Mere Kaptan Ka Diet Plan
میرے کپتان کا ڈائیٹ پلان

ایک بزرگ حکیم کے پاس دو مریض آئے۔ ایک نے شکوہ کیا کہ وہ کمزور ہے، دوسرا بولا کہ وہ تھکا ہوا رہتا ہے۔ حکیم نے دونوں کی نبض دیکھی، مسکرایا اور کہا: "تمہاری بیماری جسم کی نہیں، عادتوں کی ہے۔ جو آدمی اپنی پلیٹ کو درست نہیں کر سکتا، وہ اپنی قسمت کو بھی درست نہیں کر پاتا"۔ ہم اکثر بیماری کو قسمت اور صحت کو محض اتفاق سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ دونوں کے بیچ ہماری روزمرہ ترجیحات کھڑی ہوتی ہیں۔ ان دنوں سپریم کورٹ میں اڈیالا جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی ایک رپورٹ کا چرچا ہوا جس میں میرے کپتان کی سہولتوں کا ذکر تھا۔ میں ان بحثوں میں نہیں پڑتا، میں نے اس رپورٹ میں صرف ایک چیز دیکھی، خوراک کا شعور اور میں نے دل میں کہا، اگر قومیں اپنی پلیٹوں سے سیکھنے لگیں تو سیاست کے شور سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتی ہیں۔
میرے کپتان کا ناشتہ سادہ ہے مگر سادہ پن میں ہی دانائی پوشیدہ ہے۔ کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی، گرم دودھ، چیا سیڈز اور اوپر سے مسمی اور انار کا جوس۔ یہ محض اشیاء کی فہرست نہیں، یہ غذائیت کا ایک باقاعدہ نصاب ہے، اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر، قدرتی شکر، مفید چکنائیاں، پروٹین اور پروبائیوٹکس، سب ایک ترتیب میں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ناشتے کو چائے اور بسکٹ کی حد تک محدود رکھتے ہیں اور پھر دن بھر کی تھکن کو تقدیر کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ حالانکہ صبح کا پہلا لقمہ ہی دن کی سمت طے کرتا ہے۔ کھجور اور شہد توانائی دیتے ہیں مگر توازن کے ساتھ، اخروٹ دماغ کی غذا ہیں، دلیہ پیٹ کو مطمئن رکھتا ہے، لسی آنتوں کو آباد کرتی ہے اور انار و مسمی کا رس جسم میں تازگی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ یہ ناشتہ نہیں، ایک پیغام ہے کہ صحت شور سے نہیں، شعور سے بنتی ہے۔
دوپہر کے کھانے میں دیسی مرغی، مٹن، مکس دال، سلاد، اچار، آلو چپس اور انڈہ فرائی۔ یہ منظر دیکھ کر کوئی ماہرِ غذائیت کہہ سکتا ہے کہ پروٹین کا توازن عمدہ ہے۔ گوشت کو ہم نے یا تو تعیش سمجھ لیا ہے یا تہواروں کی چیز، حالانکہ اعتدال کے ساتھ یہ روزمرہ کی قوت بن سکتا ہے۔ دال اور گوشت کی ہم آہنگی، سبزیوں کی رفاقت اور ذائقے کے لیے تھوڑا سا اچار۔ یہ سب اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ صحت اور ذائقہ دشمن نہیں، بس مقدار اور ترتیب کے محتاج ہیں۔ ہم مہنگائی کا رونا روتے ہیں اور یقیناً مہنگائی ایک حقیقت ہے، مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ غیر متوازن خوراک کی قیمت ہم ہسپتالوں میں کئی گنا زیادہ ادا کرتے ہیں۔ ایک منظم پلیٹ دراصل مستقبل کی میڈیکل فیس کم کرتی ہے۔ یہ بحث نہیں کہ کون کہاں ہے، اصل بحث یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں توازن کیسے لاتے ہیں۔
شام کا سنیک، بادام، کشمش، ناریل پاؤڈر، دودھ، کھجور، کیلا اور سیب کا شیک، چائے کی پیالی کی جگہ ایک مکمل انرجی بوسٹر۔ ہم اکثر شام کو تھکن کے نام پر خالی کیلوریز پی جاتے ہیں اور پھر نیند کی کمی اور بے چینی کو حالات پر ڈال دیتے ہیں۔ قدرتی مٹھاس، مفید چکنائیاں اور وٹامنز مل کر جسم کو ایسی توانائی دیتے ہیں جو دیرپا ہو، نہ کہ لمحاتی۔ یہ سب کچھ سن کر بعض لوگ طنز کرتے ہیں، مذاق اُڑاتے ہیں، جیسے صحت کا ذکر بھی کسی سیاسی صف بندی کا حصہ ہو۔ مگر سچ یہ ہے کہ اچھی عادتیں کسی ایک شخصیت کی جاگیر نہیں ہوتیں، جو چیز مفید ہو، وہ سب کی ہے۔ اگر کوئی اپنی خوراک کے معاملے میں باخبر ہے تو اس میں سبق ہے، خواہ وہ قید میں ہو یا آزاد فضا میں۔
میں یہ سطور کسی تنقید یا تقدیس کے لیے نہیں لکھ رہا، بلکہ اس امید سے کہ ہم اپنی پلیٹوں پر نظر ڈالیں۔ ہمیں سیکھنا چاہیے کہ صحت ایک قومی سرمایہ ہے، ایک مضبوط جسم ہی مضبوط فکر کو جنم دیتا ہے۔ دعا ہے کہ میرے کپتان جلد آزاد ہوں اور مثبت کام کریں، مگر اس سے بڑھ کر دعا یہ ہے کہ ہم سب اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لائیں۔ شکریہ کپتان، کہ آپ نے ہمیں یاد دلایا: تندرستی محض ذاتی معاملہ نہیں، اجتماعی امانت ہے۔
صحت وہ خاموش نعمت ہے جو شور میں نہیں ملتی۔ جو قوم اپنی خوراک کو سنوار لیتی ہے، وہ اپنے مستقبل کو سنوارنے کے قابل ہو جاتی ہے۔
تندرستی کا سبق ہم نے پلیٹوں سے لیا
زندگی جیتنے کا فن بھی عادات سے لیا
طنز کے تیر چلے، شور بہت برپا تھا
ہم نے خاموشی میں پیغامِ غذائیت لیا
جو بھی اچھا ہو، اُسے اپنا بنا لینا ہے
ہم نے یہ درس بھی اہلِ بصیرت سے لیا
دعا ہے رہائی کی، دعا ہے بہتری کی
ہم نے ہر لفظ میں جذبۂ مثبت لیا
اور آخر میں دل کی گہرائی سے یہ دعا کہ عمران خان جلد سے جلد آزاد فضاؤں میں سانس لیں، کھلے آسمان تلے چلیں اور پھر اسی سنجیدگی سے جس طرح انہوں نے اپنی ذات کے لیے ایک متوازن ڈائیٹ ترتیب دی، اس عظیم قوم کے لیے بھی ایک فکری اور عملی ڈائیٹ پلان مرتب کریں۔ ایسا منصوبہ جس میں تعلیم پروٹین ہو، دیانت داری فائبر ہو، قانون کی حکمرانی وٹامن ہو اور قومی اتحاد وہ معدنیات ہوں جو ہڈیوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ ہم سب نے ایک باوقار، خوددار اور عظیم پاکستان کا خواب دیکھا ہے، آپ نے بھی، ہم نے بھی۔ مگر اس خواب کی تعبیر کے راستے میں کہیں نہ کہیں ہماری کمزور عادتیں، وقتی نعرے، جذباتی خوراک اور غیر متوازن ترجیحات رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
قوموں کی تعمیر لطیفوں سے نہیں، نظم و ضبط سے ہوتی ہے، پالیسیوں کو کٹے، وچھے، مرغی اور چوزے کے استعاروں میں قید کر دینا وقتی تالیاں تو بجوا سکتا ہے، مگر تاریخ کے امتحان میں ایسے نسخے اکثر پٹ جایا کرتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ قوم کو سنجیدہ غذا ملے۔ ایسی غذا جو کردار بنائے، گالی گلوچ چور چور کلچر کا قلع قمع کرے، برداشت سکھائے اور محنت کو شعار بنائے۔ اگر ہماری پلیٹ متوازن ہوگی تو ہماری تقدیر بھی متوازن ہوگی، اگر ہماری خوراک میں شعور ہوگا تو ہماری سیاست میں وقار ہوگا۔ یہی وہ ڈائیٹ پلان ہے جو ایک فرد نہیں، ایک قوم کو عظیم بنا سکتا ہے۔

