سیٹلائٹس اپلنک کے لیے زیادہ تر انکرپشن استعمال کرتے ہیں اور اتھارٹیکیشن کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

انکرپشن یہ ہوتی ہے کہ آپ کی اوپر جانے والی کمیونیکیشن یا اپلنک ڈیٹا ریڈیو فریکونسی کو اس طریقے سے موڈیفائی کیا جاتا ہے انکرپشن الگودمز کے ذریعے کہ کوئی بھی اس کو پڑھ نہ کر سکے اور اتھانٹیکیشن یہ ہوتی ہے کہ کمیونیکیشن سیٹلائٹ ویریفائی کرتا ہے کہ یہ واقعی ایک legitimate user کی طرف سے ہے۔ اگر سیٹلائٹ اپنے ٹی وی چینلز جن کو وہ سروس دیتا ہے ان کے لیے اگر اتھانٹیکیشن استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے وہ ایک مخصوص ID یا کوڈ رکھتا جیسے ہم فنگر پرنٹ استعمال کرتے ہیں یا ہم اپنا پاسورڈ استعمال کرتے ہیں یہ ایک اتھانٹیکیشن کا طریقہ ہوتا ہے کہ واقعی یہ یوزر وہی ہے جس کو میں سروس مہیا کر رہا ہوں تو اتھارٹیکیشن نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی یوزر اسی ریڈیو فریکوئینسی پر سیٹلائٹ کمیونیکیشن ڈسٹرب کر سکتا ہے۔

مختلف قسم کے اتھانٹیکیشن طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جن کے اندر مختلف قسم کی ڈیجیٹل ائی ڈیز ڈیجیٹل سگنیچرز، Public key cryptography استعمال کی جاتی ہے اس کے علاوہ پاور لیولز دیکھے جاتے ہیں کہ ریڈیو فریکونسی جو چینل بھیج رہا ہے عام طور پر کس پاور لیول پر بھیجتا ہے۔

تو لگ ایسے رہا ہے کہ جیسے پاکستان کے سیٹلائٹس جو ان ٹی وی چینلز کو سروس مہیا کر رہے ہیں وہ کسی قسم کی کوئی اتھارٹیکیشن یا انکرپشن استعمال نہیں کر رہے۔

About Saqib Ali

Saqib Ali is a writer and Research enthusiast in Astronomy, Cyber security, and Information Technology.
FaceBook: facebook.com/AstroSaqi
YouTube: Youtube.com/@astrosaqi

Check Also

Mard Aur Aurat Ki Yaksan Qurbani

By Amer Abbas