Saturday, 14 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imtiaz Ahmad
  4. Jang Se Pehle America Ke Jhoot

Jang Se Pehle America Ke Jhoot

جنگ سے پہلے امریکہ کے جھوٹ

مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے کہ میں گاؤں میں تھا اور تقریباََ ایک ماہ بعد رمضان کا آغاز ہونے والا تھا۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور بش جونئیر نے کہا، "ہم افغانستان میں جمہوریت لائیں گے۔ یہ آپریشن مختصر اور فیصلہ کن ہوگا"۔

آج 25 برس بعد صدر ٹرمپ نے بالکل ویسا ہی جھوٹ دہرایا ہے، "وہ ایک ہفتے میں ہم پر حملہ کرنے والے تھے۔ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی"۔

سن 2001 کے بعد اور میری صحافتی زندگی میں نیتن یاہو کا بھی یہ مسلسل چوتھا جھوٹ ہے، جو انہوں نے بولا ہے کہ "ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے صرف چند ہفتے دور" ہے۔

ماضی میں بھی، جب بھی امریکہ نے کسی ملک پر حملہ کیا تو بولا گیا جھوٹ تقریباََ یہی تھا، "ہمیں فوری خطرہ ہے، ہمارے پاس وقت نہیں، ہمیں ابھی حملہ کرنا ہے"۔

اور ہر بار بغیر کسی استثناء کے یہ کہانی جھوٹی یا مشکوک نکلی۔

ویتنام، سن 1964

صدر لنڈن جانسن نے اگست 1964 میں امریکی قوم کو بتایا کہ شمالی ویتنام نے خلیج ٹونکن میں امریکی بحری جہاز پر حملہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ کھلی جارحیت ہے۔ میں نے فوجی کارروائی کا حکم دے دیا ہے"۔

کہا گیا کہ یہ "دوسرا حملہ" چار اگست کی رات ہوا لیکن اصل میں کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔

اس رات کے فلائٹ کمانڈر ایڈمرل جیمز نے بعد میں کہا، "ہم ایک جھوٹ کی بنیاد پر جنگ شروع کرنے والے تھے، میدان میں موجود کمانڈر کی مخالفت کے باوجود"۔

2005 میں این ایس اے کی خفیہ دستاویزات نے تصدیق کی کہ چار اگست کا حملہ ہوا ہی نہیں تھا۔ دستاویزی فلم "The Fog of War" میں خود سابق وزیر دفاع میک نامارا نے اعتراف کیا، "4 اگست کا حملہ؟ نہیں ہوا تھا"۔

یہ جنگ 11 سال چلی۔ 58 ہزار امریکی اور 30 لاکھ ویتنامی مارے گئے۔ آخر میں امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

خلیجی جنگ، سن1991

صدام حسین نے کویت پر قبضہ کیا۔ صدر جارج بش سینئر نے کہا، "ہم ایک آزاد ملک کو آزاد کرائیں گے"۔

لیکن اس جنگ کو فروخت کرنے کے لیے بھی ایک بہت بڑا جھوٹ بولا گیا۔

اکتوبر 1990 میں امریکی کانگریس کے سامنے ایک 15 سالہ کویتی لڑکی آئی، صرف "نیرہ" کے نام سے۔ اس نے روتے ہوئے گواہی دی کہ عراقی فوجی ہسپتال میں گھسے، انکیوبیٹرز سے نوزائیدہ بچے نکال کر ٹھنڈے فرش پر مرنے کے لیے چھوڑ دیے اور مشینیں چرا کر لے گئے۔

صدر بش نے اگلے ایک مہینے میں چھ بار اس واقعے کا حوالہ دیا۔ سات سینیٹرز نے اپنی تقاریر میں اسے دہرایا۔ 35 سے 55 ملین امریکیوں نے ٹیلی ویژن پر یہ گواہی دیکھی۔

لیکن جنگ کے بعد سچ سامنے آیا۔

یہ لڑکی کویتی سفیر سعود ناصر الصباح کی اپنی بیٹی تھی، جو اسی کمرے میں بیٹھ کر اپنی بیٹی کی یہ گواہی سن رہے تھے۔ اس جھوٹ کو پی آر فرم "ہل اینڈ نولٹن" نے تیار کیا تھا، جسے کویتی حکومت نے 10 ملین ڈالر سے زیادہ ادا کیے تھے۔

اس فرم کا سربراہ Craig Fuller تھا، جو بش کا سابق چیف آف اسٹاف تھا۔ کویت کے ڈاکٹروں نے بعد میں بتایا کہ اس وقت ہسپتال کے انکیوبیٹرز میں شاید کوئی بچہ تھا ہی نہیں۔

تو یہ بھی جھوٹ پر شروع کی گئی جنگ تھی، فرق صرف یہ ہے کہ کویت واقعی آزاد ہوا، اس لیے یہ جھوٹ تاریخ میں دب گیا۔

افغانستان، سن 2001

11 ستمبر 2001 کے حملوں کے ٹھیک ایک ماہ بعد صدر بش جونیئر نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔

انہوں نے کہا، "ہم القاعدہ کو تباہ کریں گے، طالبان کو اقتدار سے ہٹائیں گے اور افغانستان میں جمہوریت لائیں گے۔ یہ آپریشن مختصر اور فیصلہ کن ہوگا"۔

وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے عوام سے کہا، "یہ ہفتوں کی بات ہے، مہینوں کی نہیں"۔

لیکن اسی دن، جس دن وہ یہ جھوٹ بول رہے تھے، عین اسی دن، رمزفیلڈ نے اپنے جنرلوں کو ایک خفیہ میمو لکھا جس میں کہا، "اگر ہم نے کوئی منصوبہ نہیں بنایا تو ہم کبھی اپنے فوجی واپس نہیں نکال پائیں گے" اور میمو کے آخر میں صرف ایک لفظ لکھا: "ہیلپ!"

پھر سال گزرتے رہے اور جب 2019 میں "افغانستان پیپرز" شائع ہوئے تو اندر کی اصل کہانی سامنے آئی:

لیفٹیننٹ جنرل ڈگلس لوٹ، بش اور اوباما دونوں کے دور میں افغان جنگ کے انچارج نے کہا، "ہمیں افغانستان کے بارے میں بنیادی سمجھ ہی نہیں تھی۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم کیا کر رہے ہیں"۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر کانگریس میں بار بار کامیابی کی رپورٹ دیتے رہے لیکن خفیہ انٹرویو میں کہا، "مجھے کبھی یہ توقع نہیں تھی کہ ہم افغانستان کو بدل سکیں گے"۔

جنرل اسٹینلے میک کرسٹل افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر عوامی بیانات میں کہتے: "سخت سال تھا لیکن ہم ترقی کر رہے ہیں"۔ جبکہ اندر سے حالات برعکس تھے۔

جنرل جان کیمبل (2015) اور جنرل جان نکلسن (2017) نے کانگریس کو بتایا کہ افغان فوج "تیزی سے قابل" ہو رہی ہے۔ یہی افغان فوج 2021 میں طالبان کے سامنے صرف 11 دن میں ڈھیر ہوگئی۔

انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے کانگریس کے سامنے کہا: "ہم نے ایسا نظام بنا دیا تھا جس میں لوگوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ امریکی عوام سے مسلسل جھوٹ بولا گیا"۔

یہ ہماری آنکھوں دیکھی جنگ 20 سال چلی۔ کم از کم 2,400 امریکی فوجی ہلاک اور ڈھائی لاکھ افغان مارے گئے، دو ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے۔

اور پھر اگست 2021 میں "ذلت آمیز" انخلا، کابل ہوائی اڈے پر جہازوں سے لٹکتے اور آسمان سے گرتے لوگوں کی تصویریں پوری دنیا نے دیکھیں۔

جن طالبان کو "ہفتوں میں ختم" کیا جانا تھا، وہی دوبارہ اقتدار میں آ گئے۔

عراق جنگ سن 2003

11 ستمبر کے بعد بش جونیئر نے کہا: "عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ صدام حسین ہمارے لیے فوری خطرہ ہے۔ اس کے پاس 48 گھنٹے ہیں"۔

5 فروری 2003 کو وزیر خارجہ کولن پاول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے آئے۔ شیشے کی شیشی اٹھائی اور کہا: "یہ انتھراکس ہے۔ صدام کے پاس یہ ہے"۔ انہوں نے ایک گھنٹے کی تقریر میں "ویپن آف میس ڈیسٹرکشن" 17 بار بولا۔

انہوں نے کہا: "میں جو بھی کہہ رہا ہوں وہ ٹھوس انٹیلی جنس پر مبنی ہے، یہ دعوے نہیں، حقائق ہیں"۔

لیکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی ٹیم نے پاول کی تقریر سے پہلے میمو لکھے جن میں کئی دعووں کو "کمزور"، "ناقابل اعتبار" اور "مشکوک" قرار دیا۔ یہ میمو نظرانداز کر دیے گئے۔

سب سے بڑا جھوٹ یہ تھا: پاول نے صدام کے داماد حسین کمال کا حوالہ دیا، جو ڈبلیو ایم ڈی پروگرام کا سربراہ تھا لیکن وہ حصہ چھپا دیا، جس میں کمال نے کہا تھا: "تمام کیمیائی ہتھیار تباہ کر دیے گئے ہیں۔ کوئی ڈبلیو ایم ڈی باقی نہیں"۔

پھر کوئی ہتھیار نہ ملا۔ ڈبلیو ایم ڈی سرچ ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ کے نے استعفیٰ دے کر کہا: "عراق کے پاس جنگ سے پہلے ہتھیاروں کا کوئی ذخیرہ نہیں تھا"۔

یکم مئی 2003 کو بش نے بحری جہاز پر "Mission Accomplished" کا بینر لگا کر اعلان کیا کہ جنگ ختم ہوئی لیکن اس کے بعد ہزاروں امریکی اور 2 لاکھ عراقی مارے گئے، داعش پیدا ہوئی، دو ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے۔

لیبیا، سن 2011

صدر اوباما نے کہا: "قذافی اپنے عوام کا قتل عام کر رہا ہے۔ ہم بن غازی کی تباہی نہیں دیکھ سکتے"۔

اقوام متحدہ کی قرارداد صرف "نو فلائی زون" کی اجازت دیتی تھی لیکن نیٹو نے اسے مکمل "رجیم چینج" کی جنگ میں بدل دیا۔

قذافی مارے گئے لیکن لیبیا آج تک خانہ جنگی میں ہے۔ اوباما نے بعد میں خود اسے اپنی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔

اسی طرح نیتن یاہو بھی گزشتہ 33 برس سے ایک جھوٹ مسلسل بول رہے ہیں۔

وہ ایک جملہ سن 1992 سے دہرا رہے ہیں: "ایران جوہری بم بنانے کے قریب ہے"۔

1992 میں نیتن یاہونے اسرائیلی پارلیمان میں کہا: "اگلے تین سے پانچ سال میں ایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا"۔

یعنی 1997 تک، پھر 1997 آیا اور گیا۔ انہوں نے سن 1993 میں اخبار Yedioth Ahronoth میں لکھا: "ایران 1999 تک پہلا جوہری بم بنا لے گا"۔

پھر انہوں نے سن 1996 میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں کہا: "اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے تو یہ پوری انسانیت کے لیے تباہی ہوگی اور ڈیڈ لائن بہت قریب ہے"۔

وہ سن 2002 میں کانگریس میں دوبارہ آئے، اس بار عراق پر حملے کی حمایت کرنے اور ساتھ میں کہا: "عراق اور ایران دونوں جوہری ہتھیار بنانے کی دوڑ میں ہیں۔ عراق واشنگ مشین جتنے بڑے سینٹری فیوجز چلا رہا ہے"۔

عراق پر حملہ ہوا، کوئی ہتھیار نہیں ملا۔ لیکن نیتن یاہونے کوئی عوامی معافی نہیں مانگی اور فوراً ایران کی طرف مڑ گئے۔

2009 میں منظر عام پر آنے والی وکی لیکس کی دستاویزات کے مطابو امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی خفیہ کیبل نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہونے امریکی کانگریس کے وفد کو بتایا: "ایران ایک سے دو سال میں جوہری بم بنا لے گا"۔ یعنی 2011 تک۔ یہ سال بھی آیا اور گیا۔

2012 کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو ایک کارٹون بم کی تصویر لائے اور اس پر سرخ لکیر کھینچتے ہوئے کہا: "اگلی بہار تک، زیادہ سے زیادہ اگلی گرمیوں تک۔ ایران افزودگی کا آخری مرحلہ مکمل کر لے گا۔ صرف چند مہینے، شاید چند ہفتے باقی ہیں"۔

لیکن اسی سال، سن 2012 میں اسرائیل کی اپنی خفیہ ایجنسی موساد نے اندرونی رپورٹ میں لکھا: "ایران اس وقت جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ضروری سرگرمیاں نہیں کر رہا" اور اسی سال موساد کے سابق سربراہ مائر ڈیگن نے کہا: "فوجی حملہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی بجائے اکسائے گا"۔

یعنی نیتن یاہو عوام کو ایک بات بتا رہے تھے اور ان کی اپنی انٹیلی جنس ایجنسی اندر سے اس کے برعکس رپورٹ دے رہی تھی۔

نیتن یاہو سن 2015 کے دوران امریکی کانگریس میں تیسری بار آئے۔ اس بار اوباما انتظامیہ کو بتائے بغیر، ریپبلکن اسپیکر جان بونر کی دعوت پر۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے (JCPOA) کی مخالفت کی اور کہا: "یہ معاہدہ ایران کو بم بنانے کا لائسنس دے گا"۔ ڈیموکریٹک لیڈر نینسی پلوسی نے کہا: "یہ تقریر امریکہ کی ذہانت کی توہین ہے"۔ معاہدہ بہرحال ہوا۔ 2018 میں ٹرمپ نے اس سے نکلنے کا وہی فیصلہ کیا، جو نیتن یاہونے مانگا تھا۔

ابھی چند ہفتے پہلے جب امریکہ اور ایران کے مذاکرات عروج پر تھے، نیتن یاہونے کہا: "اگر ایران کو نہیں روکا گیا تو وہ چند ہفتوں میں جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے"۔

اور اسی دوران امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔

ایک اسرائیلی مبصر نے ٹھیک کہا: "نیتن یاہو وہ لڑکا ہے، جو 33 سال سے بھیڑیا آیا بھیڑیا آیا چلا رہا ہے اور اب واقعی اس نے بھیڑیے کو بلا لیا ہے"۔

فروری 2026 کے آخر میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے۔ عمان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ "کامیابی قریب ہے"۔ پھر 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کر دیا، ٹھیک اس وقت جب مذاکرات کا اگلا دور اومان میں طے تھا۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: "ابھی کچھ دیر پہلے امریکی فوج نے ایران میں بڑے آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی فوری دھمکیوں کو ختم کرنا ہے"۔

اسٹیٹ آف یونین خطاب میں کہا: "ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں"۔

ریپبلکن اجتماع میں کہا: "ایک ہفتے میں وہ ہم پر حملہ کرنے والے تھے، سو فیصد۔ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی"۔

لیکن امریکی خفیہ ایجنسی ڈی آئی اے کی اپنی رپورٹ کہتی ہے کہ ایران 2035 تک یہ صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔ کانگریس سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔

ٹرمپ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران بہت بڑا خطرہ تھا اور جنگ "جلد ختم ہو جائے گی"۔

وہی جھوٹ، جو میں اپنی صحافتی زندگی میں پہلے بھی سن چکا ہوں۔

ہر جنگ سے پہلے یہی چار چیزیں ہوئیں:

پہلی، خوف پیدا کیا گیا: "فوری خطرہ ہے، وقت نہیں "۔

دوسری، دشمن کو شیطان بنا کر پیش کیا گیا: "ظالم، اپنے عوام کا قاتل، دنیا کا دشمن"

تیسری، جنگ کو "مختصر" بتایا گیا: "ہفتوں کی بات ہے، جلد ختم ہو جائے گی"

چوتھی، جب جواز جھوٹا نکلا تو نیا جواز آ گیا۔

ویتنام کا ٹونکن حملہ جھوٹ تھا۔

کویت کی جنگ بیچنے کے لیے سفیر کی بیٹی والی جھوٹی کہانی پیش کی گئی۔

افغانستان کی جنگ "ہفتوں " میں ختم نہیں ہوئی اور نیتن یاہو 33 سال سے "چند ہفتے باقی" کہہ رہے ہیں۔ یہ "چند ہفتے" تین دہائیوں میں نہیں آئے۔

ایران جنگ کب تک چلتی ہے، کون جیتے گا یا کون ہارتا ہے یہ مستقبل بتائے گا۔ صدر ٹرمپ نے جو چاہا تھا، ویسا نہیں ہوا۔ لیکن جب تک سچ شواہد کے ساتھ سامنے آئے گا، تب تک یران کی 150 سے زائد چھوٹی اسکول کی بچیوں کی طرح ہزاروں افراد جھوٹ پر مبنی اس جنگ میں ہلاک ہو چکے ہوں گے۔

Check Also

Iran Jang: Chand Aham Pehlu

By Amir Khakwani