Tuesday, 16 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (4)

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (4)

"امبربیل" کی الجھی بیلیں (4)

آخر میں وہ بات جو سب سے زیادہ کھٹکتی ہے۔

امبربیل، ادھوری ہے۔ وہ کہانی جو پچاس سال پہلے شروع ہوئی، جس نے لاکھوں قارئین کو ہر مہینے اپنی طرف کھینچا، جس کے کردار آج بھی بےشمار لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں زندہ ہیں، وہ کہانی ناتمام پڑی ہے۔

یہ تو ہم نے آپ کو بتا دیا کہ شکیل عادل زادہ بازی گر، کے اختتامی حصے پر کام کر رہے ہیں، لیکن ایسی کوئی اطلاع ہم تک نہیں پہنچی کہ وہ امبربیل، کو بھی مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔

صرف ہماری نہیں، امبربیل کے قتیل سبھی لوگوں کی خواہش ہوگی کہ امبربیل، کا دائرہ مکمل ہونا چاہیے، شکیل عادل زادہ کے قلم سے، کسی اور کے نہیں۔ جمشید میاں پچاس سال سے طلسماتی جنگل میں سر ٹکراتے پھر رہے ہیں، ان کا انتظار ختم ہونا چاہیے، ان کا اختتام کی چندراوتی سے وصال ہونا ضروری بلکہ لازمی ہے۔

یہاں تک تو لکھ دیا، مگر دل پر پتھر رکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمیں نہیں لگتا امبربیل کبھی مکمل ہو پائے گی۔

شکیل صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرفیکشنسٹ ہیں۔ ہم نے خود ان کے دفتر میں دیکھا کہ وہ چھوٹی چھوٹی پرچیوں پر لکھتے ہیں، ایک ہی منظر بار بار لکھا جاتا ہے، کاٹا جاتا ہے، پھر لکھا جاتا ہے، پھاڑ کر پھینکا جاتا ہے، پھر لکھا جاتا ہے اور یہ لامتناہی چکر چلتا رہتا ہے۔

حالیہ برسوں میں سب رنگ کہانیوں کا انتخاب الگ سے بک کارنر جہلم کے زیرِ اہتمام چھپ رہا ہے، اس کا ایک دو صفحے کا دیباچہ لکھتے لکھتے شکیل صاحب سال بھر لگا دیتے ہیں۔ سوچیے کہ چالیس سال پرانے سلسلے کو انتہا تک پہنچانے میں کتنا وقت لگائیں گے۔ بازی گر کے بارے میں بتا چکا کہ وہ بھی کب سے ناتمام پڑی ہے۔

ان کی عمر اور صحت دونوں ایسی رکاوٹیں ہیں جو اتنے مشکل پراجیکٹ کی تکمیل میں آڑے آ رہی ہیں۔

ایک اور نازک معاملہ یہ بھی ہے کہ میں نے اوپر لکھنے کو تو لکھ دیا کہ امبربیل کے چاہنے والے لاکھوں میں ہیں۔ لیکن نصف صدی کے بعد اب وہ سارے بابے / بابیاں بن چکے ہوں گے، بلکہ بہت سے تو اس سلسلے کا انجام دیکھنے کے سپنے آنکھوں میں بسائے دنیا ہی سے رخصت ہو گئے ہوں گے، جو بچے ہیں ان کا پڑھنے کا حوصلہ اور شوق بھی کم ہوتا چلا جا رہا ہوگا۔

اب جو نئی مخلوق امبربیل کے معطل ہونے کے بعد دنیا میں وارد ہوئی ہے اس کی کتنی تعداد کو خبر بھی ہوگی کہ یہ کیا سلسلہ تھا اور اسے کس عشق، کس دیوانگی سے چاہا اور سراہا جاتا تھا؟

وہ جو ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے: پھل موسم دا، گل ویلے دی۔ تو سولہ آنے درست بات ہے۔ ہر چیز کا اپنا اپنا وقت ہوتا ہے۔ وقت گزر جائے تو چیزیں باسی ہو جاتی ہیں۔

لیکن اگر شکیل صاحب چاہیں بھی تو امبربیل کو کیسے ختم کریں گے؟

سنہ 2000 کے لگ بھگ ہماری شکیل صاحب سے چند ملاقاتیں ہوئی تھیں اور ایک بار ہم نے ان پوچھا بھی کہ وہ امبربیل، کو کب مکمل کریں گے اور اس کے آخر میں کہانی کو کس طرح نمٹائیں گے؟

اس پر انہوں نے ہمیں امبربیل، کا جو انجام بتایا اسے سن کر ہمیں جھٹکا لگا کیوں کہ وہ سب رنگ میں شائع ہونے والے ایک سلسلے انکا، سے ہوبہو مشابہ لگا (اتفاق یا ستم ظریفی دیکھیے کہ اس سلسلے کے بانی، بھی انوار صدیقی تھے)۔

مختصراً وہ انجام یہ تھا کہ لندن سے ریتا آئے گی اور جمشید کو اپنے ساتھ لے جائے گی اور دونوں ماضی کی ہنگامہ خیز گرما گرمیاں بھلا کر ولایت کی ٹھنڈی ٹھار فضاؤں میں ہنسی خوشی رہنے لگیں گے اور کیمرا آہستگی سے اوپر اٹھتے اٹھتے فیڈ ٹو بلیک ہو جائے گا۔

ہم نے ڈرتے ڈرتے شکیل صاحب سے انکا سے اسی مماثلت کا ذکر کیا تو کہنے لگے، پھر تمہی بتاؤ اس کا کیا کیا جائے؟

ہم بھلا کیا کہتے، چپ رہے، زیرِ لب مسکرا دیے اور پھر موقع پا کر کھسک لیے۔ اندازہ ہوگیا تھا کہ امبربیل کی بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی۔

Check Also

Logon Ki Pehchan Kese Ho?

By Rauf Klasra