Wednesday, 11 February 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Ameer o Ghareeb Ko Yaksaan Nigah Se Dekhne Wala Bandobast

Ameer o Ghareeb Ko Yaksaan Nigah Se Dekhne Wala Bandobast

امیر اور غریب کو یکساں نگاہ سے دیکھنے والا بندوبست

پیر کے روز بجلی کی پیداوار کے علاوہ خریدوفروخت پر نگاہ رکھنے والے ادارے "نیپرا" نے بالآخر نئی سولر پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔ اس کا اجراء کردہ"فرمان" سترہ صفحات پر مشتمل ہے۔ میں نے ان صفحات کو ڈائون لوڈ کرنے کے بعد نہایت غور سے پڑھا۔ بالکل سمجھ نہ پایا کہ میرے گھر کی چھت پر دس سے زیادہ لاکھ خرچ کرنے کے بعد سورج سے بجلی حاصل کرنے کے جو پینل لگوائے گئے تھے ان کے ہوتے ہوئے بھی میرے ہاں آئے ماہانہ بجلی کے بل میں کیا فرق پڑے گا۔ اپنی کم علمی سے اکتاکر تین سے زیادہ لوگوں سے رابطہ کیا۔ وہ بھی نیپرا کے جاری شدہ فرمان کو غور سے پڑھنے کے باوجود کچھ بتانے کے قابل نہیں تھے۔

میری طرح وہ بھی سمجھ سکے تو فقط اتنا کہ ہمارے گھروں پر لگے سولر پینلوں سے حکومت جو بجلی خریدتی ہے اس کے نرخ کم از کم آدھے کردئیے گئے ہیں۔ واپڈا کا لگایا نیٹ میٹر نظر بظاہر اب کسی کام کا نہیں رہا۔ بجلی کا ہر یونٹ خرچ کرنے کی مجھے اتنی ہی قیمت ادا کرنا ہوگی جو سولر پینل نہ لگوانے والے ادا کررہے ہیں۔ جو بجلی ہمارے ہاں لگے سولر پینل سے نیشنل گرڈ میں جارہی ہے اس کی قیمت کا تعین اور ادا کرنے کا طریقہ بھی جناتی انگریزی میں لکھے صفحات میں سادگی اور تفصیل سے بیان نہیں ہوا۔ اس ضمن میں "نیشنل ایوریج" (قومی اوسط) کا ذکر ہوا ہے۔ "اوسط" کیسے طے کی جائے گی؟ اس کی وضاحت موجود نہیں۔

آج کے نوجوان مجھ جیسے جاہل نہیں اکثر نے اپنے ہاتھوں میں موجود فونوں میں ہر مہینے 8سے 10ہزار روپے خرچ کرنے کی بدولت مصنوعی ذہانت والی ایپ لگارکھی ہے۔ مجھ بڈھے پر ترس کھاتے ہوئے ایک نوجوان نے ہمارے ہاں آئے بجلی کے بل کی کاپی منگوائی اور اس کے بعد اپنے فون سے کھیلتے ہوئے بتایا بھی تو فقط اتنا کہ میرے گھر میں اوسطاََ بجلی کے کتنے یونٹ استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت کے تعین کے بعد مختلف النوع ٹیکسوں کو بھی شمار کیا۔

طے یہ ہوا کہ مجھ دیہاڑی دارکو سولر پینل کے ہوتے ہوئے بھی اپنی ماہانہ آمدنی کا تقریباََ45فی صد بجلی کے بل ادا کرنے میں صرف کرنا ہوگا۔ اس کے بعد "گنجی" کو سوئی گیس کی قیمت بھی ادا کرنا ہے۔ یہ سب ہوجانے کے بعد دو وقت کی روٹی کھاتے ہوئے دل سے دعا یہ مانگنا ہوگی کہ کوئی مہمان کھانے کے وقت گھر نہ آجائے۔ کسی بیماری کا شبہ ہو تو ڈاکٹروں سے رجوع کرنے کے بجائے درد سے نجات کی مشہور گولیوں میں سے کوئی ایک کھاکر خود کو شفایاب ہوجانے کا یقین دلاکر ربّ کریم سے فریاد کی جائے کہ وہ چلتے پھرتے ہی اٹھالے۔

"بکائو میڈیا" سے نفرت کرنے والوں کی اکثریت میرے بیان کردہ حقائق کو "دیوداس" کا روپ دھار کر لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش محسوس ہوگی۔ حکومتِ پاکستان بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہے۔ بجلی کے وفاقی وزیر جناب اویس لغاری جو سردار فاروق لغاری صاحب کے فرزند بھی ہیں اتوار کے دن جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں رونما ہوئے تھے۔ غریب پرور سردار صاحب نے حقارت بھرے دُکھ سے انکشاف کیا کہ وطن عزیز کے دو کروڑ کے قریب گھرانوں نے جو دنیا کی ہر نعمت سے مالا مال ہیں اپنی چھتوں پر سولر پینل لگوالئے ہیں۔ ان کے ذریعے وہ خود کے لئے سستی بجلی حاصل کرلیتے ہیں اور بجلی کے ناقابل برداشت نرخوں کا تمام تر بوجھ "غریب صارف" کو منتقل ہوجاتا ہے۔

امیر اور غریب کو یکساں نگاہ سے دیکھنے والا بندوبستِ حکومت یہ ناانصافی مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ سولر پینل لگوانے والے تمام گھرانوں کو بلااستثناء امیر وخوش حال طبقات میں دھکیلنے والے غریب پرور اویس لغاری کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ سفید پوشوں کی بے پناہ اکثریت نے سوجتنوں کے بعد اپنے گھروں میں سولر پینل لگوائے تھے۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں گرین اور سستی انرجی کے خواب دکھاتے ہوئے اس جانب راغب کیا۔ بے تحاشہ لوگوں نے سولر لگوانے کے لئے کئی ماہ تک صوفیانہ ریاضت سے رقم جمع کی۔ اس کے باوجود گھر میں موجود زیور یا جانور بیچنے کے علاوہ کچھ قرض لے کربھی سولر کو منتقل ہوئے تھے۔ سولرپینل کے حامل تمام گھرانوں کو مگر اب ایک ہی لاٹھی سے ہانکاجارہا ہے۔

ان دنوں کا بندوبستِ حکومت نہایت فخر سے اپنی رعایا کے بارے میں سب جاننے کا خدائی دعویٰ کرتا ہے۔ ہمارے موبائل فونوں میں گھس کر بآسانی جان لیتا ہے کہ فلاں گھر میں ایک دن کتنے پیکٹ آن لائن کام کرتی کمپنیوں نے بھجوائے ہیں۔ کھانے کے لئے کس ریستوران کو حکم دیا گیا۔ کمپیوٹر کی مدد سے ہمارے ہر عمل پر گناہوں کا حساب رکھتے فرشتوں کی طرح "باخبر" حکومت ٹھوس اعدادوشمار کی مدد سے یہ ثابت نہیں کرسکتی کہ وہ سفید پوشوں کی حقیقی تعداد اور مشکلات کے بارے میں لاعلم ہے۔ خود کو خطِ غربت سے دور رکھنے کے لئے سفید پوشوں کی اکثریت کو مرتے دم تک کام کرنا ہوتا ہے۔

ہماری اکثریت تنخواہ داروں پر مشتمل ہے جن کی آمدنی پر واجب ٹیکس تنخواہ میں سے منہا کرلیا جاتا ہے۔ اپنی آمدنی پر باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے کے باوجود پاکستانی سفید پوش کے لئے (اگر وہ حکومت کا ملازم نہیں) تو ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ہے۔ وہ کام کرنے کے قابل نہ رہے تو عمر تمام ٹیکس ادا کرنے والے شخص کو حکومت باقاعدگی سے وظیفہ ادا نہیں کرتی۔ ہمارے ہاں سرکاری ملازمین کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے پنشن کا تصور ہی موجود نہیں۔ ایسے گھرانوں کی تعداد میں لیکن مسلسل اضافہ ہورہا ہے جہاں فقط میاں بیوی ہی "کنبہ" تشکیل دیتے ہیں۔

آج کے "کمائو" بچے بیرون ملک کام کرنے کو بے قرار ہیں۔ ملک میں رہیں بھی تو ماں باپ کے ساتھ رہنے کی روایات دم توڑ رہی ہے۔ سفید پوش ماں باپ پر مشتمل کنبہ بھی اپنے بچوں پر بوجھ بننے سے خوف کھاتا ہے۔ ایسے کنبے کو مگر گھر کی چھت پر سولر پینل نصب کرلینے کی وجہ سے امیر وکبیر شمار کرتے ہوئے گنے کی طرح مشین میں ڈال کر مزید سے مزید رقم اگلوانے کی کوشش ہورہی ہے۔ "جمہوری" ایوانوں میں بیٹھے "ہمارے نمائندے" اس جانب مگر توجہ نہیں دے رہے۔

پیر کے روز نیپرا نے جس نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے مبینہ طورپر اسے لاگو کرنے سے قبل "عوام کو اعتماد میں لینے کے لئے " کھلی کچہری کا اہتمام ہوا تھا۔ اخباری اطلاع کے مطابق وہاں سولر پینلوں کی سفید پوش گھرانوں کے لئے اہمیت کا احساس دلانے غیر سرکاری تنظیموں کے علاوہ فقط ایک نمایاں سیاستدان موجود تھے۔ نام ہے ان کا ندیم افضل چن۔ 2024ء کے انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب نہیں ہوپائے تھے۔

ہماری "سب پہ بالادست" پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بجلی کے معاملات پر نگاہ رکھنے کے لئے قائمہ کمیٹیاں موجود ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے بھی ان دنوں کا بندوبستِ حکومت ایک ایسی سولر پالیسی لاگو کرنے میں ڈھٹائی سے کامیاب ہوگیا جس کے اطلاق کے بعد چھتوں پر لگے پینل "جی کو خوش رکھنے" والے خیال میں بدل جائیں گے۔ حکومت کے پلے مگر اس کے باوجود کچھ نہیں آئے گا۔

جو گھرانہ آج سے تین چار برس قبل کسی نہ کسی طرح سولر پینل لگواسکا اب بتدریج دورِ حاضر کی جدید ترین بیٹریوں کے حصول کی لگن میں مبتلا ہوجائے گا۔ مقامی اور عالمی منڈی میں ایسی بیٹریوں کا سیلاب برپا ہوچکا ہے۔ طلب ورسد کا قانون ان کی قیمتوں کو سفید پوش طبقے کی قوتِ خریدکے قریب تر لارہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں آپ گھروں سے نیٹ میٹر اتارے جانے کی خبریں سناکریں گے۔ بجلی کے نیشنل گرڈ سے سفید پوش گھرانوں کی اکثریت خود کو الگ کرنا شروع ہوگئی تو بجلی بنانے والی کمپنیوں کا مسلسل بڑھتا گردشی قرضہ حکومت کیلئے ادا کرنا مزید دشوار ہوجائے گا۔ حکومت کو پھر "جگے" کی طرح عوام سے بجلی کی قیمت اگلوانے کے لئے کوئی اور ہتھکنڈہ اگلے ہی برس متعارف کروانا پڑے گا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Mera Sab Kuch Iss Mulk Se Hai

By Syed Mehdi Bukhari