Khamosh Ramzan, Bojhal Dil
خاموش رمضان، بوجھل دل
رمضان خوشیوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا اور جس کی عبادات کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ صبر اور برداشت سکھانے والا مہینہ ہے، لیکن اس سال رمضان کی آمد کے ساتھ دل میں ایک عجیب سی کیفیت ہے، سب کچھ ٹھیک ہوتے ہوئے بھی ایک خاموش سی کشمکش ہے، دل غمگین ہے مگر خاموش ہے، ایک بے چینی ہے جو اندر ہی اندر شور مچا رہی ہے۔
نمازوں کی لگن، تراویح کا اہتمام، افطار کی رونق، سب کچھ جیسے کہیں کھو سا گیا ہے۔ دل میں ایک انجانا خوف ہے کہ کل کیا ہوگا، جو اپنے وطن سے دور بیٹھے ہیں، کوئی ان ماؤں سے پوچھے کہ ان کا رمضان کیسا ہے، جو اپنی اولاد کو اللہ کے حوالے کر بیٹھی ہیں۔ یہ کیسی جنگ ہے؟ جو بظاہر دنیا میں لڑی جا رہی ہے، مگر ہر انسان اپنے اندر بھی ایک جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ تھکن، یہ انتظار، نہ جانے کب ختم ہوگا، کب دل کو سکون نصیب ہوگا۔
ہم نماز پڑھتے ہیں، دعا کے لیے ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں، مگر اب دعاؤں میں خواہشیں کم اور درد زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ دعا اب گہری ہوگئی ہے، بس ایک خاموش سی فریاد رہ گئی ہے۔ یہ عجیب سا خوف ہے کہ نہ جانے کل کیا ہوگا، کیا ہم عید منا بھی پائیں گے یا نہیں۔ کبھی کسی خبر پر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل اداس ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ دکھ ہمارا ذاتی بھی نہیں ہوتا، پھر بھی دل بوجھل رہتا ہےجس طرح روزہ محسوس تو ہوتا ہے مگر نظر نہیں آتا، اسی طرح ہمارا غم بھی خاموش ہے شور نہیں مچاتا بلکہ ہمارے ساتھ روزہ رکھتا ہے۔

