Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Bomb Mar Ke Tay Banalo

Bomb Mar Ke Tay Banalo

بم مار کے ٹ بنالو

ہیوسٹن میں میرے اتنے رشتے دار، صحافی دوست اور انچولی والے ہیں کہ ایک دن میں سب سے نہیں ملا جاسکتا تھا۔ ویسے بھی میں دو اہم ملاقاتوں کے لیے گیا تھا۔ آپ جیسے عام لوگوں کو یہ بتانا مناسب نہیں لگتا کہ ٹیکساس کے گورنر سے تعلیم کے امور اور میکسیکو کی سرحد پر غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے کیا بات چیت ہوئی۔

یہاں اگر کسی نے یاد دلایا کہ گورنر آسٹن میں رہتا ہے، ہیوسٹن میں نہیں، تو اچھا نہیں ہوگا۔

میں ہیوسٹن میں تصور بھائی کے ہاں ٹھہرتا ہوں۔ تصور بھائی میرے بڑے ماموں کے بیٹے اور بچپن کے دوست ہیں۔ خانیوال میں ہمارے چند گھر تھے جن میں سے ایک بڑے ماموں کا تھا۔ تایا زاد، ماموں زاد کوئی بہن بھائی میرا ہم عمر نہیں تھا۔ تصور بھائی بھی دو سال بڑے تھے لیکن انھیں سے دوستی اور ذہنی آہنگی تھی۔ بچپن میں لڑائی جھگڑے بھی ہوئے لیکن پھر دوستی ہوجاتی۔ وہ دوستی کراچی اور اب امریکا آنے کے بعد بھی ویسے ہی برقرار ہے۔

ہماری بھابھی یعنی تصور بھائی کی بیوی کو میری بیوی کی امی نے اپنی بیٹی بنالیا تھا۔ ویسے وہ دونوں کزن ہیں لیکن خود کو بہنیں ہی سمجھتی ہیں۔

میں نے بہت منع کیا لیکن تصور بھائی مجھے لینے ائیرپورٹ آگئے۔ اگلی صبح ہفتہ تھا اور وہ مجھے خود ہر جگہ لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن میں نے انھیں ملاقاتوں کی حساس نوعیت کے بارے میں بتایا اور گھر پہنچ کر ان سے کار کی چابی چھین لی تاکہ صبح خود مٹرگشت کرسکوں۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ میں ہیوسٹن میں گاڑی چلا بھی سکوں گا کہ نہیں۔ میں نے یہ کہہ کر انھیں خاموش کرادیا کہ تین سال اوبر چلائی ہے۔

صبح دو خفیہ ملاقاتوں کے بعد میرے پاس کچھ وقت تھا۔ میری اسکول کی ایک ٹیچر مس میمونہ ہیوسٹن میں رہتی ہیں۔ میں اسکول کے اچھے بچوں کی طرح ہر بار ان کے ہاں حاضری لگواتا ہوں۔ ان کے شوہر نعیم بھائی سے مل کر دل خوش ہوتا ہے۔ اس کے بعد بھائی عارف امام کے گھر پہنچا اور زبردستی ان سے بن کباب کھایا۔ انھوں نے بار بار یاد دلایا کہ رمضان المبارک میں روزے کا احترام کرنا چاہیے لیکن میں نے عذر پیش کیا کہ مسافر ہوں اور مجھ جیسے کمزور عقیدے اور معدے والوں کو اللہ میاں نے چھوٹ دے رکھی ہے۔

عارف بھائی کو بیشتر فیس بک فرینڈز ایک بڑے شاعر کے طور پر جانتے ہیں۔ حالانکہ وہ غیر معمولی آرٹسٹ ہیں۔ پاکستان کی بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسی انٹرفلو میں کری ایٹو ڈائریکٹر تھے۔ دی نیوز اور کرکٹر/ٹی وی ٹائمز جیسے اداروں میں کام کیا اور پاکستان میں ماڈرن ٹیکنالوجی آرٹ ورک متعارف کروانے والوں میں شامل تھے۔

جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ ایک فن پارے پر کام کررہے تھے۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو انھوں نے مزید اسکلپٹرز دکھائے۔ اس کے بعد انھوں نے جوتا اٹھایا تو میں ڈر گیا کہ اب پٹائی کریں گے۔ لیکن انھوں نے اطمینان دلایا کہ یہ بھی آرٹ کا نمونہ ہے جو کسی نمونے کو تحفہ دینا چاہتا تھا۔ اب تم آگئے ہو تو تمہی لے جاو۔ میں نے فرمائش کرکے ان سے ان کا مجموعہ کلام لیا اور اس پر دستخط کروائے۔

گھر پہنچا تو افطار کا وقت تھا۔ تصور بھائی، بھابھی اور بچوں، سب کا روزہ تھا۔ سب میرے منتظر تھے کہ امام صاحب آکر دعا پڑھیں تو روزہ کھولیں۔ میں نے اللھم لک صمت زور سے کہا اور پھر کچھ یاد نہ آیا تو منہ ہی منہ میں اپنا ای میل ایڈرس اور پاس ورڈ پڑھ دیا۔ سب نے صلوات پڑھ کر کھجور اٹھالی۔

تصور بھائی کو آیت اللہ خامنہ ای کی خبر مل چکی تھی۔ وہ غصہ ہوئے کہ میں جنگ کے دنوں میں واشنگٹن چھوڑ کے کیوں آیا۔ پیچھے اتنے بڑے بڑے فیصلے ہوگئے۔ میں کیا کہتا۔ صدر ٹرمپ بھلا کسی کی مانتے ہیں۔

تصور بھائی کا غصہ کچھ کم ہوا تو انھوں نے کہا، چلو امام بارگاہ چلتے ہیں۔ وہاں خامنہ ای صاحب کی شہادت پر بڑا جلسہ ہورہا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ جلوس نکال کر واشنگٹن تک پیدل جانے کا اعلان ہوجائے۔ تمھارے ائیرٹکٹ کے پیسے بچ جائیں گے۔ ابھی کچھ دن پہلے بدھ بھکشو بھی پیدل واشنگٹن تک گئے ہیں۔

المرتضی امام بارگاہ میں انچولی کے لوگ آتے ہیں۔ میں اسی لالچ میں ساتھ چل پڑا۔ وہاں پہنچے تو واقعی مجلس ہورہی تھی اور گریہ جاری تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ وہ معمول کی مجلس تھی۔ خامنہ ای صاحب کا ذکر بھی نہ ہوا۔ یا ہمارے پہنچنے سے پہلے ہوچکا ہوگا۔

المرتضی میں فہیم بھائی سے ملاقات ہوئی۔ وہ انچولی کی ممتاز سماجی شخصیت اور ایم کیو ایم کے سابق رکن سندھ اسمبلی انور رضا کے چھوٹے بھائی ہیں۔ وہی انور بھائی جو انور حاجی کے نام سے مشہور ہیں اور اب ہیوسٹن میں رہتے ہیں۔ میں نے فہیم بھائی سے پوچھا کہ انور بھائی اور انجم چئیرمین بھائی کا کیا حال ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بھی آئے ہوئے تھے اور کچھ دیر پہلے ہی واپس گئے ہیں۔

امریکا میں عبادت گاہیں ایک طرح سے کمیونٹی سینٹر ہوتی ہیں۔ وہاں عبادات کے علاوہ بھی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ فہیم بھائی نے بتایا کہ پچھلی بار وہ کراچی گئے تو واپسی پر ڈبو لیتے آئے۔ میں گزشتہ دنوں بتاچکا ہوں کہ ڈبو کیرم جیسا انڈور کھیل ہوتا ہے لیکن اس کا بورڈ دو تین گنا بڑا ہوتا ہے۔ اتنا بڑا ڈبو کراچی سے اٹھاکر امریکا لانا بھی کمال کی بات ہے۔

اتفاق سے ان دنوں ڈبو ٹورنامنٹ چل رہا ہے اور اس شام فہیم بھائی کا میچ تھا۔ میں نے بیس بائیس سال بعد ڈبو کا میچ دیکھا اور وہی جملے سنے جو کبھی انچولی میں سنے تھے۔ ایک رنگ کی دو گوٹیں پاکٹ کرنے کو ڈبل کہتے ہیں۔ لیکن دو بار یہ کارنامہ کرنے کو ٹرپل نہیں، ٹ کہا جاتا ہے۔ اپنی لائن سے نیچے کی گوٹ کو زور سے پھینک کر دوسری گوٹیں بکھیری جائیں تو اسے بم مارنا کہتے ہیں۔ حریفوں کی گوٹ چلی جائے تو اگلی باری نہیں ملتی اور اسے پیک ہوجانا کہتے ہیں۔ بم مار کے ٹ بنالو، سن کر جی خوش ہوگیا۔ ایک صاحب نے ایک باری میں کئی گوٹیں پھینک ڈالیں تو کسی نے کہا، ان پر بھگوان آئے ہوئے ہیں۔

بیسٹ آف تھری سیریز جاری تھی لیکن میں نے اور تصور بھائی نے واپسی کی اجازت لی۔ گھر پہنچ کر بھابھی نے کہا کہ سحری میں کیا کھائیں گے۔ میرے ہاتھ پاوں پھول گئے کہ سحری کے وقت اٹھنا پڑے گا۔ بہت مشکل سے انھیں یقین دلایا کہ مجھ جیسے درویش اور ولی صفت لوگ ہمیشہ بغیر سحری کا روزہ رکھتے ہیں۔

اگلی صبح تصور بھائی نے ائیرپورٹ چھوڑا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے تسلی دی کہ اداس ہونے کی ضرورت نہیں۔ پھر آوں گا اور تمھارے گھر ہی ٹھہروں گا۔ تصور بھائی نے گلوگیر ہوکر کہا، اسی بات پر تو رونا آرہا ہے۔

Check Also

Channels Kese Hack Hue?

By Saqib Ali