Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Siasat Dano Ke Liye Be Maani Makafat e Amal

Siasat Dano Ke Liye Be Maani Makafat e Amal

سیاستدانوں کے لیئے بے معنی "مکافاتِ عمل"

بانی تحریک انصاف کی بیماری کی خبر ملتے ہی لگی لپٹی رکھے بغیر اس کالم اور ٹی وی سکرین کے ذریعے سرکار مائی باپ سے فریاد کرنا شروع کردی تھی کہ "سزا یافتہ قیدی" کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ حکومتیں انہیں نظرانداز نہیں کرسکتیں۔ سیاست میں آنے سے قبل ہی کرکٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوئے عمران خان وطن عزیز کے وزیر اعظم بھی رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے "فرینڈ آف کورٹ" سلمان صفدر کے ذریعے انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اڈیالہ جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ سے وہ بارہا کہتے رہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہورہی ہے۔ اسے ماہرِامراض چشم کا معائنہ درکار ہے۔ ان کی استدعا مگر نظرانداز کردی گئی۔ بالآخر موصوف کے تبادلے کے بعد تعینات ہونے والے جیلر نے تین بار ان کی آنکھ کا معائنہ کروایا۔ جیل میں ان کی بیماری کا تشفی بخش علاج نظر بظاہر ممکن نہیں تھا۔ اسی باعث انہیں 24 اور 25جنوری کی درمیانی شب اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جانا پڑا۔

میں آج بھی اس سوال کا جواب حاصل نہیں کرسکا کہ 24 اور 25 جنوری کی درمیانی رات بانی تحریک انصاف کو علاج کے لئے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لایا گیا تو اس کے بارے میں حکومت نے ازخود عوام کو آگاہ کرنے کی زحمت گوارہ کیوں نہ کی۔ یہ خبر حکومت نے اگر باقاعدہ جاری کردی ہوتی تو سازشی کہانیوں کی گنجائش نکالنا بہت مشکل ہوجاتا۔ پمز جیسے ہسپتال میں عمران خان جیسی مشہور شخصیت کی آمد چھپانا کسی بھی اعتبار سے ممکن نہیں تھا۔ رات گئے آنکھ کے مریض بہت کم ان شعبوں کا رخ کرتے ہیں جو آنکھوں کے علاج کیلئے وقف ہیں۔

خصوصی انتظامات کے تحت کسی مریض کو وہاں چھپ چھپاکر یقیناََ لایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم اور ان کے معاونین مگر اپنے ہاں سابق وزیر اعظم رہی شخصیت کی آمد کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ ان کے منہ سے بات نکل کر میڈیا تک پہنچ جانا عین فطری تھا۔ خبر بالآخر ہر سوپھیل گئی تب بھی حکومت نے اس کی تصدیق میں بہت دیر لگائی۔ اس کی جانب سے اپنائی تاخیر نے عاشقانِ عمران ہی نہیں ان کی سیاست سے لاتعلق اور چند ناقدین کو بھی یہ سوچنے کو مجبور کیا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تاویلات کا سیلاب بھی پھوٹ پڑا۔ دریں اثناء سیاسی معاملات سے کنارہ کش ہوئی سپریم کورٹ نے 2023ئمیں عمران خان کی جانب سے جمع ہوئی ایک درخواست کی سماعت شروع کردی۔ جو درخواست پیش ہوئی تھی وہ قانون کی باریکیوں سے نابلد مجھ جیسے شخص کو بھی کافی وقت گزرجانے کی وجہ سے "غیر مؤثر" نظر آئی۔ مؤثر اور غیر مؤثر کی بحث میں الجھے بغیر مگر چیف جسٹس صاحب نے عمران خان کے ایک تگڑے وکیل سلمان صفدر صاحب کو "فرینڈ آف کورٹ" متعین کرتے ہوئے اڈیالہ جیل جاکر وہاں مقید عمران خان کی "حالتِ زار" کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔

موصوف نے تین گھنٹے قیدی کے ساتھ گزارے اور 7صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی۔ سلمان صفدر صاحب کی تحریر کردہ رپورٹ کو ہمارے "کاتا اور لے دوڑی " کے عادی صحافیوں نے غور سے پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ اپنی پسند کے حصے چن کر سوشل میڈیا پر پھیلانا شروع کردئیے۔ عاشقانِ عمران کے لئے اہم ترین ان کے قائد کا یہ دعویٰ تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85فی صد ضائع ہوچکی ہے۔

ان کے مخالفین نے جیل میں میسر "وی آئی پی سہولیات"کو اچھالتے ہوئے دُکھی دل سے یاد کرنا شروع کردیا کہ عمران حکومت کے دوران نواز شریف اور ان کی دختر کو جیل میں ایسی سہولیات سے محروم رکھا گیا تھا۔ "جیل میں عیاشی" کے طعنوں کے ساتھ "مکافاتِ عمل" کا ذکر بھی شروع ہوگیا۔ قیامِ پاکستان کے روزِاوّل سے ہماری ہر حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین اور ناقدین کی زندگی ہر حوالے سے اجیرن بنانے کی سفاکانہ کوششیں شروع کردی تھیں۔ "مکافاتِ عمل" کے کئی مراحل سے گزرنے کے باوجود اقتدار میں واپس آئے افراد نے ظلم وزیادتی کرنے والے اہلکاروں کو "عبرت کا نشان" کبھی نہیں بنایا۔ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے اہلکاروں ہی کو بلکہ انتقام کے جذبے سے مغلوب ہوکر سیاسی مخالفین کی ذلت ورسوائی کیلئے استعمال کیا۔

"مکافاتِ عمل" اب تک کسی بھی سیاستدان کو معاشرے میں مثبت روایتیں متعارف کروانے کو رضا مند نہیں کرپایا۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر نہایت اعتماد سے یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ تحریک انصاف بھی اگر دوبارہ برسراقتدار آئی تو وہ بھی "مکافاتِ عمل" سے کچھ سیکھتا نظر نہیں آئے گی۔ اپنے ناقدین سے حساب برابر کرنے کی ہر ممکن کوشش کریگی۔ اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے ایک امر کو دھیان میں رکھنا ہوگا کہ ممکنہ طورپر ایک "غیر مؤثر" درخواست کے حوالے سے سپریم کورٹ کے متحرک ہوجانے نے یہ عندیہ دیا کہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے حکومت انگریزی محاورے والا ڈیمج کنٹرول کرنا چاہے گی۔

تحریک انصاف کو اسے اپنی غلطیوں کے ازالے کے لئے کچھ وقت فراہم کرنا چاہیے تھا۔ حکومت پر دبائو بڑھانے کے لئے مگر پارلیمان میں دھرنے کا فیصلہ ہوگیا۔ خیبرپختونخواہ ہائوس میں بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ حکومت نے ان دھرنوں کو غیر مؤثر بنانے کے لئے طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیاہے۔ کئی مہینوں سے ہر منگل کے دن عمران خان کی بہنیں اپنے بھائی سے ملنے کے لئے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل لے جانے والی سڑک پر پہنچ جاتی ہیں۔ انہیں جیل کے پھاٹک سے بہت پہلے روک لیا جاتا ہے تو اسی مقام پر دھرنا دے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس دھرنے کی لمحہ بہ لمحہ "رپورٹنگ" ہوتی ہے۔

یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ پاکستان کے ان دنوں مقبول ترین مشہور ہوئے سیاستدان کی بہنوں کے ساتھ برتے ناروا سلوک سے مشتعل ہوکر ان کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد اپنے موبائل فونوں پر دھرنوں کی مسلسل رپورٹنگ دیکھتے ہی سارے کام چھوڑ کر اڈیالہ جیل لے جانے والی سڑک پر پہنچ جائے گی۔ ان کی تعداد حکومت کو "جیل کا پھاٹک" ٹوٹنے کے خوف میں مبتلا کردے گی۔ ایسا مگر آج تک نہیں ہوا۔

حکومت میری دانست میں جان بوجھ کر ایکس اور فیس بک وغیرہ پر عمران خان کی بہنوں کے دئیے دھرنے کی لائیو کوریج روکنے سے کتراتی رہی ہے۔ یوں بہت مکاری اور ہوشیاری کے ساتھ لوگوں کو یہ پیغام پہنچایا جاتا ہے کہ "مقبول ترین لیڈر" کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لئے چند سو سے زیادہ افراد اڈیالہ جیل لے جانے والی سڑک پر جمع نہیں ہوتے۔ تحریک انصاف کو حکومت کی اس پالیسی کا ادراک کرلینا چاہیے تھا۔ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے قریب یا اسلام آباد کے ریڈزون میں بانی تحریک انصاف سے ہمدردی کے اظہار کے لئے ایک متاثر کن ہجوم برجستہ طورپر جمع کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ نومبر2024ء میں ریاستی قوت کے بھرپوراستعمال سے لوگوں کو بقول منیرؔ نیازی ان کے گھروں میں ڈرادیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے رہ نماؤں کو تقریباََ ہر دوسرے روز اپنے کارکنوں کو لہٰذا ریاستی جبر کی نذر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنے مخصوص انداز میں محمود خان اچکزئی ایسی ہی حکمت عملی اختیار کرتے نظر آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت ماردھاڑ سے بھرپور تخت یا تختہ والے معرکے دیکھنے کے منتظر افراد مگر انہیں طنز بھرے فقروں کا نشانہ بنانا شروع ہوگئے ہیں۔ میری ناقص رائے میں تحریک انصاف کے جیل جانے کے بعد حکومت پہلی بار بیک فٹ پر جانے کو مجبور ہوئی ہے۔ اس پر دھرنوں کے ذریعے مزید دبائو بڑھانے سے فی الوقت گریز اختیار کرتے ہوئے عمران خان صاحب کے مؤثر علاج کی راہ نکالنے پر کامل توجہ مرکوز رکھنا ہوگی۔ مذکورہ تناظر میں بالآخر کسی نہ کسی نوعیت کے بیک ڈور مذاکرات ہی کام آئیں گے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Green Pakistan Aur Aik Fard Ki Jad o Jehad

By Malik Zafar Iqbal